285

واقعہ کل تو کوئی شہر میں ایسا نہ ہوا

موبائل فون نام کی یہ چھوٹی سی جو ڈیوائس ہمارے ہاتھ لگ گئی ہے اس نے ہ میں یر غمال بنایاہوا ہے، اور ہم بقائمی ہوش و ہواس اور برضا و رغبت اس کے اشاروں پر چلتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ۔ آن کی آن میں بری بھلی خبریں سینکڑوں ہزاروں میل کے فاصلے تک پہنچ جاتی ہیں اور جب تک صورت حال کھلتی ہے تب تک بات بہت آگے جا چکی ہوتی ہے ۔ سوشل میڈیا پر لگنے والی کوئی بھی جھوٹی سچی پوسٹ میں یہ صلاحیت از خود موجود ہوتی ہے کہ وہ ہر دیکھنے والے کو اپنا طرف دار بنا دے ۔ پھر ہم اس شوخی کے بھی اب عادی ہیں کہ جو خبر سنیں اسے نہ صرف فوراََ اپنی وال پر لگالیں بلکہ اپنے دوستوں کو الگ سے ٹیگ بھی کر لیں میسنجر میں بھی بھیج دیں اور پھروٹس ایپ گروپ میں بھی پھیلا دیں اور وہ آگے یہ ساری ایکسرسائیز دہراتے ہوئے اپنے احباب سے شئیر کرنا شروع کردیں ۔ اور اسی سوشل میڈیا کی خبر یا افواہ اتنی وائرل ہوجائے کہ پھر الیکٹرانک میڈیا کے نیوز چینل اسے اٹھا کر رہی سہی کسر پوری کر لیں ۔ کل جاں نثار اختر نے کہا تھا

ہم نے انسانوں کے دکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا
کیا برا ہے جو یہ افواہ اڑا دی جائے

اب ہمارے شام و سحر اس طرح کی افواہوں کی لپیٹ میں ہیں اور ہم سوچے سمجھے بغیر اس کو سچ مان کر نہ صرف آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ افواہ سازوں کا کام آسان کرتے ہوئے اپنے سخت ردّ عمل کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں ، ایسا نہیں کہ یہ کام پہلے نہیں ہوتا تھا ،مگر بڑی حد تک بے ضرر ہو تا تھا ۔ کوئی خبر کوئی افواہ اچانک پھیل جاتی تھی،یار لوگ چند لمحوں کے لئے اس کے حصار میں رہ کر واپس لوٹ آتے تھی ۔ انگریزی ادب میں ایک امریکن راءٹر جیمز تھربر کا لکھا ہوا ایک دلچسپ انشائیہ(ایسے) ’’ دا ڈے دا ڈیم بروک ‘‘ کوئی ایک صدی پہلے لکھا تھا کہ اس کے بچپن میں ایک دن اس کے شہر کولمبیا میں ایک افواہ پھیلی کہ اوہائیو دریا کا بند ٹوٹ گیا ہے جسے ہر شخص دوسرے سے شئیر کرتے ہوئے بھاگ رہا تھا اور یوں سارا شہر خالی ہوجاتا ہے،اس کے آخر میں ایک بڑی دلچسپ بات تھربر نے یہ لکھی ہے کہ جب پتا چلتا ہے کہ یہ محض افواہ تھی تو لوگ واپس آ جاتے ہیں مگر پھر کسی نے کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا کہ ہر شخص اس میں برابر کا شریک تھا ۔ ٹھیک ایک صدی بعد ایک رات ایسی ہی ایک افواہ اڑی کہ صبح پانچ بجے زلزلہ آئے گا اور یہ صرف ایک شہر یا گاؤں تک اس لئے محدود نہیں رہا کہ اب خیر سے ہمارے پاس ٹیلی فون آ گیا تھا اور یوں یہا ں وہاں ہر شہر ہر گاؤں میں سب لوگ گھروں سے نکل کر کھلے میں جا بیٹھے تھے اور متوقع زلزلہ کا انتظار کرنے لگے ،مجھے اب بھی یاد ہے کہ مجھے گاؤں سے رات گئے ذیشان نے فون کر کے یہ اطلاع دی تھی اور میری وہ ایک نہیں سن رہا تھا کہہ رہا تھا ۔

بس آپ لوگ گھر سے نکل پڑیں ۔ میں نے اسے لاکھ سمجھایا کہ یہ جو زلزلہ سے اتنے نقصان ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے سے اس کا علم نہیں ہوتا ۔ مگر وہ نہیں مانا، میں نے یوں اسے تسلی دی کہ ابھی تو چار گھنٹے باقی ہیں ، میں سو جاتا ہوں صبح گھر سے نکل جاؤں گا ۔ پھر میں تو سو گیا مگر شہرسارا جاگا ہوا تھا ۔ بعد میں جب ایسا کچھ نہ ہوا تو یہاں لوگ چپ نہیں ہوئے بلکہ اپنا اور ایک دوسرے کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکے ۔ مجھے جس واقعہ نے بہت لطف دیا وہ ایک قصبے کا تھا، جہاں کم و بیش سارا گاؤں باہرنکل کر خشک برساتی نالے میں اکٹھا ہو گیا تھا مگر ایک گھر ایسا تھا کہ اڑوس پڑوس کے لوگوں اور رشتہ داروں کی منت سماجت کے باوجود گھر سے نکلنے سے انکاری تھا، اور سب کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ دیکھو اس طرح کی آفات کا علم پہلے سے نہیں ہوتا البتہ چند لمحے قبل جانوروں اور پرندوں کو ہو جاتا ہے ۔ وہ سامنے ہی میری بکری بندھی ہوئی ہے اور دیکھئے کس قدر پرسکون ہے‘سو لوگ تھک ہار کر چلے گئے مگر جب زلزلے کے لئے دیا گیا وقت قریب آیا اور استغفار کا شور بلند ہوا تو عین اسی وقت وہ ننگے پاؤں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہانپتا کانپتا پہنچ آیا ۔

پوچھنے پر بتایا کہ میرے بکری ابھی اچانک اٹھی اور سخت بے چینی میں رسہ تڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کی چیخیں نکل رہی تھیں تو ہم سب بھاگے ۔ مگر زلزلہ نے تو نہیں آنا تھا سو نہ آیا،سورج نکل چکا تھا یار لوگ آہستہ آہستہ گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ۔ تو یہ صاحب بھی گھر کی طرف آگئے،جب اندر پہنچے تو دیکھا بکری پرسکون ہے اور پاس ہی اس کا چند لمحے پہلے کا جنا ہوا نوزائیدہ بچہ ہے جسے وہ چاٹ رہی تھی ۔ سارے گھر والوں نے یہ منظر دیکھا تو بے ساختہ ہنس پڑے اور بکری سے کہنے لگے ،تو تم نے بھی زلزلہ کا وقت ہی چننا تھا ۔ سو افواہ سازی کی فیکٹری کہیں اور چلے نہ چلے ہمارے ہاں یہ خوب چلتی ہے، پہلے پہل یہ کام اخبارات بھی کرتے تھے اور کوئی ایسی خبر لگا لیتے کہ سارا شہر ہی حیران رہ جاتا ۔ اور یہ انہونی قسم کے خبریں کسی دور دراز کے علاقے میں وقوع پزیر ہوتیں ، جہاں سے تصدیق ناممکن ہوتی، یا پھر کوئی ایسا واقعہ کہ لوگ باگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ۔ یہ اس زمانے کے حساب سے اخبار کی ریٹنگز بڑھانے کے حربے تھے اسی زمانے میں جاں نثار اختر نے کہا تھا

واقعہ کل تو کوئی شہر میں ایسا نہ ہوا
یہ تو اخبار کے دفتر کی خبر لگتی ہے

اور اب جب کہ سارا نظام اس چھوٹی سی ڈیوائس میں سمٹ آیا ہے اور ہم بھی دل و دماغ کے سارے دریچے بند کر کے ’’ کھلی آنکھوں ‘‘ سے ہر بات کا یقین کر لیتے ہیں تو مان لیں کہ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں کسی خبر،کسی افواہ یا کسی بھی انہونی بات کی تصدیق کا ہمارے پاس نہ وقت ہے نہ دماغ جس نے جو کہہ دیا ہم نے یقین کر لیا،اور اس لوک کہانی کے کردار بننے میں ہ میں دیر نہیں لگتی جس کی پنچ لائن یہ ہے کہ ’’ ہور چوپو ‘‘ اور تو اور کچھ منتقم المزاج لوگ سوشل میڈیا پرایسی ایسی لنگڑی دلیلوں کے ساتھ کسی بھی شخص یا ادارے یا صاحبان اقتدار کے خلاف پہتان تراشتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ یہ کل کی بات ہے کہ سارا شہربقائمی ہوش و ہواس اور برضا و رغبت اس سازش کا حصہ بن گیا جو بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے تھا ۔ اور جو ویڈیوز وائرل ہو رہی تھیں اس میں دکھائے جانے والے اسی فی صد بچے پانچ سال سے زیادہ عمر کے تھے ۔ مگر لوگوں کو اعتبار کرنا تھا سو کرتے رہے،میر تقی میر نے درست کہا تھا
یہ توہّم کا کار خانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا