38

فائر بریگیڈ سروس

شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب ملک میں کسی نہ کسی سرکاری یا نجی عمارت میں آ گ لگنے کا واقعہ رونما نہ ہوتا ہو‘ تجربہ بتاتا ہے کہ آگ بجھانے والا سرکاری عملہ اکثر بروقت آگ لگنے والی جگہ پر نہیں پہنچتا اور اگر پہنچ بھی جائے تو اس کے پاس آگ بجھانے کیلئے پانی موجود نہیں ہوتا اور یا پھر فائر بریگیڈ کے پائپ پھٹے ہوتے ہیں اور وہ عین موقع پر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں‘کئی شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتیں بن رہی ہیں یا بن کر فنکشنل بھی ہو چکی ہیں کیا متعلقہ میونسپل ادارے ان عمارتوں کو فنکشنل ہونے کی اجازت دینے سے پہلے یہ تسلی بھی کرتے ہیں یا نہیں کہ ان کے مالکان کے پاس آگ لگ جانے کی صورت میں اسے بجھانے کیلئے کیا انتظام ہے‘ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر کثیر المنزلہ عمارتوں کی اوپر والی منزلوں میں آگ لگ جائے تو ان میں رہنے یا دفتر چلانیوالے افراد کو بحفاظت عمارت سے باہر نکالنے کا سرے سے کوئی بندوبست ہے ہی نہیں‘ پچھلے دنوں اسلام آباد میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جو آگ لگی اس میں بھی متعلقہ محکمے کی کوتاہی سامنے آئی ‘اب تو وزیراعظم کے حکم کے مطابق ہر شہر میں بے گھر افراد کیلئے جو فلیٹس تعمیر ہوں گے وہ کئی کئی منزلوں پر مشتمل عمارتوں میں ہوں گے اگر ان میں بھی آگ لگنے کی صور ت میں اسے بجھانے کے مناسب انتظامات نہ کئے گئے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس قدر جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

ہم یہ با ت بلا مبالغہ کہتے ہیں کہ اگر آج ملک کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں کا اس بابت سروے کیا جائے تو نوے فیصد ایسے شہر ملیں گے کہ جن کی میونسپل کارپوریشن یا میونسپل کمیٹی کے پاس مناسب آگ بجھانے کا انتظام نہیں ہو گا کسی کے پاس اگر فائر بریگیڈ ہو گا تو اس کے ٹائر ناکارہ یا پنکچرہوں گے تو کسی فائربریگیڈ کے پائپ پھٹے ہوں گے یا کسی اور فنی خرابی کا شکارہوں گے‘کسی بھی میونسپل ادارے نے اس طرف خاطرخواہ توجہ دی ہی نہیں یہ بات ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہی۔

انہوں نے کبھی سوچا تک نہیں کہ اگران کے دائرہ اختیار کے اندر کسی علاقے میں آگ لگ جائے تو اسے کون بجھائے گا اور اس کیلئے کتنا عملہ درکار ہو گا اور کتنے فائر بریگیڈ‘ خالی خولی فائربریگیڈ کا موجود ہونا کافی نہیں ہوتا اس کیساتھ اسکے عملے کا چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر رہنا بھی ضروری ہوتا ہے اور عملے کا تربیت یافتہ ہونا بھی از حد ضروری ہوتا ہے‘ ماضی میں جب سول ڈیفنس کا ادارہ متحرک ہوا کرتا تو ضلع کا ڈپٹی کمشنر جو کہ سول ڈیفنس کا سربراہ بھی ہوتا تھا باقاعد ہ سول ڈیفنس کے رضاکاروں کی ہر تین ماہ بعد فرضی آگ بجھانے کے مظاہرے کی ریہرسیل منعقد کرواتا محض یہ تسلی کرنے کیلئے کہ وہ آگ بجھانے کی کس قدر صلاحیت رکھتے ہیں‘ ایک عرصے سے سول ڈیفنس کا ادارہ بھی متروک ہو چکا ہے ہم نے فرنگیوں کے کئی اچھے کاموں اور اداروں کو نہ جانے کیوں ختم کر دیا ہم ان کی جگہ کوئی بہتر ادارہ یا ان کا نعم البدل بھی نہ لا سکے اور ان کو بھی فارغ کر دیا اگر آپ گزشتہ پانچ برس کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آگ لگنے کے واقعات میں بڑی شدت سے اضافہ ہوا ہے‘ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ ہم ہر اس قسم کے واقعہ سے سبق لے کر آئندہ کیلئے احتیاط کرتے اور فائربریگیڈ سروس کو جدید خطوط پر استوار کرتے۔

بیرونی دنیا میں فائر مین سروس کو اس قسم کی تربیت دی جاتی ہے اور اس قسم کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں کہ جو آرمی کو ملتی ہیں وہ چوبیس گھنٹے چاق و چوبند رہتے ہیں ان کے علی الرغم ہم نے فائربریگیڈ کے نظام کی طرف رتی بھر توجہ بھی نہیں دی اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں آگ کے واقعات میں بے پناہ جانی اور مالی نقصانات ہو رہے ہیں‘ اس قسم کے حالات دیکھ کر اس کے سوا اور بھلاکیا کہا جاسکتا ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔