184

معاشی ٹیم کے لئے چیلنجز

وزیر خزانہ اسد عمرکے مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے پانچ وزراء کے قلمدان تبدیل کرکے فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان واپس لیکر انہیں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بنادیا ہے اور انکی جگہ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا گیاہے ‘وفاقی وزیر امور کشمیر ‘ ریاستیں اور سرحدی علاقہ جات علی امین گنڈاپور کو فارغ کر کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو انکی جگہ وزیر سیفران بنایاگیاہے ‘ چند دن قبل اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وفاقی وزیر پارلیمانی امور بنائے جانیوالے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی وزارت تبدیل کرتے ہوئے انہیں وزیر داخلہ کی اہم ترین ذمہ داری سونپی گئی ہے‘یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں ہوگا کہ وفاقی وزیر داخلہ بنائے جانے والے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نہ صرف جنرل پرویز مشرف دورحکومت میں ڈائریکٹر جنرل آئی بی کے اہم عہدے پر فائزرہ چکے ہیں بلکہ انہیں جنرل پرویز مشرف کا انتہائی قریب بھی سمجھاجاتا تھا‘وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کوفارغ کرکے ان کی جگہ ڈاکٹرظفراللہ مرزا کو مشیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسزمقرر کیا گیا ہے‘عامر کیانی کی فراغت کی وجہ حالیہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربااضافے کو قراردیاجارہا ہے‘۔

جبکہ چندماہ قبل اسلام آباد سکینڈل کے نتیجے میں وزارت سائنس وٹیکنالوجی سے سبکدوش کئے جانیوالے اعظم سواتی پر وزارت کی ہما ایک بارپھر مہربان ہوگئی ہے اور اس بار انہیں زیادہ اہم یعنی پارلیمانی امور کی وزارت سونپی گئی ہے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اور وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کے قلم دان بھی تبدیل کردیئے گئے ہیں‘محمدمیاں سومرو سے ایوی ایشن کااضافی چارج واپس لے کر غلام سرورخان کو ایوی ایشن کا قلمدان دیا گیا ہے اور انکے پاس موجود پیٹرولیم کی وزارت ان سے لیکر ندیم بابرجواس سے پہلے تونائی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے طور پر کام کر رہے تھے کو معاون خصوصی برائے پیٹرولیم مقرر کیا گیا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ جنہیں خزانہ کا مشیر مقررکیاگیاہے موجودہ عہدے سے قبل نہ صرف جنرل پرویز مشرف حکومت میں مشیر نجکاری رہ چکے ہیں بلکہ وہ یوسف رضا گیلانی حکومت میں بھی مشیر خزانہ کے فرائض انجام دے چکے ہیں‘اس طرح وہ اگر ایک طرف وزارت کی ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو دوسری طرف انہیں مسلم لیگ (ق)‘ پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف جیسی ایک دوسرے کی ضد سمجھی جانیوالی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے بھی اہم وزارتوں پر کام کا موقع ملا ہے۔

دوسری جانب بی بی سی نے پاکستانی وزیر خزانہ اسد عمر کو ہٹانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالانہ بجٹ سے صرف ایک ماہ قبل اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بیچوں بیچ پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کی تبدیلی کے فیصلے کو سرپرائز تو نہیں لیکن ایک غیر روایتی سیاستدان کا اہم اور مشکل فیصلہ ضرور قرار دیا جاسکتاہے‘اسدعمر کی فراغت پر ان سوالات کا اٹھایاجانابھی عین فطری قرارپارہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی کابینہ کے ایک ایسے رکن کو تبدیل کرنا جسے انکی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین سمجھاجاتاتھا کی فراغت جماعت کے اندر جاری کھینچا تانی کا نتیجہ ہے اور یاپھرآیا یہ فیصلہ کارکردگی اورمیرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے اس سوال کا جواب ابھی آنا باقی ہے‘اسی طرح یہ سوال بھی مسلسل ذہنوں میں اٹھ رہاہے کہ کیاکابینہ میں حالیہ اچانک اور بڑی تبدیلی تحریک انصاف کی حکومت کیلئے کوئی بڑا سیاسی دھچکا تو ثابت نہیں ہوگااور کیایہ فیصلہ اپنی ٹیم کی ناکامی کا خاموش اعتراف تو نہیں ہے‘اکثرتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کابینہ میں ردوبدل کا یہ سلسلہ صرف وفاق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائر پنجاب تک وسیع ہو گا۔

جہاں عثمان بزدار کی اہلیت اور صلاحیت پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ جہانگیر ترین کے قانونی وجوہات کی بنا ء پر حکومتی معاملات سے الگ ہوجانے کے بعداب اسد عمر کا کابینہ سے علیحدہ ہو جانا حکمران جماعت کیلئے یقینی طور پر ایک بڑا نفسیاتی دھچکا ہے ‘ اس سارے عمل کا ایک قابل غورپہلو47 رکنی کابینہ میں وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر16 غیرمنتخب مشیران اور معاونین خصوصی کو اہم وزارتوں کی نگرانی سونپنا ہے جس سے یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ ہر گزرتے دن کیساتھ وزیراعظم عمران خان منتخب ارکان سے دور ہو کر غیر منتخب ٹیکنوکریٹس کے نرغے میں آتے جا رہے ہیں شاید یہ اسی سوچ اور دباؤ کااثر ہے کہ وطن عزیزمیں 60کی دہائی میں صدارتی نظام کاتلخ اور ناکام تجربہ کرنے کے باوجود ہمارے ہاں ایک بار پھر ٹیکنوکریٹس پر مشتمل صدارتی نظام رائج کرنے کی ناقابل فہم صدائے بازگشت ایک بارپھر سنائی دینے لگی ہے۔