181

مسٹر اردو کی وفات اورجوازجعفری ایوارڈ

اگلے روز ہمارے ایک بہت ہی دیرینہ دوست پروفیسر مقصود حسنی قصور میں انتقال کرگئے‘ مقصود حسنی ایک گوشہ نشین تخلیق کار تھے‘ حال ہی میں ان کے ایک شاگرد ریاض انجم نے ان کے حوالے سے ایک کتاب ’مسٹر اردو‘شائع کی‘ مقصود صفدر حسنی عمر بھر لکھنے میں مصروف رہے‘ میرا ان سے تعارف اس وقت سے ہے جب ہم نئے نئے لاہور آئے تھے‘ ان دنوں روزنامہ آفتاب کے ادبی ایڈیشن اور ایڈیٹوریل صفحات میرے ذمے تھے‘ مقصود حسنی ان دنوں سید مقصود ایس حسنی کے نام سے سیاسی مضامین لکھا کرتے تھے‘ ان سے بالمشافہ ملاقات نہ تھی‘پھر جب لیکچرار شعبہ اردو گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور میں میری پہلی تقرری ہوئی تو معلوم ہوا مقصودحسنی بھی شعبہ اردو سے وابستہ ہیں‘ یوں پرانی شناسائی قربت اور دوستی میں بدل گئی‘میں روزانہ لاہور سے قصور جایا کرتا تھا‘ شعبہ اردو میں ا س وقت اکرام ہوشیار پوری صاحب صدر شعبہ اردو تعینات تھے‘انکی منصفانہ سرپرستی اور مقصود حسنی اور عزیزی عطاء الرحمن سے دوستی کے سبب قصور میں بہت اچھا وقت گزرا‘ اکرام ہوشیار پوری ہمارے عزیز دوست اورر وزنامہ نئی بات کے تجزیہ نگار جاوید اکرام کے والد گرامی تھے‘اب بھی جب جاوید سے ملاقات ہوتی ہے ہم پہروں قصور کے احباب کو یاد کرتے ہیں اور میں انہیں ان کے والد اکرام ہوشیار پوری صاحب کی عنایتوں کے بارے میں بتا کر مسرت محسوس کرتا ہوں۔اسلامیہ کالج قصور میں اسوقت ایک نواب صاحب پرنسپل ہوا کرتے تھے‘ وائس پرنسپل ارشاد حقانی تھے جو کبھی کبھی کالج تشریف لاتے‘۔

علاوہ ازیں حاجی ڈوگر اسلامیات کے شعبے میں تھے ‘بعد میں آپ سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ بھی تعینات رہے‘ راؤ اختراور معین صاحب بھی تھے‘ اردو کے شعبے میں محمد بابر‘اظہر علی کاظمی‘ علی حسن چوہان بھی ہوا کرتے تھے‘میں عطاء الرحمن اور مقصود حسنی اکٹھے بیٹھتے اور خاص طورپر کالج کے باہر چائے کے کھوکھے پر باقاعدگی سے چائے اکٹھے پیتے تھے‘کالج سے فراغت کے بعد لاری اڈے تک بھی یہ دونوں دوست میرے ساتھ رہتے تھے‘چار برس میں کتنی دوپہر اور کئی شامیں ہم اکٹھے رہے‘ مقصود حسنی ایک درویش صفت انسان تھے‘انہوں نے مختلف موضوعات پر کتب لکھیں‘ نثری ہائیکو لکھے‘ تنقیدی وتحقیقی مضامین تحریر کئے‘ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں‘ دوست انہیں مذاق میں کچھ بھی کہہ لیں‘ مسکراتے رہتے‘ انہوں نے کبھی شہرت کیلئے نہیں لکھا‘بے نیازی ان کی طبیعت کا حصہ تھی‘ بس ایک کونے میں بیٹھ کر انہوں نے بہت کچھ لکھا‘ ستائش اور صلے کی تمنا ہوتی تو لاہور ان سے دور نہ تھا ایسے افراد جو جینوئن تخلیق کار ہوتے ہیں انہیں زیادہ نمایاں ہونے کی آرزو بھی نہیں ہوتی‘ یہی سبب ہے کہ بعض شریف النفس اور بے نیاز قسم کے افراد کے تعلقات بھی محدود ہوتے ہیں‘مجھے یاد ہے ہمارے ایک دوست غضنفر علی ندیم ہوا کرتے تھے‘ انہوں نے حلقہ تصنیف ادب بنایا ہوا تھا‘انکی وفات کے بعد بھی حلقہ چلتا رہا۔

ایسے احباب کیلئے کوئی لکھنے والا نہیں ہوتا‘اصل میں یہ مفادات کی دنیا ہے بندے کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کے قریبی لوگ بھی آنکھیں پھیر لیتے ہیں‘یہاں تو بڑے بڑے نامی گرامی تخلیق کاروں کو یاد کرنے والا کوئی نہیں‘ مسکین اور پی آر نہ رکھنے والے درویش صفت اہل قلم کو کون یاد کرے؟اب تو وہ زمانہ ہے کہ اپنی زندگی میں ہی ایک تخلیق کار اگر اپنی پذیرائی کو کچھ کر جائے توکرجائے ورنہ ’آج مرے کل دوجادن‘ لوگ اپنے کالموں میں اب اپنی تعریف وتوصیف خود نہ کریں تو کیا کریں‘ سو یہ رسم دنیا بن گئی ہے کہ اگر کسی نے اچھا کھانا کھلادیا ہے تو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہوئے اس پر کالم صرف کردیاجائے‘کوئی مانے نہ مانے‘ لوگ رسوائی سمجھیں یا پذیرائی‘ اپنے چند احباب کو اکٹھا کرکے بھلے اپنے نام کا ایوارڈ جاری کردیاجائے‘ مرنے کے بعد کی شہرت کس کام کی۔کیوں نہ اپنے ہوتے‘اپنی پذیرائی دیکھ لی جائے‘ہمیں خوشی ہے کہ عطاء الحق قاسمی ایوارڈ کا اجراء ان کی زندگی میں ہوگیا ہے‘یہ ایوارڈ محض شیلڈز وغیرہ نہیں‘ کیش ایوارڈ ہے اور اس مہنگائی میں کیش کے بغیر عیش ناممکن ہے‘ ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ ظفر اقبال کو ایک لاکھ روپے (ایوارڈ)وصول کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے کہا ایوارڈ تو ایوارڈ ہوتا ہے‘ لکھ کا ہو یا ککھ کا۔ بقول منصور آفاق اس سے قبل ہمیں جواز جعفری کے نام پر بننے والی تنظیم اور ایوارڈ پر اعتراض تھا‘ اب عطاء الحق قاسمی ایوارڈ کے بعد جواز جعفری ایوارڈ پر اعتراض نہیں رہا میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر ایوارڈ کتب پر دیئے جائیں تو فروغ کتب کیلئے جتنے ایوارڈ ہوں اتنے کم ہیں۔