102

جدید برادری ازم

گزشتہ روز کسی کام سے سیکرٹریٹ جاناہوا بدقسمتی سے غلط راستے پرچل پڑے خیبربازار سے جونہی سورے پل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو ٹریفک جام نے ہمار ااستقبال کیا بدترین ٹریفک جام نے ا س روزپورے شہر کو لپیٹ میں لیاہواتھا یہ حقیقت ہے کہ پشاور ٹریفک کی رگ جاں سورے پل ہے اگر کسی دن شہر میں ٹریفک جام کراناہوتو اسمبلی کے سامنے یاسورے پل کے نیچے مظاہر ہ رکھوادیں پھر شہریوں کااللہ ہی حافظ ہے اس روز بھی یہی ہوا پتہ چلاکہ پلاسٹک بیگ پرپابندی کے خلاف شہر کی تاجر برادری سراپا احتجا ج بنی ہوئی ہے ان کہناہے کہ حکومت پلاسٹک بیگز پر پابندی لگاکر ان کو بھوکا مارنا چاہتی ہے اس مظاہر ے کی وجہ سے پھر گھنٹوں ہزاروںشہری ٹریفک جام میں خوار ہوتے رہے ہم نے سناتھاکہ براردی ازم معاشروں کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہے مگر اب ہم اکیسویں صدی میں وطن عزیز میںاس کی نئی شکل یعنی جدیدبرادری ازم کاعملی مظاہرہ دیکھ بھی رہے ہیں ہر برادری اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سرگرم ہے ہمارا معاشرہ اب جدید برادری ازم کاشکارہوکر لاتعداد خانوںمیں بٹ چکا ہے اس جدید برادری ازم نے قوم کو نگل لیاہے اجتماعی سوچ ختم ہوگئی ہے ہربرادری صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل ہے پہلے کے معاشروںمیںذات پات اورزبان کی بنیاد پر برادریاں ہوا کرتی تھیں مگر اب کاروباری،پیشہ ورانہ اور مالی مفادات کی بنیاد پر برادریاں وجودمیں آچکی ہیں ادھر حکومت نے کوئی قدم اٹھا یا ادھر کوئی نہ کوئی برادری علم احتجاج بلند کرکے میدان میں کود پڑی حکومت نے میڈیاکی طرف سے باربار کی نشاندہی اور ماہرین کی آراءکی روشنی میں پلاسٹک بیگز کو ماحولیا ت کیلئے زہر قاتل قراردیتے ہوئے بڑی مشکل سے اس پرپابندی کیلئے قانون سازی کی اور اب اس قانون سازی کو عملی صورت دینے کیلئے میدان میں نکل پڑی ہے ۔

مگر وسیع تر عوامی مفاد تو اب کسی کا مطمح نظر ہی نہیں رہا چنانچہ اب تاجر برادری اس پابندی کے خلاف میدان میں نکل آئی ہے ان کاکہناہے کہ حکومت مضر صحت بائیو ڈی گریڈیبل کیمکل سستے داموںمنگواکرہمیں مہنگے داموںبیچ رہی ہے مگر ہم یہ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے حکومت نے ڈاکٹروںکے آبائی اضلاع تبادلوںکیلئے پالیسی بنائی تو ڈاکٹر برادری نے ہڑتال کردی اور اس کاسارانزلہ مجبور اور بے بس مریضوںپر گررہاہے ڈاکٹر برادری کو اس وقت صرف اپنے تبادلے منسوخ کرانے سے غرض ہے اسے مریضوں کی مشکلات سے کوئی سرو کار نہیں حکومت نے باربار حادثات کے بعدپبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی کے استعمال پر پابندی لگادی جو دیرینہ عوامی مطالبہ تھا مگر اب ٹرانسپورٹ برادری ڈنڈے لے کر نکل آئی ہے وہ ہرصورت چندر وپے زیادہ کمانے کی خاطر سی این جی کے استعمال پر بضد چاہے کچھ بھی ہو مگر انکامنافع کم نہیں ہوناچاہئے۔

 حکومت جب کبھی سرکاری سکولوںکے حوالہ سے پالیسی بناتی ہے تو پھراساتذہ ایک برادری کی شکل میں نکل آتے ہیں ،آخر کس کس برادری کاذکر کیا جائے ،کلرک برادری ، وکلاءبرادری‘ طلبہ برادری ،لیکچرر برادری ،یہ قوم یہ معاشرہ آخر اور کتنی برادریوں میں بٹے گا‘ تاجربرادری جس معاملہ پر احتجاج کررہی ہے اس میںدیگر تمام برادریوں کامفاد پوشیدہ ہے یعنی جو برادری اپنے لئے جو مفاد چاہتی ہے وہ دیگر برادریوں کے مفاد کےخلاف جاتی ہے سو ہمیں اس چکرسے نکل کر اجتماعی سوچ کی طرف آنا پڑے گا ‘ بڑی مشکل سے سوشل میڈیا کے اس دور میںقدیم برادری ازم کی موت دکھائی دینے لگی تھی کہ مفادات کی بنیادپر تشکیل پانے والے جدید برادری ازم نے معاشرہ کو لپیٹ میںلیناشروع کردیاہے اگر صرف برادریوںکے مفادات کاتحفظ ہی کرناہے تو پھر عام اوربے بس شہری کے مفادات کو کون پوچھے گا جو اکثریت میں تو ہیںمگر سب سے بے بس اورکمزور ہیں شایداسلئے کہ ان کی کوئی برادری نہیں مگر یاد رکھناچاہئے کہ جب یہ مل کر ایک برادری بن گئے تو پھر انفرادی سوچ والوںپر جو ضرب کاری پڑے گی اس کااندازہ لگانا مشکل نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔