129

پاسداران ایران پر پابندی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی پاسداران انقلاب پر پابندی کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی کا فیصلہ بہت پہلے کیاجانا چاہئے تھا غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکہ نے واضح کیا ہے کہ پابندی کے بعد پاسداران انقلاب کی مدد کرنیوالوں کیخلاف بھی کاروائی کی جائیگی‘پاسداران انقلاب پر شام میں بشارالاسد ‘ لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کی معاونت کا الزام لگایاگیاہے‘دوسری جانب امریکی اقدامات کے جواب میں ایران نے بھی امریکی افواج کو دہشت گردی کی لسٹ میں ڈالنے کا اعلان کر کے انہیں داعش کا ہم پلہ قراردیا ہے ‘وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے دستے پاسدارانِ انقلاب عالمی سطح پر ایران کی دہشت گردی کی مہم پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ ہیں اسلئے اس پر پابندی ضروری تھی‘پاسداران پر امریکی پابندیوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کو ایران کیساتھ ہونیوالے عالمی جوہری معاہدے سے الگ کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کئی گنا بڑھ چکی تھی اور مبصرین کاکہنا ہے کہ اب پاسداران پر امریکی پابندی کا اعلان امریکہ ایران تعلقات میں جلتی پر تیک کاکام کریگا ۔لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ دونوں فریقین کو اپنی چپقلش پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچانے سے گریزکرنا چاہئے بصورت دیگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا فائدہ کسی کو بھی نہیں ملے گا البتہ اسکا نقصان دونوں کیساتھ خطے کے دیگر ممالک کے حصے میں بھی آئے گا۔تیسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کیخلاف فیصلے پر ایک ہفتے میں عملدرآمد ہوگا‘انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر بہتر رویہ اپنانے کیلئے دباؤ بڑھاتا رہے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی اتحادی بھی ایسا ہی کریں گے جیسا کہ امریکہ نے کیا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی وزارت دفاع کے کچھ حکام اور فوج کے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ہوڈنفرڈ نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پاسداران انقلاب پر پابندی سے عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کیخلاف تہران اور واشنگٹن کی مشترکہ کاروائی میں کمی آئے گی۔فرانس کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب پر پابندی سے خطے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو گا جبکہ جرمنی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے‘امریکی وزیر خزانہ سٹیو مونچن کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے ذریعے ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جنھوں نے ایران کی منفی سرگرمیوں کیلئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے ہیں‘امریکی وزیر خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت اور اسکے مرکزی بینک نے یو اے ای میں اداروں تک رسائی حاصل کرنے کیلئے امریکی ڈالر حاصل کئے جس میں پاسداران انقلاب کی تباہ کن سرگرمیوں کیلئے سرمایہ کاری اور اپنے علاقائی پراکسی گروہوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کرنا تھا‘ پاسداران ایران کاقیام 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ایران کے اسلامی نظام کی حفاظت کرنا تھا آجکل ایران کے پاسداران انقلاب کا شمار ملک کی بڑی فوجی‘ سیاسی اور اقتصادی قوت میں ہوتا ہے‘۔

ایران کے انتظامی ڈھانچے کے مطابق عام حالات میں اندرونی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کی ذمہ داری پولیس اور انٹیلی جنس پر ہوتی ہے لیکن صورتحال کے سنگین رخ اختیار کرنے پر اس سے نمٹنے کی ذمہ داری پاسداران انقلاب کو دی جاتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاسداران انقلاب کو بد عنوان دہشت گرد ملیشیا قرار دیتے ہیں‘ پاسداران انقلاب پر عائد کی جانیوالی حالیہ پابندیاں دراصل اسی سوچ کاتسلسل ہے‘سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں ایران کے پاس اپنے بچاؤ اور تحفظ کے آپشن کیا ہیں‘اس ضمن میں کہا جاسکتا ہے کہ ایران نے اب تک مشرق وسطیٰ میں اپنی عملی اورنظریاتی موجودگی کے پتے جتنی مہارت سے کھیلے ہیں وہ ان پتوں کو جہاں مشرق وسطیٰ میں مزید پختگی کیساتھ کھیلنے کوترجیح دیگا وہاں وہ یہ حربہ افغانستان میں بھی بروئے کارلاکر امریکہ کو یقینی طور پر ٹف ٹائم دے سکتا ہے لہٰذا دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ ان پتوں کو کتنی مہارت سے کھیلتاہے کیونکہ ان ہی مہارتوں پر اس کی بقاء اور استحکام کا دارومدار ہے۔