313

نیا بلدیاتی نظام

خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل2019ء کے قانونی مسودے کی منظوری کے بعد وہ نیا بلدیاتی نظام سامنے آ گیا ہے جسکا ذکرموجودہ منتخب حکومت شروع دن سے کر رہی تھی 'نئے مجوزہ بلدیاتی نظام جس کی منظوری صوبائی اسمبلی سے لینا ابھی باقی ہے میں ضلع کونسل کو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ تحصیل' ٹاؤن' ویلج اور نیبر ہڈ کونسلوں کی سابقہ حیثیت کو تھوڑی بہت ترامیم کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے'اس نئے بلدیاتی نظام 2019میں ضلع کونسل ختم کرنے کی تجویز ہے جبکہ نیا مقامی حکومتوں کا نظام دیہی اور شہری علاقوں میں با لترتیب تحصیل اورسٹی لوکل گورنمنٹ اور ویلج و نیبرہڈ کونسلوں پر مشتمل دو درجاتی نظام ہوگا دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نئے ترمیمی بل کے تحت سابقہ نظام میں ناظمین اب چیئرمین کہلائیں گے جبکہ اس مجوزہ نئے نظام کی ایک اور خاص بات تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹی لوکل گورنمنٹ بنانے کا فیصلہ ہے جسکا سربراہ میئر کہلائے گا'اس نظام کے تحت تحصیل کونسل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات جماعتی بنیاد پر جبکہ ویلج اور نیبرہڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے'اسی طرح تحصیل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوں گے' ویلج و نیبرہڈ کونسلز میں 33 فیصد خواتین'5 فیصد نوجوانوں اور اقلیتی برادری کا کوٹہ بھی بحال رکھا گیاہے '۔

پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن' سماجی بہبود'پبلک ہیلتھ انجینئرنگ'سپورٹس'کلچر' امور نوجوانان' لائیوسٹاک'سوشل ویلفیئر'بہبود آبادی' پانی ونکاسی آب اور دیہی ترقی کے محکمے تحصیل چیئرمین اورمیئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے ماتحت ہوں گے'نئے بلدیاتی ترمیمی بل کے تحت لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن بھی قائم کیا جائےگا جس میں تحصیل چیئرمینوں کی تعداد 2 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے جنکا انتخاب صوبے کے متعلقہ پانچ زونز سے ہوگا'بدعنوانی کے تدارک کیلئے نئے بلدیاتی نظام کا مالیاتی حساب کمپیوٹرائزڈ بناےا جائےگا 'اسی طرح ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسرز کے علاوہ صوبائی حکومت خود اور تھرڈ پارٹی کے ذریعے مقامی حکومتوں کا آڈٹ کر سکے گی'تحصیل کونسل سادہ اکثریت سے بجٹ کی منظوری دے سکے گی جبکہ بلدیاتی حکومتوں کو صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد فراہم کیا جائےگا'تحصیل کونسل چیئرمین اور میئرسٹی لوکل گورنمنٹ کو مواخذے کی تحریک پر ایوان کی دو تہائی اکثریت سے ہٹایا جا سکے گا تاہم مواخذے کےلئے لوکل گورنمنٹ کمیشن کو معقول وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔

پشاور میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے صوبائی وزیر بلدیات کا کہنا تھاکہ پشاور 2 سٹی لوکل گورنمنٹس اور 3 تحصیل حکومتوں پر مشتمل ہوگا مجوزہ ترمیمی بل آئندہ ہفتے منظوری کےلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ قبل ازیں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبائی حکومت کے نئے مجوزہ بلدیاتی نظام کو ایک بہترین نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع میں یکساں بلدیاتی نظام نافذ کیا جارہا ہے جس سے صوبے میں بلدیاتی حکومتیں مزید مستحکم ہو نگی'اختیارات حقیقی معنوں میں عوام کو منتقل ہو ں گے جس سے عوام بااختیار ہو ں گے اور انکے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے'موجودہ حکومت نے جس نئے بلدیاتی نظام کی منظوری دی ہے اس میں بلدیاتی نظام کے ایک اہم اور بنیادی اکائی یعنی ضلع کونسل کے خاتمے'ناظمین کا ٹائٹل تبدیل کرکے انہیں چیئرمین قراردینے اورپشاور کے بلدیاتی نظام کو آسان اور فطری بنانے کی بجائے مزیدپیچیدہ اور ناقابل فہم بنانے کے علاوہ کوئی ایسی بڑی مثبت تبدیلی شامل نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر اس نئے نظام کو مثالی یا آئیڈیل نظام کہا اور پکارا جا سکے۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس نئے نظام میں ضلع کونسل کے ایک اہم درجے کے خاتمے کے پیچھے کیا سوچ یا فلسفہ کارفرما ہے 'یہ اس نظام کی جاذبیت اور بطور سیاسی ادارہ پاکستان کی مروجہ سیاست میں اس کی افادیت کا اثر تھا کہ جب اس نظام کے تحت جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں دو دفعہ بلدیاتی انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تھا تو ان دونوں انتخابات میں ضلع کونسل کی نظامت کےلئے کہنہ مشق اور سینئر سیاستدان میدان میں اتر آئے تھے ۔لہٰذا اس درجے کے خاتمے کا مطلب ایک کوکھلے بلدیاتی نظام کی داغ بیل ڈالنے کے مترادف ہوگا اسی طرح ناظمین کی بجائے چیئرمین کی اصطلاح کے استعمال سے بھی ایک مانوس اصطلاح متروک ہوجائے گی جسکا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔پشاور کی ملک کی سیاست میں ایک صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناطے جو اہمیت ہے یہاں دو لوکل گورنمنٹس اور تین تحصیلوں کے قیام کے ملغوبے سے اسکی ا ہمیت اور مرکزیت پر بھی یقینافرق پڑے گا جسے پشاور کے شایان شان ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔