44

احتساب کی ساکھ

نیب کی تشکیل اور قیام کا مقصد شاید یہ تھا کہ احتساب کا کلہاڑا دکھا کر اپناالوسیدھا کیا جائے کسی حد تک تو یہ کام بخوبی چلتا رہا اور جنکے خلاف نیب میں فائلیں کھلیں وہ حکومت میں شامل ہوتے گئے‘ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے جو لوگ حکومت کا حصہ نہیں بنے ان پر کیس چلتے رہے‘مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد جب جمہوری دور شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی حکومت نے نیب کو برقرار رکھا اسکی بڑی وجہ یہاں اپنے مقدمات ختم کروانا تھا اسکے بعد مسلم لیگ کی حکومت میں بھی یہی مقصد پورا کیاگیا نوازشریف فیملی کے زیادہ تر مقدمات تو جلاوطنی معاہدے کے تحت ہی صدارتی حکم سے ختم ہوگئے تھے باقی شکایات کا ازالہ بھی خوش اسلوبی سے کردیاگیا‘ دونوں بڑی پارٹیوں کی قیادت اگر یہ دعویٰ کرتی تھی کہ انکے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو اسکے پیچھے کسی کی مہربانی تھی‘ اسلئے دونوں حکومتوں نے نیب آرڈیننس میں موجود خامیاں درست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور آج اس پر پچھتارہی ہیں‘نیب اگرچہ براہ راست حکومت کے ماتحت نہیں مگر اسکو اپنے کنٹرول میں رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کیلئے اٹھارویں ترمیم میں چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت ضروری قرار دی گئی اور اس طرح دونوں کیلئے قابل قبول چیئرمین لاکر ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دیا گیا‘آصف زرداری کیخلاف کیسز کو دیکھیں تو یہ ثبوت ضائع ہونے‘ گم ہونے یا اصل کی جگہ فوٹو کاپی ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے اور یہ ’تعاون‘ کا منہ بولتا ثبوت ہے ‘ 2018ء کے انتخابات میں ان کیسز اور انکوائریوں کا سایہ بھی ضرور پڑا اور شاید پہلی بار عوام نے محسوس کیا کہ نیب اگرچاہے تو بااثر شخصیات اور حکمرانوں کا بھی احتساب کرسکتی ہے۔

حکومت تبدیل ہوئی تو نیب بھی زیادہ متحرک ہوگئی سابقہ حکمرانوں کے علاوہ موجودہ حکومت اور برسراقتدار پارٹی کے رہنماؤں کیخلاف بھی مقدمات قائم ہونے لگے ساتھ ہی گرفتاریاں بھی ہونے لگیں مگر اب ایک ایسے وقت پر جب کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات منطقی انجام کے قریب ہیں‘ بھاری رقوم کی مشکوک ترسیلات کی کڑیاں مل رہی ہیں تو نیب نے زیادہ جارحانہ انداز اپنالیا ہے ‘بالخصوص پنجاب میں شہبازشریف فیملی کیساتھ پولیس گردی جیسا انداز اپنالیاگیا ہے حالانکہ اسکی کوئی ضرورت نہیں پہلے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کیلئے انکے گھر پر چھاپہ ماراگیا جس پر مزاحمت ہوئی اسی دوران ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری حفاظتی ضمانت منظورکرلی اب شہبازشریف کی گھریلو خواتین کو طلبی کے نوٹس دینے کیلئے پولیس کیساتھ چھاپہ مارا گیا نیب کی اس طرح غیر ضروری پھرتیوں سے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ نیب حکومت کی ایماء پر انتقام لے رہی ہے گھریلو خواتین کو‘ جن کا سیاست سے تعلق نہیں اس طرح طلب کیا جانا شریف فیملی کو مظلوم بنانے کی دانستہ کوشش دکھائی دے رہی ہے حالانکہ نیب نے ان خواتین کو ہی بلایا ہے جن کے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم ٹرانسفر ہوئی ہیں‘وہ مختلف کمپنیوں کی حصہ دار اور قیمتی جائیدادوں کی مالک ہیں اور یہ سب کچھ2008سے2017ء کے اس دور میں ہوا جب شہبازشریف پنجاب میں حکمران تھے اسلئے ان پر سوالات اٹھتے ہیں مگر نیب نے جس طرح ایک سیدھے سادھے معاملے کو متنازعہ بنادیا ہے یہ بھی قابل غور ہے‘ ۔

سندھ میں اگرچہ منی لانڈرنگ کے کیس کھل رہے ہیں مگر ابھی تک یہ تاثر نہیں پیدا ہوسکا کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے البتہ یہ تاثر ضرور ہے کہ واضح ثبوت ہوتے ہوئے بھی آصف زرداری وغیرہ کی ضمانتیں کنفرم کیسے ہو جاتی ہیں‘ اس کے برعکس پنجاب میں جب شہبازشریف اور انکے گھرانے کے خفیہ کھاتے کھلنے لگے توایسارویہ اختیار کیا گیاکہ شہبازشریف کو مظلوم بنایا جائے‘ یہ چیئرمین نیب کو نوٹس لیناچاہئے کہ انہوں نے جو کام غیر جانبداری اور صرف کرپشن کیخلاف کیا اور نیب کی ساکھ بحال کی اس کو متنازعہ بنانے کیلئے نیب کے اندر ہی تو کوئی کھچڑی نہیں پک رہی‘سیاسی شخصیات کیخلاف ثبوت نیب نے اکٹھے نہیں کئے بلکہ مختلف جے آئی ٹیز اور ایف آئی اے نے دیئے ہیں‘ اب نیب نے ان پر ریفرنس دائر کرکے پیروی کرنی ہے ایسے میں سیاستدانوں کیلئے یہ مدد بھی بہت ہوتی ہے کہ عوام کی توجہ اصل مقدمات سے ہٹ کر ان کیساتھ روا رکھے گئے برتاؤ پر ہو جائے‘لاہور میں شریف فیملی کو عدالتوں سے ریلیف ملنا اور نیب کا چھاپے مارنا کہیں نیب کو متنازعہ بنانے کی سازش تو نہیں؟۔