210

ملاوٹ اور فریب

ہمارے ہاں کیسے کیسے اور نئے نئے فراڈ ہونے لگے ہیں ‘ذراسنئے! ہمارے محلے میں جو راقصائی خاصا مشہور ہے اسکی گوشت کی دکان پر ہمیشہ رش رہتا ہے اگلے روز وہ اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ سنا رہا تھااسکی زبانی ملاحظہ ہو۔ ’’میں حمام میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ حجام نے ایک بچے کے بال تراشنے کے بعد کہا بیٹا تمہارے ابو کدھر چلے گئے ہیں،کافی دیر سے واپس نہیں آئے۔بچے نے معصومیت سے جواب دیا ’وہ میرے ابو تو نہیں تھے‘حجام نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا وہ جو کچھ دیر قبل اپنی حجامت اور شیو کے علاوہ بال رنگواکے اور تمہیں میرے پاس بٹھا کر بال تراشنے کی ہدایت دے کر باہر نکلے ہیں وہ صاحب تمہارے ابو نہیں تھے؟بچے نے دوبارہ معصومیت سے جواب دی ’نہیں‘ وہ تو میں گلی میں کھیل رہا تھا تو وہ میرے پاس آئے بولے مفت بال کٹوانے ہیں تو آؤ میرے ساتھ ‘میں بھی حجام کی دکان پر جا رہا ہوں تو میں انکے ساتھ ہو لیاتھا‘۔اب حجام ایک ایک گاہک کو یہ واقعہ بتا رہا تھا سبھی بچے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے اور اس چالاک اجنبی کی حرکت پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے بعض ہنسی سے لوٹ پوٹ بھی ہو رہے تھے۔حجام نے بتایا کہ وہ کوئی پچاس کے پیٹے کا شخص تھا شکل و صورت سے معزز لگ رہا تھابچے کیساتھ دکان میں داخل ہوا کچھ دیر اخبار پڑھتا رہا۔ہم نے اسکے بال تراشے بالوں کو ڈائی کیا شیو بنائی پھر بچے کی کٹنگ کی ہدایت دیکر سگریٹ کے بہانے باہر نکل گیا۔ہم تو روٹین میں بچے کے بال کاٹتے رہے۔اب بچے کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ۔‘جورا ہنس ہنس کر کہہ رہا تھا کیا زمانہ آگیا ہے جی لوگ سو دوسو کے بھی فراڈ کرنے لگے ہیں جورے کی باتوں سے میں سوچوں میں گم کہیں کھو چکا تھا۔

چند روز قبل ایک خبرنظرسے گزری مکمل متن یاد نہیں واقعہ کچھ اس طرح کا تھادو نوجوان ایک گداگرکو چند روز باقاعدگی کیساتھ سو ‘سو اور دو دو سو روپے بھیک دیتے رہے اورپھر اسے گھر لے گئے بوڑھا بھکاری انکی عنایت پر حیران ہوا بوڑھے بھکاری کو گھر لانے کے بعد اس کی خدمت بھی کی جاتی رہی اسکی ہر ضرورت کا خیال رکھا گیااور چند دنوں ہی میں اسکی حالت بدل کر رکھ دی گئی بوڑھا بے حد خوش تھا کہ اس لالچ وحرص اورخود غرضی کے دور میں اسے ایسے نیک دل ’پلے پلائے‘ بیٹے میسر آگئے ‘ساتھ ہی نہ صرف یہ کہ چھت بلکہ ایک گھر کا سا مکمل ماحول اور سکون بھی‘ ورنہ اس دور میں تو سگی اولاد والدین کو بوجھ محسوس کرنے لگتی ہے۔خیر پندرہ بیس روز تک بوڑھے کی خوب خاطر مدارت ہوتی رہی پھر ایک دن نوجوانوں نے اسے ساتھ لیااور ایک بڑے سٹور سے جی بھر کے شاپنگ کی اور پھر باپ کو وہیں بٹھا کر ہمیشہ کیلئے رفوچکر ہو گئے۔۔دکاندار اور باپ انکا انتظار کرتے رہ گئے کافی دیر گزرنے کے بعد باپ سے پوچھا گیا پھر گھر تک رسائی کی گئی تو وہاں تالا پڑا تھا۔۔اللہ اللہ خیر سلا‘جانے کیوں بشیر کتیاں والا‘‘ یا د آرہا تھا ان دنوں ہم شاد باغ میں رہتے تھے۔بشیر کو کتے پالنے کا شوق تھا اور اسی سبب اس کا نام بشیر کتیاں والا پڑ گیا تھاایک روز شام کو وہ ملا توکہنے لگا لو صاحب جی ! آج ہمارے ساتھ بھی ہاتھ ہو گیاہے ہماری عمر گزری ہے کتو ں کے ساتھ۔۔میں کتے کو دور سے دیکھ کر بتا دیتا ہوں کہ اسکی نسل کون سی ہے؟مگر آج تو حد ہی ہو گئی اگلے روز ٹریفک کے اشارے پر ایک بندے سے دو نسلی کتورے خریدے۔کان کھینچ تان کر دیکھا بالکل سچے اور نسلی لگ رہے تھے۔کتوروں کے کان بالکل ’اٹین شن‘ تھے مگر تین روز کے بعد ہی ان کے کھڑے کان گر گئے۔

کان کھڑے کرنے کیلئے ایلفی کا استعمال کیا گیا تھا تاکہ کتے نسلی نظر آئیں۔بشیر دیر تک اپنے ساتھ ہوئے ہاتھ پر ہاتھ ملتا رہا‘ایسے واقعات سن کر جی کڑھتا ہے ہمارے ارد گرد ایسے دو نمبر کام اور فراڈ عام ہیں۔کیا کیا نہیں ہو رہا۔سفید بکرو ں کو کالا کر کے بیچا جا رہا ہے۔ صدقے کے کالے بکرے کچھ مہنگے جو بکتے ہیں ۔ مچھلی کے کانوں پر سرخ رنگ کیا جاتا ہے تاکہ گاہک سرخی کو دیکھ کر اسے تازہ سمجھے۔ ہمارے چاروں طرف ملاوٹ والی اور جعلی اشیاء فروخت ہو رہی ہیں۔دودھ اور مرچوں تک میں ملاوٹ ہوتی ہے۔آنکھوں کے لینز تک دو بلکہ تین نمبر بنا کر بیچے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں سستے بازار لگائے جاتے ہیں جہاں بیشتر غیر معیاری اشیاء بکتی ہیں غریب لوگ سستی چیز کے چکر میں یہ اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں لوگ تو چار پانچ کلو سستی چینی کیلئے گھنٹوں گرم دوپہر میں قطار میں کھڑے ہوتے ہیں ہر طرف مجبوریاں بکتی اور سسکتی دکھائی دیتی ہیں۔اور دو نمبر مال بیچنے والوں کو قطعی رحم نہیں آتا وہ خوردو نوش کی اشیاء بھی نہایت بے رحمی سے فروخت کرتے ہیں ادویات تک جعلی ملتی ہیں بیچنے والوں کو تو اپنی جیب گرم کرنے کے فکر ہے انہیں اس سے کیاکہ وہ کیسے لوگوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں انہیں تو بس اپنی زندگی عزیز ہے۔ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے کوئی کسی کا پرسان حال نہیں اس عارضی زندگانی کیلئے ہم دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں۔