245

مدتوں بعد مری آنکھ میں آنسو آئے

اس دن بہت گرمی تھی کلاس روم میں کوئی کھڑکی نہیں تھی اسلئے حبس بڑھ گیا تھا‘ہم کچھ لڑکے ٹیچر کے ارد گرد کھڑے اپنا ہوم ورک چیک کرا رہے تھے ٹیچر کرسی پر بیٹھے بہت انہماک سے کاپیاں چیک کر رہے تھے میں ٹیچر کے پیچھے کھڑا تھا گرمی کی وجہ سے میں نے اپنی کھلی نوٹ بک سینے کے قریب کی اور اس سے خود کو پنکھا جھلنے لگا‘ یکلخت ٹیچر نے سر اٹھایا اور مڑ کر مجھے دیکھا میری تو جیسے جان ہی نکل گئی مگر اس مہربان ٹیچر نے آہستہ سے مسکراکر کہا بہت شکریہ باد شاہ ( اکوڑہ خٹک میں سادات گھرانے کے چھوٹے بڑے سب ا فراد کو احتراماً بادشاہ کہہ کر پکارا جاتا ہے ) مجھے آپکی طرف سے ہوا کا جھونکا آیا ظاہر ہے میں پنکھا اپنے آپ کو جھل رہا تھا مگر جب سینے سے لگ کر کاپی واپس جاتی تو ٹیچر کو بھی ہوا پہنچ جاتی‘مجھے اس بات نے یہ تحریک دی کہ مجھے واقعی اپنے ٹیچر کو پنکھا جھلنا چاہئے تھا اسلئے اب میں نے کاپی کا رخ بدل کر اوپر نیچے کی بجائے دائیں بائیں کر لیا ‘ٹیچر کے چہرے کی مسکراہٹ نے بعد کی زندگی میں میرے لئے دوسروں کی خدمت کرنے میں بہت آسانیاں پیدا کیں۔اس ٹیچر کا نام مہر علی تھا جس نے بعد میں پی ٹی سی ایل جوائن کر لیا تھا مجھے وہ بہت پسند تھا۔

وہ میرے بڑے بھائی سید پیر محمد شاہ اور پھوپھی زاد بھائی سید ظفر علی شاہ کا دوست تھا‘اسلئے حجرے میں ہمہ وقت موجود رہتا، محلہ قریشیاں کے شروع میں دائیں جانب یہ حجرہ تھا جسکے فوراََ بعد مہر علی گھر تھا اسکے سامنے علی اکبر استاد کا گھر تھا جس سے میں نے ریاضی سیکھی تھی تاہم وہ گھر انگور والا گھر تھا اسوقت گھروں کے باہر نیم پلیٹ کا رواج نہ تھا ‘انگور والا گھر اوربیری والا گھر قسم کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ دو دن پہلے جب میں ایک زمانے بعد مہر علی مرحوم کے گھر کے سامنے سے گزرا تو قدم بوجھل سے ہو گئے تھے مجھے جمعہ پڑھنے محلہ قریشیاں کی اس مسجد جانا تھا جہاں میں نے زندگی کی پہلی نماز پڑھی تھی‘پہلا جمعہ پڑھا تھا اور پہلی بار اذان دی تھی‘ ہم محلے کے لڑکے اکثر ایک دوسرے سے بازی لے جانے کیلئے اذان سے پہلے پہنچ جاتے اور میاں صیب ( مولوی صاحب)کی اجازت سے اذان دیتے وہ جس کو حکم دیتے وہی اذان دیتا‘ ایک بار مجھے کہا گیا تو اس وقت ساجد نام کا میرا دوست اور کلاس فیلو بھی مسجد پہنچا ہوا تھا ابھی تھوڑا وقت باقی تھا میں چبوترے کے پاس ٹہلنے لگا کہ جوں ہی میاں صیب اشارہ کریں میں اذان دوں ‘میاں صیب نے اشارہ کیا اور اس سے قبل کہ میں اذان شروع کرتاساجد پیچھے سے دوڑتا ہوا آیا اور اذان شروع کر دی‘ ابھی تک مجھے اس بات کا قلق ہے۔ آج کم و بیش چار دہائیوں کے بعد میں اس مسجد میں جمعہ پڑھنے پہنچا تو چند لمحے دروازے میں ہی کھڑا رہ گیا مجھے بزرگ محمد یوسف مسجد کے صحن میں ٹہلتے نظر آئے‘روشن دین اور حاجوماسی کے بیٹے عبدالسلام کو بھی دیکھا اپنے دوست پرویز (حاجی صیب) کے بڑے بھائی میاں کو بھی ایک کونے میں بیٹھا دیکھا‘اچانک خوشبو کا ایک جھونکا مشام جاں کو معطر کر گیا بلا کے خوش لباس میاں جی(خان بہادر محمد امین) سفید جوڑے پر ہلکے بادامی رنگ کی واسکٹ جسکی اوپر والی جیب کے پاس سونے کی چین تھی اور ہاتھ میں تسبیح تھی، میری تر بتر آنکھوں میں انکی شباہتیں دھندلانے لگیں تو میں مسجد کے اندر آ گیا جہاں خطبہ شروع ہو چکا تھا‘ ایک نوجوان نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ میں فرخ سیئر کا بھانجا ہوں ‘میں اب اس زمانے سے نکل آیا تھا۔

جہاں یہ مسجد بہت سے شفیق چہروں سے بھری تھی اب تو وہ زمانہ تھا جب لو گوں کو تعارف کرانا پڑتا ہے‘میں کون ہوں تم کون ہو‘ اب پہچان اسلئے بھی مشکل ہو گئی ہے کہ اب دروازوں پر نیم پلیٹ لگ گئی ہے حجرے سمٹ گئے ہیں‘جڑے ہوئے لوگ بکھر گئے ہیں‘ میاں صیب کو بچھڑے کتنی دہائیاں ہو چکی ہیں‘ روشن دین اور محمد یوسف کے تو بیٹے بھی باقی نہیں انکے پوتے ناتے بھی زندگی کے آخری پڑاؤ پر ہیں‘میری زندگی کا یہ پہلا جمعہ تھا جو تر بتر چہرے سے پڑا‘ابتسام جمعہ پڑھ کر نہ جانے کتنی دیر سے میرا منتظر تھا‘ وہ سمجھ گیا تھا اسلئے کچھ پوچھا نہیں میرے جوتے اٹھا کرلے آیا ‘میں اس کنویں کو تلاش کرنے لگا جس پر چرخی لگی تھی اور میں نماز سے پہلے آ کر کئی ڈول نکال کر سبیل میں ڈال دیتا تا کہ دیر سے آنیوالے نمازیوں کو وضو کیلئے پانی نہ نکالنا پڑے اور اسی کام کی انجام دہی کے دوران میرا چھوٹا بھائی ناظم علی شاہ ایک دن سر کے بل کنوئیں میں گر گیا تھا‘ گہرا کنواں نو دس برس کا سن مجھے یاد ہے کہ بہت چیخا تھا‘ مسجد کے یہی مہرباں چہرے بھاگتے ہوئے آئے تھے اور کنویں کے منڈیر پر آوازوں کا ہنگامہ بپا تھا ناظم علی شاہ کو آوازیں دی جارہی تھیں اور ہدایات بھی کہ اس کو کس طرح اس ڈول پر بیٹھ کر مضبوطی سے رسّی کو پکڑنا ہے پھر بسم اللہ کی آوازیں گونجیں‘ میں سہما ہوا ایک طرف کھڑا تھا اور پھر ناظم علی شاہ کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔

حیران کن حد تک اسے ہلکی سی خراش بھی نہیں آئی تھی مجھے وہ کنواں نظر نہیں آیا مگر میرے بھتیجے مدثر حسین شاہ نے بتایا کہ کنواں تو موجود ہے مگر اب چرخی کی جگہ بجلی کی موٹر لگ گئی ہے‘ مسجد میں خیرا ور بھی بہت سی تبدیلیاں آ گئی تھیں تب جنوبی دیوار تک کا کھلا صحن اور درخت تھے اب وہاں ایک برآمدہ تھا میاں صیب جس جگہ بیٹھ کر دو پہر کے وقت چائے بنایا کرتے اور محلے کے بچے بڑی دلچسپی سے اسٹوو کو دیکھتے جس پر ایک کیتلی میں پانی جب ابل جاتا تو ایک چھوٹے سے سفید کاغذ پر چینی اور پتی ڈال کر وہ کاغذ کو ہلاتے جلاتے کہ پتی اور چینی یک جان ہو جاتی( نفاست پسند میاں صیب کو میں نے کبھی ہاتھ یا چمچ سے پتی اور چینی کو مکس کرتے نہیں دیکھا) پھر اسے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر چمچ سے ہلاتے اور دودھ ڈال دیتے، کئی بار ہمیں بھی چکھاتے اور وہ ذائقہ مجھے تو ابھی تک یاد ہے۔ وہ کون تھے کہاں سے آئے تھے کب سے اس مسجد میں امامت کر رہے تھے ہم دوست کئی بار اس بات پر سوچتے کیونکہ ہم نے کبھی ان کے پاس کسی دوست یا رشتہ دار کو آتے جاتے نہیں دیکھا ‘بہت کم مسجد سے باہر جاتے ‘مجرد زندگی گزار رہے تھے‘بہت عرصہ بعد جب انکے بچھڑنے کا سنا تو بے اختیاررو پڑا تھا۔ آج تو ایک نوجوان نے جمعہ پڑھایا تھا بہت پاٹ دار آواز اور عمدہ قرأت تھی‘ میں نے ان تمام مہربان اور شفیق رفتگاں کیلئے نوافل ادا کئے اور ابتسام کے ہمراہ مسجد کی سیڑھیاں اتر کر گلی میں آ یا تو آنکھوں میں نمی اور لبوں پربشیر بدر کا شعر رواں تھا۔
اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا
مدتوں بعد مری آنکھ میں آنسو آئے