517

شانگلہ میں سوات یونیورسٹی کیمپس بلڈنگ کا افتتاح

پشاور ۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع شانگلہ میں سوات یونیورسٹی کیمپس بلڈنگ کا افتتاح کردیا ہے جبکہ ضلع شانگلہ، بونیر، تورغر اور کوہستان پر مشتمل ایک نئے زون کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ضلع شانگلہ کے ایک روزہ دورے کے موقع پر بشام سب ڈویڑن بلڈنگ کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یاد رہے کہ تحصیل بشام کو 2018 میں سب ڈویڑن کا درجہ دیا گیا تھا۔افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے بشام میں واقع ٹائپ ڈی ہسپتال کو ٹائپ سی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کی بھی منظوری دی اور کہا کہ بہت جلد ضلع شانگلہ کے لیے ایک ٹیکنیکل کالج کی منظوری بھی دے دی جائے گی۔ 

انہوں نے ضلع شانگلہ میں کاروڑا شاہ پور روڈ کی اجمیر تک تعمیر کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے واضح کیا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو پاکستان مشکل دور سے گزر رہا تھا تاہم یہ مشکل دور رفتہ رفتہ ختم ہونے جارہا ہے اور بہت جلد عمران خان کی قیادت میں پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر شانگلہ پریس کلب کے لئے 20 لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ ضلع شانگلہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور موجودہ حکومت ان مقامات کو سیاحتی زونز میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ صوبے میں سیاحت کے فروغ سے معاشی ترقی بھی ممکن ہوسکے گی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کوئلے کی کان میں مزدوری کرنے والوں کی بچوں کو سہولیات دینے کا اعلان بھی کیا اور واضح کیا کہ جو مزدور کوئلے کی کان میں شہید ہو چکے ہیں ۔

ان کے ورثاء کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کو مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات بھی فراہم کریں گے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کروڑہ تا شاپور کانڑہ روڈ اور کڑوڑہ تا چکیسر روڈ کو تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا جبکہ اولندرہ بی ایچ یو کو سی ایچ یو میں تبدیل کرنے اور کانڑہ تحصیل کے لیے ڈگری کالج کی تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ گنڑشاہ پل کی تعمیر بھی جلد کر لی جائے گی اور مالم جبہ تا یخ تنگے شانگلہ روڈ کو بھی پکا کریں گے۔وزیر اعلی نے چکیسر کیلئے ٹیوب ویل کی منظوری بھی دی اور شانگلہ میں سکولوں اور سڑکوں کے تعمیرات کے حوالے سے بھی اعلانات کیے۔

وزیراعلی محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت پسماندہ اورنئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کو دوسرے ضلعوں کے برابر لا کر کھڑا کرنا چاہتی ہے تاکہ ان اضلاع میں عوام الناس کو فوری طور پر قومی دھارے میں شامل کیا جائے اور ان کی 70 سالہ محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔اس سے قبل صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شانگلہ کے عوام کے مسائل حل کرینگے اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرینگے ہر دوسرے ہفتے شانگلہ کا دورہ ضرورکرونگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 35سالوں میں حکمرانوں نے یہاں کے ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی اسلئے یہاں پسماندگی رہی ہے انہوں نے کہا کہ مشرف دور حکومت میں ملک پر 6 ہزر ارب روپے کا قرضہ تھا پھر پی پی حکومت میں یہ قرضہ 15 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیاجبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں یہ قرضہ 30ہزار ارب روپے تک پہنچ گیاہم روزانہ سات ارب روپے قرضے کے مد سود دے رہے ہیں اگر پاکستان کے اوپر یہ قرضہ نہ ہوتا تو پاکستان اب تک بہت ترقی کر چکا ہوتا۔