192

ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہو جانا

بچھڑنا ناگزیر ہے،زندگی کا قافلہ رواں دواں ہے،جہاں کچھ نئے لوگ اس کا حصہ بنتے ہیں وہیں کچھ چپکے سے اس قافلے سے الگ بھی ہو جاتے ہیں کہتے ہیں کہ بچھڑنے والے اکثر رک رک کر چلنا شروع کر دیتے ہیں اور قافلہ آگے بڑھ جاتا ہے اور یہ پیچھے رہتے رہتے اکیلے رہ جاتے ہیں پھر ایک دن گرد ِکارواں میں کہیں کھو جاتے ہیں،کیونکہ ’بچھڑنا ناگزیر ہے لیکن ان کی کمی دیر تک افسردہ رکھتی ہے اور کسی بہانے ان کو یاد بھی کر لیا جاتا ہے مگر پھر وہی ہنگامہ،ہاو¿ ہو اور دنیا کا رونق میلہ سب بھلا دیتا ہے، زندہ لوگوں کے کام بہت ہوتے ہیں جو تھکنے نہیں دیتے،تنہا نہیں رہنے دیتے اور فارغ نہیں بیٹھنے دیتے، تاہم کبھی کبھی گھڑی دو گھڑی یادیں گھیر بھی لیتی ہیںبچھڑنے والوں کے اجلے چہرے آنکھوں میں دھواں بھی بھر دیتے ہیں ا ن محفلوں اور ان زمانوں کا ایک میلہ سا لگ جاتا ہے جن میں دھندلے ہوتے ہوئے ان اجلے چہروں کے خد و خال ابھر ابھر کر دل کی دھڑکن کو بے ترتیب سا کر دیتے ہیں،مگر ہم ان لمحوں کو زیادہ طول نہیں دیتے کیونکہ اگلی ہی گھڑی کار اور کاروبار دنیا پکارنے لگتا ہے اور ہم اس آواز پر اتنی جلدی لبیک کہتے ہیں جیسے ہمیں اسی آواز اور اسی پکار کا انتظار تھا،سو یادوں اور کار ِ دنیا کے دو پاٹن بیچ پستے چلے جاتے ہیں

کن خرابوں میں محبت تری لے آئی ہے
دل مجھے روکتا ہے کار ِ جہاں کھینچتا ہے

اب کے بہار آئی تو پرانے زخموں کے منہ کو تو خیر کھلنا ہی تھا مگر جاتے جاتے کچھ نئے زخم اور کچوکے بھی دے گئی جو یار لوگوں ادھ موا سا کر گئے، پہلے یاروں کے یار ڈاکٹر یحییٰ بچھڑے اور وہ تو واقعی چپ کے سے چلے گئے کہ قریب ترین لو گوں کو بھی بہت دنوں کے بعدعلم ہوا، وہ ڈیرہ اسماعیل خان کے تھے مگر انہیں پشاور بہت پسند تھا بہت عرصہ یہیں گزارا،بہت ملنسار اور محبت والے دوست تھے، جن دنوں وہ پی ایچ ڈی کے لئے جوش ملیح آبادی پر اپنا مقالہ لکھ رہے تھے خاطر غزنوی کے گھر بہت وقت گزارتے تھے ایک تو وہ ان کے نگران تھے اور دوسرا ان کی لائبریری سے استفادہ بھی کرنا تھا میں حیران تھا کہ سیاحت کے رسیا شخص جی کڑا کر کے مقالہ لکھنے میں جت گئے تھے لیکن جس وقت اس کا کام مکمل ہوا اور خاطر غزنوی کے پاس فائنل مسودہ لے کر گئے تو ان دنوں ان کی آنکھوں کا آپریشن ہوا تھا اور لکھنے پڑھنے پر پاپندی تھی، ادھر ان کو جلدی تھی سو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ خاطر غزنوی نے مجھے فون کیا اور حکم دیا کہ پروفیسر یحییٰ احمد کا مقالہ پڑھو اور پھر اس پر اپنی رائے بھی دو، میں مبتلا شخص کہاں اتنا وقت نکالتا مگر حکم بھی ماننا تھا سو میں نے مرحوم سجاد بابر اور حسام حر کو بھی ساتھ لیا اور پورا ایک دن صبح سے شام تک کریم پورہ والے گھر میںڈیرے ڈال دئیے۔ وہ مقالہ پڑھتے رہے اور ہم تینوں ہمہ تن گوش سننے رہے،وہ بے چین سے تھے میں نے پوچھا کہ کچھ مسئلہ ہے کہنے لگے جی بہت بڑا مسئلہ ہے پوچھا کیا تو کہنے لگے کہ سجاد بابر اور آپ دونوں میرے غریب خانے میں آئے ہیں۔

 مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں خوشی میں دھمال ڈالوں،یا آپ کی سیوا کروں، اوپر سے اپنا بور سا مقالہ بھی سنانے بیٹھا ہوا ہوںمیں نے کہا ہم جاب پر ہیں،اس لئے مقالے کے علاوہ کچھ مت سوچو مگر وہ کب مانتا‘ میں نے بعد کے زمانوں میں بھی یہی دیکھاکہ یحییٰ احمد زبردستی تقریبات سے باہر کے احباب کو گھر لے جاتا اور کھانا کھلاتا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے جب بھی اسلام آباد میں اجلاس ہوتے تو پشاور اور لاہور کے احباب ان گھر پہنچ جاتے اور رات بھی وہیں ٹھہرتے کوئی بیڈ پر،کوئی صوفوں پراور باقی کارپٹ پر آرام اور بے تکلفی سے سو جاتے،، آخری بار اکادمی ادبیات اسلام آباد کی ایک تقریب میں مختصر سی ملاقات ہوئی تھی،بہت اصرار کر رہے تھے کہ گھر جاتے ہیں مگر مجھے پشاور واپس آنا تھا، اب سوچتا ہوں چلا ہی جاتا تو اچھا ہوتا۔ اسی اپریل کے مہینے نے اس شہر ِ طرحدار کا ایک جیالا شاعرساجد سرحدی بھی چھین لیا۔ اسے عوام اور خواص نے مل کر ” شاعر پشور “ کا اعزاز دیا تھا، اس طرح کے خطابات پر اختلاف ضرور سر اٹھاتے ہیں اور کہیں سے تائید اور کہیں سے اعتراض سامنے آتے ہیںمگر ساجد سرحدی کے اس اعزاز پر نہ صرف سارے احباب متفق تھے بلکہ انہیں اتنا ہی احترام بھی دیتے تھے۔ اردو اور ہندکو میں شعر کہتے تھے اور امی شاعر ہونے کے باوجود دونوں زبانوں کے شعر مشاعرے لوٹ لیتے تھے۔ دو ایک ہفتہ قبل بہار ادب کی نشست میں کسی نے ان کی طبیعت کی ناسازی کا بتایا تو میں نے ان کے اعزاز میں ایک شام کے لئے احباب کو تجویز دی اور پھر فون پر عیادت کرتے ہوئے انہیں بتایا، کہنے لگے ابھی رک جائیں جونہی طبیعت بحال ہوتی ہے میں خود بتاو¿ں گا، میں نے کہا میں حاضر ہوتا ہوں مل کر طے کر لیں گے ، کہنے لگے ابھی آپ زحمت نہ کریں۔

میں مطمئن ہو کر اسلام آباد چلا گیا تو اسی دن شام سے پہلے انہوں نے رخت سفر باندھ لیا۔ ابھی آنسو خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ ا س سانحہ کے دوسرے ہی دن میں کتاب میلہ میں اسلام آباد ہی میں تھا کہ ترقی پسند پشتو شاعر ادیب اور دل کے بہت قریب دوست تاج امر کے بچھڑ جانے کی اطلاع عزیز اعجاز نے دی ۔آنکھوں کے سامنے سے تاج امر کی مسلسل ملاقاتوں کا زمانہ فلم کی طرح چلنے لگا ہر شام اس کی گھڑیوں کی چھوٹی سے دکان پر بہت بڑے شعرا اور ادبا کا اکٹھ ہوتا،ادبی مباحث ہوتے شعر پڑھے سنے جاتے پھر بحث گرم ہو جاتی تو دھیمے لہجے کے تاج امر ہاتھ ہلا ہلا کر اس میں شریک ہو جاتے تو چہرہ لال سرخ ہو جاتا مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ کی لو کبھی مدھم نہ ہوتی۔ ان سے بھی آخری ملاقات کچھ عرصہ قبل پنج ستاری ہوٹل میں ہوئی جس شام ایک طرف اخوت کی تقریب تھی اور دوسری طرف ایرانی قونصلیٹ کی تقریب تھی‘ اس دن پہلی بار وہ بہت مضمحل لگے۔’ پوچھا تو کہا ’بس یار تیریگی“(بس یار گزر رہی ہے) ،دوسروں کو حوصلہ دینے والے کی آواز بہت دھیمی تھی۔اور اب تو خاموش ہی ہوگئی۔ اپریل اور جاتی بہار کے یہ منہ کھلے زخم اب دیر تک رستے ر ہیں گے۔
ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہو جانا
نعرہ¿ ہُو ہے تو کیا شور ِ سلاسل ہے تو کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔