187

مجھے راستے میں خبر ہوئی

سلیم کوثر کا شعر ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں‘ دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

شاعر اندازہ و قیاس کے دھند لکوں میں سفر کرتا ہے کبھی چھتنار درختوں کی چھاؤں میں تو کبھی لق و دق صحرا کی کڑکتی دھوپ میں ہر قدم پہ اسے منزل کے کھوٹا ہوجانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے‘ ہر لحظہ وہ سوچتا ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے To be or not to beکہنے والا ہیملٹ نہ تھا اسکا خالق تھا جس نے اپنے تذبذب اور بے یقینی کو اپنے کردار کے لبوں پر چسپاں کر دیا‘ہمارا معاملہ مگر مختلف ہے ہم اپنی ہر بات کو ڈنکے کی چوٹ پرحرف آخر کہہ دیتے ہیں‘ سولہ اگست 2018کو ایک مسیحا کی تاجپوشی کے ہنگام ہم اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ ایک پاک و صاف اور عن الخطا قیادت ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کیلئے کافی ہے ‘ہم نے یہ نہ دیکھا کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے کیا چین اور ہندوستان سے زیادہ کسی ملک میں کرپشن ہوتی ہے یہ ناسور سرمایہ دارانہ نظام کی اساس ہے‘ مغربی جمہوریتوں کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھنے والے یہ نہیں جانتے کہ وہاں حکومتیں بڑے مگر مچھوں کو ٹیکسوں میں اربوں ڈالر کی چھوٹ دیکر اپنا ہمرکاب بنا لیتی ہیں‘ جب ننانوے پرسنٹ لوگوں کی حق تلفی کو قانونی سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے تو پھر پاناما سکینڈل کی ضرورت نہیں رہتی‘ اس قسم کے ہنگامے کسی ترقی پذیر ملک کو سیاسی عدم استحکام ‘ اقتصادی بحران اور اور معاشرتی ناہمواری سے دوچار کرنے کا باعث بن جاتے ہیں یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اور ہم نے یہ کہہ کر اس سے لطف اٹھایا کہ سیاست میں حریفوں اور شریفوں کیساتھ یہی کچھ کیا جاتا ہے مگر اسکی جو قیمت چکانی پڑ رہی ہے اسکی کسی کو پرواہ نہیں۔

دو سال ہم جس انفو ٹینمنٹ سے محظوظ ہوتے رہے اب اسکا بل بمع انٹرسٹ اور پینلٹی ادا کرنا پڑ رہا ہے‘ اب ہم ایک نئی ڈریم ٹیم کی آمد کے انتظار میں دیدۂ و دل فرش راہ کئے بیٹھے ہیں‘ ایک نئے مسیحا کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں اسد عمر کے رومان میں مبتلا نوجوان اب ڈاکٹر عبدلحفیظ شیخ کی راہ دیکھ رہے ہیں کیا یہ ضروری نہیں کہ کچھ دیر رک کے دیکھ لیا جائے کہ پچھلے رومانس کا اتنا عبرتناک انجام کیوں ہوا اس گھر کی کھڑکی کب بند ہوئی اور بتی کب گل ہوئی بدھ کی شب کامران خان کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ جو صرف دو روز پہلے واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے بات چیت کر کے واپس پہنچے تھے نے خوشخبری سنائی کہ معاملات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے‘ مورال انکا بلند تھا اور بیل آؤٹ پیکج ملنے کے بارے میں وہ بہت پر امید تھے‘ اگلے روز اطلاعات کے مطابق انہیں ایک بجے وزیر اعظم نے بتایا کہ اب انہیں توانائی کی وزارت سنبھالنا ہوگی‘ وزیر خزانہ نے انکار کر دیا اور چلے آئے اسی روز ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا‘ ظاہر ہے انہیں بدھ کی شب اپنی رخصتی کا پتہ نہ تھا افواہیں کئی روز سے گردش کر رہی تھیں مگر نامی گرامی اخبار نویس کہہ رہے تھے کہ وہ ابھی آئی ایم ایف سے معاملات طے کرکے لوٹے ہیں اسلئے انکی برخواستگی کا کوئی امکان نہیں‘ انگریزی کا محاورہ ہے Dont change horses in midstream یعنی دریا کے وسط میں گھوڑے تبدیل نہ کرومگر ایسا کر دیا گیا ‘شاید واشنگٹن میں اسد عمرکی پرفارمنس مایوس کن تھی‘ سچ تو یہ ہے کہ انکی کارکردگی کبھی بھی حوصلہ افزا نہ تھی‘ ہو بھی نہ سکتی تھی‘ کسی امریکی یونیورسٹی کی ڈگری بحران میں گھرے ایک ملک کی اقتصادیات سنبھالنے کیلئے کافی نہیں ہو سکتی۔

اس کیلئے جو تجربہ چاہئے اسکا عشر عشیر بھی اسد عمر کے پاس نہ تھا مگر وہ ہماری ٹیم کے ’ اوپننگ بیٹسمین‘ تھے ڈپٹی وزیر اعظم سمجھے جاتے تھے سچ یہ ہے کہ کسی ترقی یافتہ ملک میں انہیں مشیر تو کیا Internبھی نہ لیا جاتاان ملازمتوں کیلئے بھی تعلیم کے علاوہ تجربے کو بھی دیکھا جاتا ہے مگر تین سال تک انکا امیج اتنے زورو شور سے بنایا گیا کہ نوجوان انکے انتظار میں بیتاب ہوئے جا رہے تھے اب جبکہ انہیں ایک Unceremoniousیعنی ناشائستہ اور غیر مہذب طریقے سے رخصت کر دیا گیا ہے تو دھند میں لپٹا ہوا اہم ترین سوال یہی ہے کہ وزیر اعظم نے انکی رخصتی کا فیصلہ کب کیا ‘زبان خلق یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ ’ ’اوپننگ بیٹسمین‘‘ کو ٹیم سے اچانک نکال باہر کرنے کا فیصلہ کپتان نے کیا یا کوچ نے اسکا جواب نئی ڈریم ٹیم کی آمد میں ڈھونڈا جا سکتا ہے مگر یہ طے ہے کہ اسد عمر کو قربانی کا بکرا بنا یا گیاہے انہوں نے جتنے بھی اہم فیصلے کئے وزیر اعظم کی منظوری سے کئے اب انکے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے۔

یہ اور بات کہ خود کو بہت تباہ کیا
مگر یہ دیکھ کہ ترے ساتھ تو نباہ کیا

ڈاکٹر عبدلحفیظ شیخ مشہور زمانہ ہارورڈ یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں وہ کئی سال تک ورلڈ بینک میں اعلیٰ عہدوں پر ملازمت کرتے رہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ بیس ممالک کی معاشی بحالی کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں تین سال تک (2010----2013) پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے انکی کارکردگی قابل رشک تو نہ تھی مگر انہوں نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کو بے توقیر نہ ہونے دیا ‘ سٹاک مارکیٹ کو مستحکم رکھا‘ کاروباری طبقے کو شکایت کا موقع نہ دیا انکے دور میں بجلی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی کنٹرول میں رہیں مگر اب انہیں جس چیلنج کا سامنا ہے وہ خاصا مشکل اور گھمبیر ہے اب آئی ایم ایف پاکستان سے سی پیک کے قرضوں کا حساب کتاب مانگ رہا ہے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضوں کی رقم سے چین کو ادائیگی نہیں کرنے دیں گے اور اب تو دفاع پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی جا رہی ہیں‘ان بدلے ہوئے حالات میں دیکھنا پڑیگا کہ نئے مشیر خزانہ یہ گتھیاں کیسے سلجھاتے ہیں خارجی ‘داخلی اور دفاعی نوعیت کے یہ حساس معاملات تو انہی دفتروں میں طے ہوں گے کہ جہاں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اب آخر میں یہ کہ سلیم کوثر کے دو مجموعے سامنے پڑے ہیں جو بات ’’ یہ چراغ ہے تو جلا رہے‘‘ میں ہے کسی دوسرے میں نہیں یہ شعر ملاحظہ فرمائیے
سلیم ان سر پھری لہروں سے بچ نکلیں تو پھر دیکھیں
وہ اک طوفان ابرو باد جو ساحل سے آگے ہے۔