161

باڑ لگانے پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے

افغانستان کی آنکھوں میں وہ باڑ کھٹکتی ہے جو افواج پاکستان ‘ پا ک افغان بارڈر پر لگارہی ہے ہر دوسرے دن وہ باڑ لگانے والوں کی حوصلہ شکنی کیلئے اپنی فورسز سے ان پر فائرنگ کراتا رہتا ہے پچھلے ہفتے شمالی وزیرستان کے ساتھ ملحقہ پاک افغان بارڈر پر افغان فورسز نے باڑ لگانے والوں پر فائرنگ کی جس سے ہماری افواج کے3 جوان شہید ہوئے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا کہ جب تک پاک فوج کا یہ اہم پراجیکٹ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ جاتا امید ہے اس منصوبے کو کسی دباﺅ یاکسی سیاسی مصلحت کے تحت آدھے راستے میں ترک نہیں کیا جائے گا یہ پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے اس پر سمجھوتہ کیا ہی نہیں جا سکتا پاک ایران بارڈر پر بھی اس قسم کی باڑ لگانا ا ز حد ضروری ہے تاکہ روزانہ کے دونوں ممالک کے گلے شکوے اور بک بک ختم ہو جائے کہ جس میں ایک دوسرے پر الزام لگائے جاتے ہیں کہ دہشت گرد پاک افغان اور پاک ایران بارڈر کے دونوں اطراف سے مبینہ طور پر ایک یا دوسرے ملک میں تخریبی کاروائیوں کے لئے آ جا رہے ہیں ۔

ایران کو یاد تو ہو گا کہ کالعدم تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی پر ایران کا الزام تھا کہ وہ پاکستان میں مقیم ہے اوروہ ایران کے مشرقی علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اس کی گرفتاری میں ایران سے مکمل تعاون کیا اور ان کی بروقت پیشگی اطلاع پر ایران کی حکومت نے اسے ایران میں گرفتار کیا اور بعد میں ایران کی حکومت نے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا پاکستان بھی قدرتی طور پر اب ایران سے یہ توقع رکھتا ہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقہ اورماڑہ میں جن حملہ آوروں کے ہاتھوں پاکستان کے 14 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی چونکہ وہ ایران سے آئے ہیں لہٰذا اب ایران ان کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرے کیا یہ حقیقت نہیں کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن ایران بندرگاہ چابہار سے لیکر بلوچستان او ر کراچی میںتخریبی کاروائیوں میں ملوث رہا ہے اور اسے پاکستان نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔

 جس طرح پاکستان نے عبدالمالک ریگی کو ایران کے حوالے کیا بالکل اسی طرح ایران بھی پاکستان کے ساتھ بھائی چارے کامظاہرہ کرے اور ان تخریب کاروں کو پاکستان کے حوالے کرے جو بلوچستان میں ہمارے سکیورٹی کے اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہیں یہ باڑ لگانے کے فیصلے کرنے کی عقل اگر ہمارے حکمرانوں کو قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی آ جاتی تو ہم اس درد سر میں مبتلا نہ ہوتے رہا فوج تواپنا کام مستعدی سے کر رہی ہے لیکن وزارت داخلہ کے جو کام کرنے کے تھے وہ ابھی تک نہیں کئے مثلاً وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر اس نے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کیلئے اس قسم کا سخت اور فول پروف ہوم لینڈ سکیورٹی نظام وضع کرنا تھا جو امریکہ نے ان لوگوں کے لئے نافذ کر لیا ہے ہم اس وقت سنگین امن عامہ کی صورتحال سے دو چار ہیں کہ جس کے دوران ہمیں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات اٹھانے ہوں گے جس طرح برطانیہ غیر قانونی تارکین وطن کوگروپوں کی شکل میں اپنے ملک سے ڈی پورٹ کرتا ہے ہمیں بھی یہی کچھ کرنا پڑے گا تاکہ اس ملک میں بغیر ویزے کے جو غیرملکی بھی رہائش پذیرہے اسے اپنے آبائی وطن رخصت کیا جا سکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔