113

دل نداردعذربسیار

 کئی لوگوں کو ’جس پاس‘ کی ترکیب شاید عجیب لگے لیکن اساتذہ نے اردو زبان میں اس کے استعمال کو درست قرار دیا ہے بعض مقامات پر لفظ پاس کا استعمال بغیر مرکب بڑا جاذب ہے مثلاً جس پاس ‘ کس پاس ‘ مجھ پاس بقول داغ

کون آتا ہے برے وقت کس پاس اے داغ
چچا غالب نے اردو زبان کی اس ترکیب کو روزے کے بارے میں اپنے چند اشعار میں کیا خوب استعمال کیا ہے وہ فرماتے ہیں ۔
افطار وصوم کی جسے کچھ دستگاہ ہو
 اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
 روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے

تو جناب ماہ صیام آن پہنچا ہے چند دنوں کی بات ہے 7 مئی2019ءکو بہرحال پہلا روزہ ہو گا ہو سکتا ہے 6 مئی کو ہی رمضان شریف شروع ہو جائے‘ گرمی ہو کہ جاڑا جنہوںنے روزے رکھنے ہوتے ہیں انہوں نے بہرحال روزے رکھنے ہیں وہ موسموں کا خیال نہیں کرتے ”دل ندارد عذر بسیار“ والی بات البتہ اور ہے اگر کسی کا کسی چیز کو کرنے کا دل نہ ہو تو عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے‘ روزہ کھانے پر جو لوگ تلے ہوں وہ اس کیلئے سو بہانے بنا لیتے ہیں اس ماہ حریص تاجروں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے ان کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ ماہ صیام کے دوران کن کن اشیائے خوردنی کی لاگت یا کھپت یا استعمال بہت زیادہ ہو جاتا ہے چنانچہ اس مقدس مہینے سے پندرہ بیس روز قبل ہی وہ ان اشیاءکا ذخیرہ اپنے گوداموں میں کرکے مارکیٹ میں انکی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں اورپھر رمضان شریف میں ان کو دھیرے دھیرے منڈی میں لا کر منہ بولے دام پر بیچتے ہیں اور راتوں رات موٹی رقم کما لیتے ہیں‘یہ اور بات ہے کہ غریب لوگوں کی بددعاﺅں کا بھی وہ نشانہ بنتے ہیں لیکن ان کو عاقبت کی کوئی پرواہ نہیں ‘یہ وہ لوگ ہیں کہ حقوق العباد اور حقوق اللہ میں توازن بالکل نہیں رکھتے ‘ظاہری طور پر تو یہ لوگ اچھے ہیں لیکن غریب عوام کے معاشی استحصال کیلئے نت نئے حربے ایجاد کرتے ہیں‘ایک دور ایساضرور گزرا ہے کہ جب میونسپل مجسٹریٹ یا خصوصی مجسٹریٹ اشیائے خوردنی کی مارکیٹوں اور منڈیوں پر عقابی نظر رکھتے تھے اور دکانداروں کوقیمتوں کے اتارچڑھاﺅ میں من مانیاں کرنے نہ دیتے تھے لیکن ایک عرصے سے اس محاذ پر حکومت کی رٹ بالکل نہیں دکھائی دیتی۔

 لگتا یوں ہے کہ ریاست نے مارکیٹ کو اپنے حال پر چھوڑ دی ہے یہ درست ہے کہ منڈیاں ڈیمانڈ اور سپلائی کے کلئے پر چلا کرتی ہیں لیکن ریاست ان ممالک میں مارکیٹ اکانومی میں مداخلت سے احتراز کرتی ہے کہ جہاں کنزےومر سوسائیاں مضبوط ہوں اور ان کا جال ملک میں جگہ جگہ پھیلا ہوا ہے اور جہاں مسابقتی کمیشن اور ادارے غیر معمولی طور پر متحرک ہوں ‘وطن عزیز میں تو صارفین کمیٹیوں کا منظم وجود ہی نہیں کہ جو حریص تاجروں کو نکیل ڈال سکیں‘ اگر کسی جگہ وہ موجود بھی ہوںتو نہایت کمزور ہیں انکا وجود نہ ہونے کے برابر ہے‘ اس صورتحال میں اگر ریاست بھی عوام کو موقع پرست حریص تاجروں کے رحم و کر م پر چھوڑ دے تو پھر توبس غریب عوام کا اللہ ہی حافظ‘ آج زمینی حقائق یہ ہیں کہ ابھی روزے شروع ہی نہیں ہوئے اور اشیائے صرف کی قیمتیں حسب معمول اور حسب روایت آسمان سے باتیں کرنا شروع ہو گئی ہیں سالانہ بجٹ میں ان میں مزید اضافہ ہوناہے جو یقینا غریبوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے اس ملک کا عام آدمی ریاست کے وجود کو تب مانے گا جب وہ دیکھے گا کہ اسکے علاقے کا تھانیدار اورعلاقہ مجسٹریٹ او ر سی آئی ڈی کا محکمہ اتنا دیانتدار اور متحرک ہو گیا ہے کہ اس کے دائرہ اختیار میں کوئی بھی تاجر اشیائے صرف کی ذخیرہ اندوزی کسی گودام میں نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ اشیائے خوردنی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نرخ سے زیادہ فروخت کرنے کی جرات کر سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔