399

شاہراہ ریشم اور امریکہ

شاہراہ ریشم ےعنی سلک روٹ سے امریکہ کے پیٹ میں سخت مروڑ پڑ رہا ہے جسکی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہو رہا ہے‘ زمانہ قدیم میں اسی رستے چین ایشیا اور یورپ سے دو طرفہ تجارت کیا کرتا تھا‘ یہی وہ روٹ تھا جس پر سفر کرکے معروف اطالوی سیاح مارکو پولو1271 اور 1295 کے درمیان اٹلی سے چین گیا تھا اور وہاں اس نے زندگی کے17 برس گزارے‘ چین کے اسوقت کے حکمران قبلائی خان کا بیٹا اسکا دوست بن گیا اور اس نے کافی عرصے تک مارکو پولو کو اپنا مہمان ٹھہرایا اور وہ اسے واپس اٹلی جانے نہ دیتا تھا‘ چین نے اسی پرانے تجارتی روٹ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے بحال کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور کئی ممالک سی پیک کے منصوبے میں دھڑا دھڑ شامل ہو رہے ہیں‘امریکہ اس عظیم چینی ترقیاتی منصوبے پر سخت پریشان بھی ہے اور اس سے خائف بھی‘ اس کو کیا پتہ تھا کہ سوویت یونین کو توڑنے کے بعدچین کی شکل میں عالمی سیاست کے افق پر اسکا دوسرا حریف پیدا ہو جائے گا‘کئی یورپین ممالک نے چین کو سی پیک میں شامل ہونےکا عندیہ دےدیا ہے‘ جرمنی اور برطانیہ نے تو پہلے ہی سے ریل کے ذریعے چین کےساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات استوار کرلئے ہیں ایک زمانہ تھا جب سلک روٹ پر تجارتی سامان کو گھوڑوں او ر اونٹوں پر لادکر لے جایا جاتا تھا‘ ایشیا میں پے درپے جنگوں اور یورپ میں بحری ٹرانسپورٹ کے فروغ سے اس رستے کا استعمال تقریباًبند ہو چکا تھا او ر نہر سویز کے اجراءکے بعد تو جیسے اسکی ثانوی حیثیت ہو گئی تھی۔

 اب تک 126 ممالک نے سی پیک میں شمولیت کیلئے تحریری سمجھوتے کر لئے ہیں جن میں قزاکستان ‘ جبوتی ‘اٹلی ‘ انڈونیشیا اور پاکستان بھی شامل ہیں ‘ اس منصوبے میں ریلوے کے ذریعے چین‘ جنوبی ایشیا ‘ وسطی ایشیا ‘روس‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ ترکی اور یورپ کے درمیان تجارت ہو گی اس میں جنوب مشرقی ایشیا‘ افریقہ اور روس کے شمالی سمندری روٹس بھی استعمال ہوں گے‘ ایک اندازے کے مطابق سی پیک کے منصوبے سے دنیا کی 70 فیصد آبادی معاشی طور پر مستفید ہو سکے گی‘ اس وقت امریکہ دنیا میں اگر کسی ملک کو صحیح معنوں میں اپنا سیاسی حریف تصور کرتا ہے تو وہ چین ہے کسی دور میں وہ سوویت یونین کے درپے تھا اور بالاآخر اس نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی چھوڑا ‘روس کے کٹر قسم کے کمیونسٹ آج بھی سوویت یونین کے شیرازہ بکھرنے پر انکے اذہان پر جو گھاﺅلگے ہیں انہیں چاٹ رہے ہیں©‘ چین کی موجودہ سیاسی قیادت نے روس کےساتھ بھی اپنے تعلقا ت کافی حد تک خوشگوار کر لئے ہیں اور اسکی تمام تر توجہ اپنے ملک کی معاشی اورتعلیمی ترقی پر ہے اگر تو موجودہ چینی قیادت ایک لمبے عرصے تک چین کے سیا ہ وسفید کی مالک رہ جاتی ہے تو 2030 تک چین دنیا کا معاشی طور پر سب سے زیادہ مضبوط ملک بن جائے گا اوریہ غم امریکہ کو بری طرح کھائے جا رہا ہے اسلئے وہ اپنے ہاتھ سے کوئی ایسا موقع جانے نہ دے گا۔

 جس سے وہ چین کو کمزور کر سکے ‘ امریکہ کی نظر میں آج پاکستان کی اتنی اہمیت نہیں کہ جتنی بھارت کی ہے اسے پتہ ہے کہ چین کےخلاف اگر وہ اس خطے میں کسی ملک کو اپنافرنٹ سٹیٹ استعمال کر سکتا ہے تو وہ بھارت ہی ہے کہ جس کی چین کےساتھ ماضی میں کئی سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں اور وہ ایک دوسرے کیلئے اپنے دل میں بغض رکھتے ہیں‘جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے جب تک امریکہ کو افغانستان میں سوویت یونین کے اثر کوزائل کرنے کیلئے اس کی ضرورت تھی وہ اسے استعمال کرتا رہا اب امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے وہ کمبل چھوڑنا چاہتا ہے لیکن کمبل اب اسے نہیںچھوڑ رہا‘ پاکستان کو بھی چاہئے کہ اب وہ امریکہ کے کسی مزید جھانسے میں نہ آئے اور اس کے بجائے چین کےساتھ اپنی دوستی کو مزید استوار کرے اور روس کے دل سے وہ میل مکمل طور پر نکالے کہ جو 1960ءکے U-2 طیارے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی جسے بڈھ بیر پشاو ر سے واقع ایک ہوائی اڈے سے امریکہ کا ایک پائلٹ روس پر پرواز کرنے لے جایا کرتا تاکہ روسی ملٹری تنصیبات کی فوٹو گرافی کر سکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔