182

یکم مئی مزدورں کا عالمی دن

 پاکستان میں مزدوروں کا عالمی دن یکم مئی کو منایا جاتا ہے‘اس کا فیصلہ 1972ءکو کیا گیاتھا کہ اس دن کو منایا جائے اور عام تعطیل کی جائے‘مختلف ممالک میں دوسری تاریخوں میں بھی منایا جاتا ہے‘مثلاً امریکہ اور کینیڈامیں ستمبر کے پہلے سوموار کو مناتے ہیں‘اس کی بنیادی اہمیت اس تحریک میں ہے جس میں آٹھ گھنٹے کام‘آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کی پالیسی اپنانے کی استدعا تھی‘پاکستان میں یکم مئی کو عام تعطیل ہوتی ہے‘اس دن حکومتی اور نجی سطح پر ریلیاں‘جلوس ‘سیمینار اور مختلف پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں‘ان میں حقوق کی بات کی جاتی ہے‘ زیادتیوں پر احتجاج ہوتا ہے‘اس دن کی مناسبت سے کوئی خاص نشان نہیں ہے بلکہ پوسٹر اور دیگر جگہوں ہر ہتھوڑے اور درانتی کے نشان کو علامت سمجھا جاتا ہے‘پاکستان عالمی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کا 1947ءسے ممبر ہے جو انصاف اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کا پر چار کرتی ہے‘اس وقت مزدوری کا تعین نوسو روپے یومیہ تک ہے لیکن کام کروانے والے لوگ پانچ چھ سو سے اُوپر نہیںدیتے‘ان کی مجبوری اور اس بات کا احساس نہیں کیا جاتا کہ ان کا بھی خاندان ہے اور ضروریات زندگی ہیں۔

 جن کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے‘اگر انہیں آنے والے دنوں میں کام نہیں ملتا تو وہ اسی میں گزارہ کریں گے‘ان کے بچے تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھ سکتے‘ایک فلاحی ریاست کے طور پر ہمارااولین فرض ان محنت کشوں کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے ہنر کی قدر کرنا ہے‘تفریق کے ذریعے ان کے حقوق کو نظر انداز کرنے کی بجائے پورا کرنا ضروری ہے‘مغرب کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے ہنر اور کام کی قدر کی ہے‘یہ نہیں دیکھا کہ کام کرنے والا کون ہے‘کہاں رہتا ہے اور اس کی ذاتی حیثیت اور حالات کیسے ہیں‘ایک مزدور کو بھی ہر وہ سہولت حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو ہے‘طبقے تو ہر ملک اور معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن مواقع فراہم کرنا کہ محنت کرنے ولا اور ہنر مند بھی کسی مقام پر پہنچے اور اپنے خاندان کو بنیادی سہولت فراہم کرے ضروری ہے‘مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے‘اسی سے محنت اور مزدوری کی قدر ومنزلت کا اندازہ ہوتا ہے‘ آج کے دن مزدور تنظیمیں اور مزدور نمائندے مختلف نشستوں کا اہتمام کرتے ہیں‘ان نشستوں میں مزدور روں کے مسائل کا تذکرہ ہوتا ہے حکومتی نمائندے آتے ہیںخوش کن وعدے کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں‘یوں یہ رسم یوم مزدور تمام ہوتی ہے‘اس بار بھی یوم مزدور کے حوالے سے ہونے والی متعدد تقریبات میں مزدور تنظیموں کے اعلامیے اور اعلانات جاری ہوئے ‘کوئی حکومت کے نجکاری پروگرام پر سراپااحتجاج ہے ۔

تو کسی کو مزدوروں کی سوشل سیکورٹی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں اور کہیں کہیں مزدور خواتین سے روارکھے جانے والے سلوک پر گلے شکوے ہیں‘سب سے اہم یہ کہ مزدور بھائیوں سے متعلق ان اہم مسائل کے حل کے لئے قانون سازی اور موجودہ مزدور متعلق قوانین پر فوری اور موثر عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے‘بہت اچھا ہے‘مگر کیا یہ قوانین بنا لینا اور ان پر عملدرآمد مزدوروں کے مسائل کا حل ہیں ؟ یوم مئی جوکہ مزدوروں کا دن ہے بہتر تویہ ہوتا کہ اس دن پر ان مزدوروں کی بات کر لی جاتی جو کہ مزدور ہوتے ہوئے بھی مزدور نہیں‘حکومت پر دباو¿ڈالا جاتا کہ غیر رسمی مزدور طبقہ کو حکومتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے کیوں کہ مزدوروں کی اتنے بڑی تعداد کو حکومتی ریکارڈ میںلائے بغیر قانون سازی اور حقوق کی باتیں کرنا ہوا میں قلعے بنانے جیسا ہے‘اس کایہ مطلب ہر گز نہیں کہ رسمی مزدور طبقہ کے معاملات پر بات نہ کہ جائے ‘ضرور کی جائے مگر غیر رسمی مزدور طبقہ کے مسئلہ کو زیر بحث لائے بغیر مزدور حقوق کی بات کرنا ہے تو اس دن کا نام بھی رسمی یوم مزدور رکھ لیا جائے‘مزدوروں کا عالمی دن منانے کا مقصد یہی ہے کہ ہر سطح پر مزدور وں کے حقوق کا تحفظ کرنے کا تجدید عہد کیا جائے ‘ انہیں ان کا جائز حق دیا جائے اور انہیں بھی دوسروں کی طرح مواقع فراہم کیے جائیں ۔