123

زراعت کا دور نو

زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہاں سب سے زیادہ زرعی شعبہ کو ہی نظر انداز کیاجاتارہاہے جس کی وجہ سے پیداواری اخراجات بڑھنے اور جدید سہولیات کی بروقت عدم فراہمی کی وجہ سے کسان طبقہ مسلسل تباہ حالی کاشکار چلاآرہاہے ساتھ ہی خورا ک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے قیمتی زرمبادلہ درآمدات پر بھی خرچ ہورہاہے اگر ہم اپنے صوبہ کی بات کریں تو یہاں زراعت‘ باغبانی ‘ماہی پروری اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجودہیں مگر ماضی میں سوائے بعض مستثنیات کے شعبہ زراعت ہمیشہ حکمرانوں کی توجہ سے محروم رہاہے جسکاتمام ترخمےازہ صوبہ کے غریب کاشتکار اور یہاں کی اکثریتی آبادی بھگتتی چلی آئی ہے تاہم اب پہلی باراس شعبہ کو ایمرجنسی کی بنیاد وں پر ڈیل کیاجانے لگاہے موجودہ صوبائی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سوات سے تعلق رکھنے والے محب اللہ خان کو وزیر زراعت بنایا گیاوہ گذشتہ دور میں لائیوسٹاک ‘ماہی پروری اور امداد باہمی کےلئے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کی حیثیت سے پانچ سال تک کام کرچکے تھے چونکہ خود ایک زمیندارگھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے شعبہ زراعت میں پہلے دن سے ہی انکی دلچسپی چلی آرہی تھی وزیر بننے کےساتھ ہی انہوں نے سو دن کے پلان پرکام شروع کرایا اس دوران کامیاب حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مرکز میں پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کےساتھ روابط مزید مضبوط بناکر انکی سرپرستی اورحوصلہ افزائی کی بدولت مرکز سے صوبہ کےلئے شعبہ زراعت میں بہت بڑا پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے‘ انہی کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں وفاقی حکومت نے نیشنل ایگریکلچرایمرجنسی کے تحت خیبر پختونخوا کے44 ارب روپے کے گیارہ منصوبوں کی منظوری دی مذکورہ منصوبوں میں 12بلین روپے وفاقی حکومت فراہم کرےگی جبکہ 23 بلین روپے صوبائی حکومت کا حصہ ہوگا اور باقی ماندہ نو بلین روپے زمیندار بطور حصہ ڈالیں گے‘ ۔

ان منصوبوں میں زیر زمین پانی کو محفوظ کرنا‘14 ہزار آبی کھالوں کی تعمیر و مرمت‘پانچ ہزارپانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک ‘ 34ہزار ایکڑ زمین کی ہمواری‘700 ٹیوب ویلوں پر شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب‘3ہزار حفاظتی پشتوں کی تعمیر کے علاوہ چار ہزار ایکڑ رقبے پر باغات‘فصلات اور دیگر چارہ جات کی کاشت شامل ہیں لائیو سٹاک کی ترقی اور مرغبانی کے فروغ کے بھی چار منصوبے شامل ہیں جن کے تحت ایک لاکھ بیس ہزار بچھڑوں کو محفوظ کیا جائے گا جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار بچھڑوں کو قبل از وقت ذبح کرنے سے بچانے کا منصوبہ بھی شامل ہے‘ اس طرح مرغبانی کی صنعت کو فروغ دینے کی غرض سے غریب خاندانوں کو فی خاندان دس مرغیاں اور دو مرغے مہیا کئے جائیں گے جبکہ چھ لاکھ مال مویشیوں کو بیماریوں کے تدارک کے حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جائیں گے‘ماہی پروری کے منصوبوں کے تحت ٹھنڈے علاقوں میں 287 ٹراﺅٹ مچھلی فارم تعمیر کئے جائینگے‘ساتھ ہی اگر دیکھا جائے تو محکمہ زراعت اور لائیو سٹاک کی گزشتہ آٹھ مہینوں کی کارکردگی بھی گذشتہ ادوار کی نسبت کافی بہتر رہی ہے ویسے بھی 2002سے 2018تک اس محکمے کو عملاً دولخت کرتے ہوئے اس کےلئے دو دو صوبائی وزراءرکھنے کی روایت قائم رکھی گئی تھی سولہ سال بعد آج پہلی بار زراعت ‘ لائیو سٹاک ‘فشریز اورکوآپریٹو کا ایک وزیر کام کررہاہے۔

 اسی لئے کارکردگی میں بہتری آنے لگی ہے آٹھ ماہی کارکردگی رپورٹ کے مطابق 35 ہزار میٹرک ٹن تصدیق شدہ تخم اور 80ہزار پھلدار پودے تقسیم کئے گئے ‘ کل 40 ترقیاتی منصوبوں کےلئے ایک ارب 96 کروڑ دو لاکھ روپے جاری کئے گئے اور جاری کردہ فنڈز میں سے اب تک ایک ارب 30 کروڑسے زائد رقم خرچ کی چکی ہے اگر زرعی شعبہ میںاقدامات کی یہی رفتاررہی توکہاجاسکتا ہے کہ پانچ سال میں گذشتہ 70 سال کی نسبت کہیں زیادہ اوریکارڈ کام ہو سکے گا جسکے بعد یہ کہاجاسکے گاہم زراعت کے دورنو میںداخل ہو چکے ہیں جسکے بعدصوبہ میںغربت اوربیروزگاری کے خاتمہ کاخواب شرمندئہ تعبیر کرنے کی راہ خود بخودہموار ہوجائے گی کیونکہ صرف زراعت ‘لائیو سٹاک اور فشریزمیں اتنا پوٹینشل موجود ہے کہ غربت اور بیروزگاری پر ضرب کاری لگایا جاسکے البتہ حکومت کو اب کوآپریٹو کے حوالہ سے سوچنا ہوگا موجودہ حالات میں یہ محکمہ عملًا بوجھ بن کررہ گیا ہے اور بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھائے رکھنا عقلمندی نہیں ہوا کرتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔