160

جمہوریت کی ضد

سیاست میں موروثیت کا جادو بھارت اور بنگلہ دیش سمیت یورپ اورامریکہ میں بھی سرچڑھ کربولتا ہوا نظر آتا ہے‘ امریکہ میں جارج بش سینئر اور جارج بش جونیئر کاامریکی صدر منتخب ہونااور امریکی صدر بل کلنٹن اور انکی اہلیہ ہیلری کلنٹن کی صدارتی انتخابات میں قسمت آزمائی اس کی نمایاں مثالیں ہیں‘اسی طرح گاندھی خاندان جو پچھلی کئی دہائیوں سے بھارت کی سیاست پر چھایا ہوا ہے کی اندرا گاندھی کے بعد تیسری نسل سیاست میں نہ صرف انٹری دے چکی ہے بلکہ راہول گاندھی کو آئندہ عام انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کی صورت میں متوقع وزیراعظم کے طور پربھی دیکھا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کا تیسرا ملک بنگلہ دیش ہے جہاں کی سیاست میں شیخ مجیب الرحمان اور جنرل ضیاء الرحمان کی سیاسی باقیات شیخ حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیاء کی صورت میں نہ صرف جلوہ افروز ہیں بلکہ ان دونوں کے بغیر بنگلہ دیش کی سیاست کونامکمل بھی سمجھاجاتا ہے‘ جہاں تک پاکستان میں موروثی سیاست کا تعلق ہے تواس کی کئی دیگر عوامل کیساتھ ساتھ دو اہم وجوہ جہاں ہمارے ہاں مروجہ فرسودہ روایتی سیاسی نظام کا تسلسل ہے وہاں ہماری سیاست چونکہ شروع دن سے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے زیر اثر رہی ہے اسلئے اس صورتحال میں پارٹی کی قیادت کسی نئے چہرے کو ملنے کی بجائے خاندان کے اندر ہی گھومناکوئی غیر معمولی بات نہیں ہے‘ اس پس منظر کیساتھ اے این پی کی صوبائی صدارت ایمل ولی خان کے ذریعے باچا خان خاندان کی چوتھی نسل کی جھولی میں گرنا نہ تو اچھنبے کی بات ہے اور نہ ہی اس انتخاب پر کسی اعتراض کی ضرورت ہے۔

یہ بات درست ہے کہ موروثی سیاست بنیادی طور پرجمہوریت اور جمہوری کلچر کیخلاف بلکہ اس کی ضد ہے اور اس طرز عمل کوپیراشوٹ یا مصنوعی قیادت کے طعنے ملنا فطری بات ہے لیکن یہ اعتراضات اٹھاتے ہوئے ہم اس تلخ حقیقت کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں عوامی سطح پر تو کجا کسی پارٹی حتیٰ کہ دن رات جمہوریت کا راگ الاپنے والی پیپلز پارٹی کی اپنی صفوں کے اندر سے بھی کبھی موروثیت کے خلاف کوئی توانا آواز نہیں اٹھی ہے‘اس آواز کا محترمہ بے نظیر بھٹو اور محترمہ نصرت بھٹو کیخلاف نہ اٹھنا توقابل فہم ہے لیکن ہمارے ہاں موروثی سیاست کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ پیپلز پارٹی جس میں میاں رضا ربانی‘یوسف رضاگیلانی‘خورشید شاہ‘ مخدوم امین فہیم مرحوم‘شیری رحمان‘قائم علی شاہ‘ نفیسہ شاہ‘قمر زمان کائرہ‘تاج حیدر‘فرحت اللہ بابر اور راجہ پرویز اشرف جیسے چوٹی کے سینئرقائدین کی موجودگی میں جب بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کا چیئرمین بنایا گیا تو اس فیصلے پرکسی بھی جانب سے کوئی قابل ذکر احتجاج یا اعتراض سامنے نہیں آیا جبکہ کچھ یہی حال مسلم لیگ(ن) کا بھی ہے‘ جہاں میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد پارٹی صدارت کا فیصلہ کرتے ہوئے کسی کی نگاہ انتخاب جہاندیدہ راجہ ظفر الحق‘سید غوث علی شاہ‘ممنون حسین‘انجینئر اقبال ظفر جھگڑا‘مہتاب عباسی ‘ سرتاج عزیز‘ چوہدری نثار علی خان‘پرویز رشید‘میر ظفراللہ خان جمالی اور شاہد خاقان عباسی پر نہیں پڑی بلکہ سب نے بالاتفاق میاں شہباز شریف کے حق میں رائے دی جبکہ ان کی ممکنہ نااہلی کی صورت میں مریم نواز اور حمزہ شہباز انکی جگہ لینے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔

جن کے انتخاب پربھی یقیناکسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ہمارے ہاں موروثی سیاست سے ملک گیر سیاسی جماعتیں تو ایک طرف ترقی پسندنظریات کی حامل قوم پرست جماعتیں بھی محفوظ نہیں ہیں‘ کیا اس ضمن میں میر بزن بزنجو‘ میر حاصل بزنجو‘ عطاء اللہ مینگل‘میراختر مینگل‘شیر محمد مری ‘حربیار مری‘ عبد الصمد خان اچکزئی‘محمود خان اچکزئی‘ اکبر خان بگٹی‘شاہ زین بگٹی‘براہمداغ بگٹی‘فاضل راہو‘ اسماعیل راہو‘جی ایم سید‘سید امداد شاہ ‘شیرپاؤ خاندان کی مثالوں کو کوئی جھٹلا سکتا ہے۔جبکہ تیسری طرف جمعیت (ف) اور جمعیت(س) بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہیں ‘ یہاں بطور جملہ معترضہ اتنا کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ موروثی سیاست کی لعنت میں اگرایک جانب ہماری اکثر سیاسی جماعتیں مبتلا ہیں تو دوسری طرف ان میں سے بعض جماعتیں مثلاً جماعت اسلامی‘ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اس بیماری سے پاک بھی ہیں جو یقیناًایک قابل ستائش امر ہے۔