117

آبی ذخائر‘سیاسی گرما گرمی

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ڈیم کی تعمیر سے سستی بجلی کا حصول ممکن ہوگا3لاکھ 9ہزار ملین سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ڈیم800میگاواٹ بجلی دے گا پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے 2024ءتک کا وقت دیا جارہا ہے‘ مہمند ڈیم 17ہزار ایکڑ کے قریب اراضی کو سیراب کریگا‘ مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے کام سپریم کورٹ آف پاکستان نے شروع کیا‘ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ڈیم کے کام میں شفافیت اور مقررہ وقت میں تخمینہ لاگت کے اندر تعمیر کو ناگزیر قرار دیتے ہےں‘ مہمند ڈیم بعدازخرابی بسیار سہی ایک قابل اطمینان منصوبہ ہے تاہم وطن عزیز کی ضروریات کے تناظر میں اسے کسی صورت کافی قرار نہےں دیا جاسکتا‘ یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی ہماری حکومتوں نے ملک پر بیرونی قرضوں کا حجم تواتر کے ساتھ بڑھایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ہر حکومت نے معیشت کی خرابی کو اپنے سے پہلے حکمرانوں کے کھاتے میں ڈالا اور یہ سلسلہ بھی ابھی تک جاری ہے‘ ملک میں دستور کے اندر ترامیم سمیت بہت سارے اہم معاملات پر سیاسی قیادت نے باہمی رابطے بھی کئے اور اتفاق رائے سے فیصلے بھی اس سارے عرصے میں توانائی بحران ملکی اکانومی کے ساتھ عام شہریوں کے لئے مشکلات کا باعث بنتا رہا اور قومی قیادت آبی ذخائر کے معاملے پر آنکھیں بند کئے رہی۔

اس دوران اگر بات ہوئی بھی تو سیاسی قیادت کے اختلافات سامنے آئے ضرور لیکن ان پر مل بیٹھ کر بات کرنے سے گریز کیا جاتارہا‘آج بھی اگر صرف مہمند ڈیم پر ہی اکتفا کرکے بیٹھا جائے تو مسئلہ مزید شدت اختیار کرتا چلا جائے گا جبکہ اس کے حل کے لئے سیاسی فضا کی گرما گرمی کا کم ہونا اور مل بیٹھ کر وسیع قومی مفاد میں بات کرنا ضروری ہے‘ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے اور اپنے منشور کے پرچار پر کوئی پابندی نہےں ہوتی ہر جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا حق ہے تاہم مخالفت کے ماحول میں بھی کم ازکم اہم قومی معاملات پر یکجا ہوکر فیصلے کرنا ضروری ہوتے ہےں اس وقت معیشت اور توانائی بحران کے حوالے سے جس قدر چیلنج درپیش ہےں ان کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت آبی ذخائر کے حوالے سے طویل اور مختصر مدت کے منصوبوں کے لئے حکمت عملی طے کرے۔

نیپرا کا اعلامیہ
 
بجلی کے بلوں میں 40فیصد مزید اضافہ ہوگیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے نیپرا نے اعلامیہ جاری کردیا ہے‘ بجلی کے نرخ بڑھانا مرے ہوئے کو مارنے کے مترادف ہے بجلی کے بل بڑھانے کے ذمہ دار ادارے اپنی اس ذمہ داری کے احساس سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہےں کہ بھاری بل ادا کرنے والے صارفین کس قدر مشکلات کا سامنا کررہے ہےں یہ مشکلات صرف لوڈشیڈنگ میں نہےں بجلی کی ترسیل کے ناقص اور بوسیدہ نظام اورمرمت کے لئے ناکافی انتظامات کے حوالے سے ہےں آندھی کا ایک جھونکا بعض علاقوں میں دو دو روز بجلی کی بندش کا ذریعہ بن جاتا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہےں بجلی بلوں میں غلطیاں علیحدہ ہیں‘ بلوں کی تقسیم اور ادائیگی کے لئے مہینے کی آخری تاریخیں جرمانوں کا حجم بڑھاتی ہےں جبکہ بینکوں کے سامنے قطاریں علیحدہ ہےں ان تمام معاملات پر بل بڑھانے والے اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ضرور کرنا ہوگا۔