110

ڈرائیونگ کے آداب

نہ تو میں ڈرائیونگ سے حظ اٹھاتا ہوں اور نہ ہی ڈرائیونگ کا شوق ہے۔ حتیٰ کہ جب کوئی اور بھی ڈرائیو کررہا ہو تو میں باہر سڑک پر دیکھنے سے احتراز کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کسی کی غلط ڈرائیونگ سے مجھے بھی غصہ چڑھ جائے۔ پھر ایک شخص اپنا دل جلا ہی رہا ہے تو مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں بھی اُس کے ساتھ فرضی بریک اور ایکسلریٹر پر پاﺅں مارتا رہوں‘اس لئے گاڑی ہوتے ہوئے بھی اگر ڈرائیور نہ ہو تو میں ٹیکسی یا اب خدا کریم اور اوبر کا بھلا کرے‘ سے ہی استفادہ کرتا ہوں۔ اس دوران میں اپنے آئی پیڈ پر کوئی کتاب پڑھ لیتا ہوں۔ لیکن باہر دیکھنے سے گریز ہی کرتا ہوں۔ کل میری ایک اہم میٹنگ تھی اور مجھے دیر ہورہی تھی۔ میں نے کریم منگوائی۔ میں نے اس میں اپنا کریڈٹ کارڈ دیا ہوا تھا ۔آدھے رستے میں ڈرائیور کو پتہ چلا کہ میں تو کارڈ سے ادائیگی کروں گا تو وہ نقد لینے پر مصر ہو گیا۔ میرا پارہ چڑھ گیا اور ایک دو سنادیں اُسے۔ اسی وقت میں فون پر ایک دوست سے باتیں کررہا تھا۔ اس نے غصے پر قابوپانے کی ہدایت کی اور میں اپنے حواس میں واپس آیا۔ اپنے آپ پر غصہ بھی آیا کہ بھلا یہ بھی کوئی چڑ نے والی بات تھی۔ چنانچہ میں نے کریم کے کیپٹن سے معافی مانگی اور منزل پر پہنچنے پر اسے نہ صرف نقد پیسے دئیے بلکہ کارڈ سے بھی منہا ہونے دےئے۔ سڑک ایک بہت ہی جھنجھناہٹ والی جگہ ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو ہر قسم کی گاڑیاں اپنے ہی چال پر چل رہی ہوتی ہیں۔ نہ دائیں کی پرواہ نہ بائیں کی۔ راﺅنڈ اباﺅٹ ہو یا دو رویہ سڑک ‘ مخالف سمت سے ڈرائیونگ پر کوئی شرماتا ہی نہیں۔

 اب گدھا گاڑی یا رکشہ ایسا کام کرے تو بندہ نظر انداز بھی کرے۔ کوفت اس وقت ہوتی ہے جب اچھی خاصی قیمتی گاڑی میں بیٹھے اچھے بھلے تعلیم یافتہ افراد بھی ٹریفک قوانین کو پاﺅں تلے روندنے میں دیر نہیں لگاتے۔پرسوں جب ایسے ہی ایک لینڈکروزر والے نے بائیں ہاتھ سے میرا رستہ کاٹا اور آگے جاکر جنرل سٹور پر کھڑا ہوگیا تو دل چاہا کہ اسے کہوں کہ اللہ نے اتنی بڑی اور قیمتی گاڑی دی ہے اور دل رکشے والا کا رکھا ہے۔ آپ قیمتی گاڑی میں بیٹھے ہوں یا موٹر سائیکل پر جارہے ہوں‘راستے کے اخلاقیات کا خیال رکھنا آپ کو نہ صرف پرسکون رکھتا ہے بلکہ آپ دوسروں کی دعاﺅں کے حقدار بھی بنتے ہیں۔ آگے سے پیدل سڑک پارکرنے والوں کیلئے گاڑی روک لی تو ان کی دعائیں بے جا نہیں جائیں گی۔ سڑک پر پانی ہو اور قریب کوئی شخص جارہاہو تو گاڑی آہستہ کرنے میں اس کے کپڑے گندے ہونے سے بچ جائیں گے‘ آپ سے آگے کوئی گاڑی آہستہ جارہی ہو خصوصاً جب کوئی خاتون چلارہی ہوں تو ہارن دینے کی بجائے ذرا تحمل سے کام لینا نہ صرف آپ کو غصے سے بچاتا ہے بلکہ ان کی مجبوری کو بھی سمجھ لیں گے۔ خصوصاً کوئی سست رو گاڑی سامنے ہو اور آپ قیمتی اور بڑی گاڑی میں بیٹھے ہوں تو رعونت سے کام لینے کی بجائے خدا کا شُکر ادا کریں کہ اللہ آپ کو اسکی جگہ بھی رکھ سکتا تھا۔پیسے کمانا ‘اچھی گاڑی لینا اور سٹائل میں رہنا کوئی بڑی خوبی نہیں ۔ خوبی یہ ہے کہ آپ اللہ کی اس نعمت کا شکر کیسے اداکرتے ہیں ۔ وہ دینے والا ہے ۔ کہتا ہے کہ اگر تم شکر کروگے تو میں زیادہ دوں گا۔ سب سے آسان صدقہ دوسرے سے مسکراکر بات کرنا ہے۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے آپ دوسری گاڑی والے سے بات تو نہیں کرسکتے لیکن ایک مسکراہٹ تو اچھال سکتے ہیں ناں۔

اپنی ائرکنڈیشنڈ گاڑی کے شیشے میں سے کسی پسینے سے شرابور موٹر سائیکل سوار کو ہاتھ تو ہلاسکتے ہیں۔ ٹریفک کے مارے سب سے زیادہ تکلیف میں ٹریفک پولیس اہلکار ہوتے ہےں جو جاڑے ‘دھوپ میں لگاتار ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں مگن ہوتے ہیں۔ اسلئے جب وہ آپ کو رُکنے کا اشارہ کریں تو ان کی عزت رکھیں اور آپ کو جانے کا اشارہ کریں تو ایک سلام اچھال کر جائیں۔ رات کو خصوصاً سامنے سے آنے والوں کی آنکھوں کو چندھیانے والی لائٹوں سے محفوظ کریں۔ چوک میں سامنے سے خواتین گزررہی ہوں تو لائٹس تھوڑی دیر کیلئے بالکل مدہم کردیں تاکہ ان کو سپاٹ لائٹ میں ہونے کا احساس نہ ہو۔اسی طرح سے اگر رستہ بند ہو اور کوئی آپ کو گزرنے دے تو ضرور ہاتھ سے اسکا شکریہ ادا کریں۔ اور اگر آپ کو ناگوار نہ ہو تو ضرور کسی کو آگے نکل جانے دیں ۔ کیا معلوم اسے آپ سے زیادہ جلدی ہو۔ اسے کوئی ایمرجنسی پیش آئی ہو۔ موٹر کار والوں کو اکثر بڑے ٹرک اور بسوں سے بڑی کوفت ہوتی ہے۔ تاہم ان بڑی گاڑیوں کا چلانا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ ان کے گیئر بھی کافی ہوتے ہیں اور ایک گیئر سے دوسرے میں بدلنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ چڑھائی پر چڑھتے ہوئے کافی زور لگانا پڑتا ہے۔ ہمیں سب سے زیادہ جلدی اسی لئے ہوتی ہے کہ گھر سے نکلتے وقت ہم وقت کا احساس نہیں کرتے۔اگر رستہ آدھے گھنٹے کا ہو تو ایک گھنٹہ قبل نکلنے سے بالکل بھی الجھن نہیں ہوگی۔

میرے کئی دوست و احباب جو وقت کی پابندی کا احساس کرتے ہیںوہ تو اپنی گھڑی بھی ہمیشہ دس پندرہ منٹ آگے رکھتے ہیں۔ صرف ایک یہی خیال رکھنے سے رستے کی الجھن ختم ہوجاتی ہے۔ جلدی بھی نہیں ہوتی اور غصہ بھی نہیں آتا۔ گاڑی رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ اگر پیدل چلنے والے اور سائیکل رکھنے والے لوگ بھی یہ احساس کریں کہ گاڑی چلانے والے کو رکنے کے لئے وقفہ چاہئے ہوتا ہے کہ آنکھوں سے دماغ اور دماغ سے پیر تک ردّعمل پہنچنے میں وقفہ ضرور لگتا ہے۔ دوسری گاڑی کے بہت نزدیک جانے سے ڈرائیور بدک سکتا ہے۔ رات کو گہرے رنگ کے کپڑے پہن کر سڑک پر چلنا بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ لائٹ کے باوجودآپ نظر نہیں آسکتے ۔ اس لئے ان کو بھی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بس اک ذرا تحمل ۔ پلیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔