119

آئی جی کی واضح سمت

 قبائلی اضلاع میںپولیس سسٹم کے نفاذ کی طرف عملی پیشرفت تیز ی کےساتھ جاری ہے قبائلی اضلاع کے صوبے مےں انضمام کے بعددیگرتمام محکموںکوان علاقوںتک توسیع دےکر وزراءکے دوروںکاسلسلہ بھی شروع کردیاگیاتھا مگر سب سے زیادہ مزاحمت پولیسنگ کے معاملہ پردیکھنے میں آئی کیونکہ اس معاملہ میں بیوروکریسی‘انضمام مخالف جماعتیں‘ مقامی مراعات یافتہ طبقات کاغیر اعلانیہ اتحاد ہو چکا تھا‘سابق آئی جی صلاح الدین محسودکی پالیسی پولیس سسٹم کو قبائلی اضلاع تک فوری طورپرلے جانے کی تھی اور انہوں نے راقم کے سامنے کئی بار اس حوالہ سے کھل کر خیالات کااظہار کیاتھا تاہم اس دوران انکاتبادلہ کردیاگیا کہا جارہا تھاکہ ایک اہم شخصیت کےساتھ پولیسنگ کے حوالہ سے پیدا شدہ اختلافات کے نتیجہ میں ان کی قربانی دی گئی جسکے بعدڈاکٹر محمدنعیم کو نیا آئی جی مقر ر کیاگیاہم جیسوں کے دلوں میں وسوسے جنم لینے لگے مختلف خیالات پریشان کرنے لگے کہ کیاواقعی انضمام کے عمل کو ریورس گیئر لگایاجارہاہے‘ افواہوں کابازار گرم ہوچکاتھادیکھنا اب یہ تھاکہ پالیسی کیا بنتی ہے اور اس میں یقینا نئے پولیس چیف کا کردار اہمیت کاحامل تھا اگر ان کی طرف سے روایتی سرخ فیتے کی حامل پالیسی اختیار کرلی جاتی تو پھر علاقہ میں پولیسنگ کی شروعات خواب و خیال بن کررہ جاتی‘ ایسا ہونے کی صورت میں تمام کئے کرائے پر پانی پھر سکتاتھا مگر ایک تو وزیر اعلیٰ محمود خان اس حوالہ سے واضح سوچ رکھتے ہیں دوسرے موجود ہ آئی جی کی طرف سے چارج سنبھالنے کےساتھ ہی پولیسنگ کے حوالہ سے پیدا کی جانےوالی کنفیوژن دور کرنے کےلئے تیز رفتار اقدامات شروع کردیئے گئے اگرچہ انکے بعض ’بہی خواہوں۔

‘کی طرف سے ان کو باربار پولیس کی لاج رکھنے کے پیغامات دےکربیوروکریسی کےساتھ تصادم کی ر اہ پر ڈالنے کی غیر محسوس انداز میں کوششیں بھی کی گئیں مگر ان کاتعلق اسی صوبہ سے ہے اورطویل عرصہ سے مسلسل یہیں پر تعینات چلے آرہے ہیں اس لئے بڑی ہی ملائمت کےساتھ بہی خواہوں سے پیچھا چھڑاتے ہوئے ان پرواضح کردیاکہ ہمارے صوبہ کامزاج مفاہمانہ ہے مخاصمانہ نہیں‘یوں انکو خاموش کرادیاتاہم صحافیوں کےساتھ رابطے نہ ہونے کے برابر تھے موجودہ آئی جی پولیس ڈاکٹر محمد نعیم کوعہد ے کا چارج سنبھالے دو ماہ سے زائد کاعرصہ ہو چکا تھا عام طور پر نئے آئی جی ابتدائی دنوںمیں ہی سینئر صحافیوں کےساتھ ملاقا ت کرکے بہت سے اموپر کھل کر اظہار خیا ل کرتے آرہے تھے مگر موجودہ آئی جی کو مخصوص حالات میں چارج لیناپڑاتھا غالباً یہی وجہ تھی کہ ان کی صحافیوںکےساتھ ملاقات تاخیرکاشکارہوتی چلی گئی جس پر کافی چہ میگوئیاں بھی ہوئی تھیں‘تاہم گذشتہ ہفتہ انہوں نے کرائمز رپورٹرز اور بیورو چیفس‘ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں کےساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں ‘ہمارا خیال تھاکہ پریس بریفنگ جیسی بات چیت ہوگی مگر جب آئی جی نے بات شروع کی تو ان کو تجویز دی گئی کہ ہم قلم کاغذبند کرلیتے ہیں پریس بریفنگ کے بجائے کھل کر مختلف امور پر تبادلہ خیال کیاجائے تو زیادہ بہتر رہے گاتاکہ ہمارے سامنے آپکی ترجیحات اور اصل صورتحال کھل کر آسکے‘ انہو ں نے بھی اپنی روایتی مسکراہٹ کےساتھ اس سے اتفاق کیا جسکے بعدقبائلی اضلاع میں پولیسنگ سے لےکر پوسٹنگ ٹرانسفرز اور تھانوں کے ماحول سے لےکر حیات آباد آپریشن تک ہمارے تمام تلخ سے تلخ سوالوں کا انہوںنے تفصیل سے جواب دیا۔

عام پولیس افسران کے برعکس خشک بات کرنے کے بجائے انکی گفتگو میں فلسفیانہ رنگ غالب رہا کھلے ڈھلے انداز میں تمام حقائق بیان کئے اپنے گلے بھی کئے اورہمارے شکوے بھی سنے یہ بات واضح ہوگئی کہ قبائلی اضلاع میں پولیسنگ اور سول بیوروکریسی کےساتھ تعاون کے معاملہ میں انکی سوچ اورسمت بہت واضح ہے اور سسٹم کی کامیابی کےلئے سوچ اورسمت کاواضح ہونا بنیادی اہمیت رکھتاہے ساتھ ہی وہ حکومتی پالیسیوںکے عملدرآمدمیں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو بھی ناکام بنانے کےلئے پرعزم دکھائی دیئے ا نہوں نے پولیس مےں احتساب کاسلسلہ جاری رکھنے کابھی فیصلہ کیاہے جو ظاہرہے پولیس کی تطہیر کےلئے ضروری ہے‘ انکے عزائم خوش آئند قراردیئے جاسکتے ہیں تاہم ساتھ ہی اس حوالہ سے سابق آئی جی صلاح الدین محسود کے اقدامات کوبھی یاد رکھناضرور ی ہے امید رکھی جانی چاہئے کہ ڈاکٹر محمدنعیم کی کوششیں اورمحکمہ پولیس کے بعض دیرینہ امراض کے حوالہ سے انکی سرجری کامیابی سے ہمکنا رہوگی جسکے بعد قبائلی اضلاع میں تبدیلی کی حقیقی لہر واضح طور پر محسوس کی جاسکے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔