158

فیس بک کا نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

فیس بک نے نفرت انگیز مواد شیئر کرنے پر سیاہ فام حقوق کے رہنما لوئس فراکان، دائیں بازو کے الیکس جونز اور متعدد دیگر افراد کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور انسٹاگرام کے اکاﺅنٹس بین کردیئے ہیں۔

فیس بک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہم ہمیشہ ایسے افراد یا اداروں پر پابندی عائد کرتے ہیں جو تشدد اور نفرت کو فروغ یا اس کا حصہ بنتے ہیں، چاہے ان کا نظریہ جو بھی ہو۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس مقصد کے لیے ان افراد کی پوسٹس میں سائٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی کا تجزیہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ان کے اکاﺅنٹس پر پابندی عائد کی جائے۔

کمپنی نے کہا کہ اس کی جانب سے انتہا پسند پال نیہلن، میلو یاننوپولس، پال جوزف واٹسن، لورا لومر اور دیگر پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

الیکس جونز پر فیس بک پر تو پابندی پہلے سے عائد تھی اب انسٹاگرام اکاﺅنٹ بھی بند کردیا گیا۔

فیس بک نے مارچ میں سفید فام نسل پرستی کے خلاف اپنی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اس موقع پر فیس بک کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی نے سفید فام قوم پرستی اور نسل پرستی سے متعلق پوسٹس، تصاویر اور دیگر مواد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ مختلف حلقوں کی تنقید کے بعد کیا گیا جس میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نسل پرستی کے پھیلنے میں سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

پہلے فیس بک کی جانب سے صارفین کو ایسے پیغامات شیئر کرنے سے روکا جاتا ہے جس میں سفید فام بالادستی کو اجاگر کیا جاتا ہے مگر سفید فام قوم پرستی، نسل پرستی اور دیگر مواد سے نظرچرا لی جاتی ہے۔فیس بک نے اپریل میں نئے قوانین کے نفاذ کیا جس کا اطلاق انسٹاگرام پر بھی کیا گیا۔

فیس بک پر سفید فام نسل پرستی 2017 کے بعد سے زیادہ تیزی سے پھیلنا شروع ہوئی تھی اور گزشتہ سال ایک دستاویز سامنے آئی تھی جس میں انکشاف ہوا تھا کہ فیس بک میں سفید فام نسل پرستی کی ستائش، سپورٹ اور نمائنسدگی کی اجازت دی گئی ہے۔

اس دستاویز کے بعد فیس بک پر شدید تنقید ہوئی تھی۔

فیس بک کی اے آئی ٹیکنالوجی بھی اکثر ایسی پوسٹس کو پکڑنے میں ناکام رہتی ہے جس کی ایک مثال کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر دہشتگرد حملے کی فوٹیج وائرل ہوجانا تھا، جس کی فوری روک تھام میں یہ کمپنی ناکام رہی۔