166

آپ تو حیران ہو گئے

یہاں موسم اپنا رخ انتہائی جو بن پر پہنچ کر موڑ چکا ہے‘سچ ہے کہ ہر عروج کے بعد زوال اورہر زوال کے بعد عروج ہوتا ہے‘ تاریخ ان عروج و زوال کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے‘کینیڈا بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کے کناروں پر وسیع و عریض مملکت ہے‘جب سردی پڑتی ہے تو پھر ٹائی ٹینک جہاز بھی اسکے سرد ترین پانیوں کی نذر ہوجاتاہے‘ منفی40 سے لیکر منفی55 تک تو عام شہروں میں زندگی متاثر ہوتی ہے‘ جب بارش ہوتی ہے تو کینیڈا میں بہنے والے گریٹ دریا بھی تندو تیز ہوکر آبادیوں میں چلے جاتے ہیں آج کل ایک شہر میں یہی صورتحال ہے‘ سیلاب کی اطلاع تو تھی لیکن پھر بھی قدرتی آفات کے سامنے تمام جدیدیت دھری رہ جاتی ہے‘ایک بچہ گاڑی میں سے ماں کی گود سے اچھل کر بپھرے ہوئے پانی میں جاگرا‘رضاکارانہ طورپر ڈھونڈنے والوں کی ایک لمبی لائن ہے جو دریا کے تھم جانے کے بعد بھی پولیس کی مددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے راز ہیں‘ دعا ہے ماں کو اپنے بچے کے آخری دیدار سے اللہ محروم نہ کرے‘ گھر سے باہر نکلی ہوں تو ٹھنڈی برف ہوا نے مجھے ایک یخ بستہ احساس دلادیا‘گاڑی کا درجہ حرارت اپنی مرضی سے بڑھایا گھٹایا جاسکتا ہے‘ موسم منفی50 ہو‘ پانی تندوتیز ہو یا سورج اپنے جلوے بکھیر رہا ہو‘انسانی ضروریات ان سے کہیں طاقتور اور بڑی ہیں‘سخت موسم بھی بھوک کی طاقت سے بڑے نہیں ہوسکتے‘ہفتہ اتوار ہر مال اور ہر دکان پر اشیاء بہت زیادہ سستی ہوجاتی ہیں اور پھر لوگوں کو گھروں سے نکال کر مالز (Malls) تک لانے میں اشتہارات کے وہ بنڈل آزمودہ ٹوٹکہ ثابت ہوتے ہیں جو باقاعدگی کیساتھ ہر ہفتے گھر کے دروازے کے سامنے پڑے ہوئے آپکی ایک نظرکے متمنی ہوتے ہیں۔

ان اشتہارات کے اندر ہی ہمارے شہر کی خبریں جاننے کیلئے ایک لوکل اخبار بھی موجود ہوتا ہے جو ان کاغذوں کے بنڈل میں میرے شوق مطالعہ کو مسلسل پکارتا رہتا ہے‘ اکثر لوگ تو وہ بنڈل جوں کا توں ڈسٹ بن میں ڈال دیتے ہیں‘ لیکن لاکھوں لوگ ان میں اپنی ضرورت کی سستی اشیاء ڈھونڈ نکالتے ہیں اور موسم کی سختی پھر انکے وہاں تک پہنچنے میں حائل نہیں ہوتی‘کینیڈا سفید پوشوں کا ملک ہے لاکھوں لوگ جو امیگریشن کے نام پر اپنا ملک اپنی پہچان اپنے آباؤ اجداد کی مٹی سے جڑی ہوئی قبریں چھوڑ کر یہاں آباد ہوجاتے ہیں‘ان کی کہانیاں یہاں ہر سو بکھری پڑی ہیں جو اپنی آنیوالی ایک نسل کو اعلیٰ معیار زندگی دینے کی خواہش میں اپنا آپ کھوچکے ہیں اور اس بات سے قطعاً بے خبر ہیں کہ آنیوالی نسل اور انکی آئندہ آنیوالی نسلیں غیر اختیاری طورپر مغرب کی اس مٹی میں کھوچکی ہیں‘آج وہ یہاں ایک خاموش‘ جھوٹی اور سفید پوشی کی زندگی گزار رہے ہیں‘ بمشکل گھر کا کرایہ جو پاکستان کے حساب سے لاکھوں میں بنتا ہے ادا کرنے کیلئے کولھو کے بیل کی طرح محنت کرتے ہیں‘تعلیم مفت ہے اور بچوں کے کھانے پینے کیلئے کچھ وظیفہ بھی مل جاتا ہے جس سے اپنے گھر کاسودا سلف پورا کرتے ہیں‘ ایک دن بوڑھے ہوجائیں گے ‘ اس چکا چوندمیں انکے بچوں کا اعلیٰ معیار بہت بڑھ جائے گا۔ اتنا اعلیٰ ہوجائے گا کہ وہ پاکستان جیسے کسی غیر ترقی یافتہ ملک میں جانا پسند نہیں کرینگے اگر جائیں گے تو واپس آئیں گے۔

مغربی حکومتوں نے دراصل انہی نسلوں کو اپنا بنانے کیلئے درمیان والی اپنی مٹی سے جڑی ہوئی نسل کا انتخاب کیا کہ کچھ سالوں میں جب ان کا زوال شروع ہوگا تومغرب ایک تعلیم یافتہ‘ مذہب سے دور اور ماڈرن نسل کے دماغوں کیساتھ مزید ترقی کی منازل طے کریگا‘سستی اشیاء ڈھونڈنے کیلئے مال میں اتنا رش تھا کہ بمشکل پارکنگ کی جگہ ملی‘پارکنگ بھی مختلف اقسام کی ہے‘ معذور لوگوں کی پارکنگ کے کئی بورڈز جنرل پارکنگ میں ملتے ہیں‘ اگر کوئی غیر معذور شخص اپنی گاڑی معذوروں کی پارکنگ میں کھڑی کر دیتا ہے تو ایک بھاری جرمانہ اس کا انتظار کررہاہوتاہے‘ کئی بورڈپارکنگ ایریا میں ان خاندانوں کے ہیں جو اپنے بیوی اور بچوں کیساتھ آتے ہیں‘ ہم نے اسی پارکنگ میں اپنی گاری پارک کی‘وال مارٹ یہاں کے بہت بڑے سٹورز میں شمار ہوتا ہے‘ اور ہر علاقے میں اور ہر بڑے شہر میں یہ موجود ہے‘ ہر وال مارٹ جہاں بھی ہوگا اسکا ڈیزائن اور سٹائل ایک ہی ہو گا‘ جہاں جو اشیاء پڑی ہیں ہر جگہ اسی جگہ وہ اشیاء ملیں گی‘ یہ سٹور دوسرے کئی بڑے سٹورز کی طرح کئی کنالوں پر مشتمل ہے‘ اگر پورے سٹور کاایک چکربھی لگالیں تو انسان کی ٹانگیں چلنے سے انکار کر دیتی ہیں‘اپنی مدد آپکے تحت‘ ہر طرف گھوم پھر کر آپ اپنی پسند اور ضرورت کی اشیاء اٹھا کراپنی کارٹ میں ڈال سکتے ہیں۔ سینکڑوں ورکر آپ کی مدد کیلئے ہر دم تیار رہتے ہیں‘کیمروں کا خود کار نظام ان سٹورز پر گاہکوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتاہے‘ سکھ‘ہندو‘ انگریز‘ روسی‘ یورپین‘ پاکستانی‘ عربی‘ غرض ہر قوم وملک کا انسان یہاں آپ کو نظر آتا ہے‘انکے چہرے‘ ان کے لباس‘ ان کی زبان ہمیں بتاتی ہے کہ یہ سب امیگرنٹ ہیں‘نہ جانے انکے دلوں میں کیا ہے لیکن بظاہر سب خوش ہیں‘مطمئن ہیں‘ انگریزی لباس زیب تن کئے ہوتے ہیں۔

اگر بزرگ والدین ہیں تو اپنے وراثتی لباس میں لیکن بچے ایک دم انگریزی‘ ماں باپ اپنی مادری زبان میں بات کر رہے ہیں اور بچے انگریزی میں جواب دے رہے ہیں‘دو زبانیں بیک وقت دو نسلیں بول رہی ہیں اور سمجھ رہی ہیں۔ وال مارٹ میں آپ کی توجہ کیلئے اور آپ کی ضرورت کیلئے ایسی ایسی اشیاء پڑی ہیں کہ انسان پاگل ہوجاتا ہے کہ اتنا سب کچھ ؟ اگر یہاں آپ کسی ایک سٹور میں چلے جائیں تو پھر یہاں آپ کو دنیا کی ہر چیز مل سکتی ہے۔ اگر کوئی گاہک سمجھتا ہے کہ فلاں علاقے کے فلاں سٹور میں تو یہ آٹا یہاں وال مارٹ سے کم قیمت کا بک رہا ہے تو ٹھہرئیے‘ آپ کو وال مارٹ سے نکلنے کی ضرورت نہیں آپ کھڑے کھڑے اس سستے سٹور پر جاکر اپنی پسند کی سستی شے یہاں منگوا سکتے ہیں‘آپ تو حیران ہوگئے‘ یہ کیسے ممکن ہے‘ وہ ایسے کہ آپ انٹرنیٹ میں اس سٹور کی ویب سائٹ نکالیں۔ قیمت کو دیکھیں جو اشیاء پر لگی ہوتی ہیں یعنی (Tag) یا لیبل اور کیشئر کو بتائیں کہ یہ ویب سائٹ دیکھو‘ آپ تو آٹا مہنگا دے رہے ہیں‘ فلاں سٹور پر دو ڈالر سستا لگا ہوا ہے‘ کیشئر فوراً آپ کو آپکے دوڈالر کا ڈسکاؤنٹ دے دیگا۔ سائنس نے اور مارکیٹ کی دنیا نے کیا کیا نظریات برپا کر دئیے ہیں کہ مارکیٹنگ کی تیکنیکس اپنے گاہک کو اپنے سٹور سے باہر قدم نہیں نکالنے دیتیں۔