566

مہمند میں صوبائی کابینہ اجلاس کا انعقاد تاریخی اہمیت کا حامل

پشاور ۔صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس پیر کے روز ضم شدہ قبائلی ضلع مہمند کے صدر مقام غلنئی میں منعقد ہواجس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کی۔صوبائی وزراء اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے علاوہ صوبائی محکموں کے انتظامی سربراہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔صوبائی کابینہ اجلاس کے بعدوزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مہمند میں صوبائی کابینہ اجلاس کا انعقاد تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ 

اس سے قبل کابینہ کا اجلاس ضلع خیبر کے ہیڈ کوارٹر لنڈی کوتل میں منعقد کیا گیا تھا اور آنے والے دنوں میں دیگر قبائلی اضلاع میں بھی کابینہ اجلاس منعقدکئے جائیں گے تاکہ ان علاقوں کی ترقی کو تیز کرنے اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد ملے۔کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکاٹکس بل 2019ء کی منظوری دیدی جس کے تحت منشیات اور خصوصاً آئس نشے کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں تجویز کی گئیں۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد نارکاٹکس کنٹرول کا معاملہ صوبوں کو منتقل کیا گیاتھا مگر اس سلسلے میں صوبے میں ابھی تک قانون سازی نہیں کی گئی تھی اور محکمہ ایکسائز ،ٹیکسیشن اینڈ نارکاٹکس کنٹرول پرانے وفاقی قوانین کے تحت نارکاٹکس کنٹرول کا کام کرتی تھی جو موجودہ وقت کے تناظر میں موثر نہیں تھے اس لئے صوبے کی سطح پر ایک قانون بنانے کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔اس قانونی مسودے میں درج سزاؤں کی تفصیل کے مطابق اگر کسی شخص سے برآمد ہونے والی آئس نشے کی مقدار پچاس گرام تک ہو تو دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

پچاس گرام سے سو گرام تک آئس کیلئے تین سال تک قید اور پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوگی جبکہ ایک سو گرام سے لیکر ایک کلو گرام آئس کیلئے سات سال تک قید اور ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔اسی طرح ایک کلو گرام سے زیادہ آئس کیلئے سزائے موت، عمر قید یا چودہ سال تک قید اور پانچ سے دس لاکھ تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس قانون کا مقصد دیگر منشیات کے استعمال کے علاوہ خصوصاً تعلیمی اداروں میں آئس کے استعمال کی روک تھام ہے۔

قانون منظور ہونے کے بعد محکمہ ایکسائز میں اس مقصد کیلئے خصوصی نارکاٹکس کنٹرول ونگ قائم کیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے جوڈیشل اکیڈمی کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے سلسلے میں جوڈیشل اکیڈمی ایکٹ 2012ء میں ترامیم کی بھی منظوری دیدی۔شوکت یوسفزئی اور اجمل وزیر نے بتایا کہ کابینہ کو سابقہ قبائلی علاقوں کی صوبے کے ساتھ انضمام پر اب تک کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیدی گئی اور بتایا گیا کہ ان علاقوں کی انتظامی، مالی، قانونی اور عدالتی انضمام سے متعلق معاملات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں ۔

اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن بنیادی کام مکمل کئے جا چکے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع تک عدالتی نظام کی توسیع اور لیویز /خاصہ دار فورس کی صوبائی پولیس انضمام وغیرہ شامل ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے تعینات کردہ جوڈیشل افسران ملحقہ اضلاع میں بیٹھا کرتے ہیں مگر اگلے دو سے تین ہفتوں کے اندر تمام جوڈیشل افسران اپنے متعلقہ اضلاع میں شفٹ کر دیئے جائیں گے جس کیلئے تمام اقدامات مکمل کر لئے گئے ہیں تاکہ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کو انہی اضلاع کے اندر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اسی طرح کابینہ نے صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے موجودہ سروس رولز میں ترامیم کی بھی منظوری دیدی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں ہری پور میں قائم ہونے والے بین الاقوامی معیار کے تعلیمی ادارے پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ آف ایپلائیڈ سائنسز اینڈٹیکنالوجی کیلئے بطور ضمنی گرانٹ2000 ملین روپے کی بھی منظوری دیدی۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انضمام کو انتظامی، مالی اور قانونی ہر لحاظ سے مکمل کرنے کیلئے اقدامات تیز کرنے اور ان علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو جلد سے جلد مکمل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی تاکہ ان علاقوں کی محرومیوں کا جلد سے جلد ازالہ کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ نارکاٹکس کنٹرول کے قانون کے عملی نفاذ سے اورسزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے لوگوں میں شعور اجاگرکرنے کیلئے روایتی اور غیر روایتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے وسیع پیمانے پر آگہی مہم چلائی جائے۔