139

اگرچہ سہل ہیںپردیدنی ہیںہم بھی میر

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں شروع ہو چکی ہیں اور عبادات کےلئے زیادہ سے زیادہ وقت مختص کرنے کےلئے نئے سرے سے اپنے روزمرہ کے معمولات ترتیب دئیے جا رہے ہیں، اور خصوصاََ افطار کےلئے پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ بر وقت گھر پہنچ کر گھر والوں کےساتھ مل کر روزہ افطار کیا جائے اور پھرشام کے بعد کے سارے معمولات چھوڑ کر تراویح کا اہتمام کیا جائے، شہروں میں توبہت سے احباب تراویح سے سحری تک جاگتے رہتے ہیں، جن دنوں میں پشاور کی تحصیل گور گٹھڑی کے پاس گنج میں رہتا تھا،تراویح کے بعد قریب ہی گھنٹہ گھر کے نیچے کے قہوہ خانے پہنچ جاتا جہاں نذیر تبسم،حسام حر، ساجد سر حدی، ٹی وی آرٹسٹ صلاح الدین ،ڈاکٹر جاوید، لالہ محمد انور،سعید پارس اور محمد انور خان بھی آجاتے ہم سڑک کے کنارے کرسیاں ڈال کر بیٹھ جاتے جہاں ادب،ثقافت اور حالات حاضرہ کےساتھ ساتھ پشاور کی نئی پرانی سماجی زندگی پر وقفوں وقفوں سے آنےوالے قہوہ،چائے اور شیر چائے پیتے ہوئے بات چیت ہو تی اور محفل سحری تک جاری رہتی۔ مگر کیا کیا جائے کہ اب زمین زادوں کے کام بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔

 اور احباب اپنے اند اتنے سمٹ گئے ہیں کہ ادبی محافل میں بھی شریک نہیں ہوتے رمضان سے قبل چند تقریبات میں خاصی رونق رہی۔ ادبی اکٹھ کےساتھ ساتھ رمضان سے قبل جمعہ کا دن تو کئی حوالوں سے میرے لئے بہت یاد گار رہا،دن کے آ غاز میں ہی میں نے روزنامہ آج میں عزیز دوست آصف نثار کافیچر پڑھا، جس میں پشاور سے کچھ ہی فاصلہ پر ساٹھ ہزار کنال کے رقبے پر لگائے گئے مصنوعی جنگل کی رپورٹ تھی یہ جنگل جس قصبے کے کنارے اگایا گیا تھا اس کا نام جلی حروف میں ” گڑھی چندن “ لکھا ہوا تھا، جس کو پڑھتے ہی میرا ناسٹلجیا چمک اٹھا اور میں جیسے ٹائم مشین میں بیٹھ کر اس زمانے میں ٹرانسپورٹ ہو گیا ،جب میں ابھی سکول میں بھی داخل نہیں ہوا تھا گویا میری عمر پانچ برس سے بہت کم تھی۔ جب میں اس گاو¿ں اپنے مرحوم والدبزرگوار کے ساتھ آیا تھا، وہ یہاں کے سکول میں ٹیچر تھے، چندن نام مجھے تب سے اچھا لگتا ہے جب میں نے اس کے معنی پوچھے تھے اور والد بزرگوار نے بتایا تھا کہ یہ ایک خوشبو دار درخت کو کہتے ہیں جس کو صندل بھی کہا جاتا ہے پھر اس کی لکڑی کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی مجھے دیا گیا تھا، میں حیران ہوں کہ اب تک میری یاداشت میں وہ سکول،اس کے باہر کا کھلا میدان اور اس میں پڑا لوہے کا چھوٹا سا روڈ رولر اسی طرح ترو تازہ ہے (جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی) اس میدان کے مشرقی کنارے پر ایک حویلی نما گھر تھا۔

 ایک دن میں ٹہلتا ٹہلتا اس گھر کے اندر چلا گیا، ڈیوڑھی سے گذر کر جونہی صحن میں پہنچا تو درختوں کے نیچے پڑے ہوئے ایک تخت پر سفید کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون بیٹھی نظر آئی، اس نے ایک اجنبی بچے کو بے تکلفی سے اندر آتے دیکھا تو مسکرا کے اپنے پاس بلایا، اور تخت پر بٹھا کرپیار کیا، باہر نکلا تو میری ڈھونڈیا پڑی ہو ئی تھی،جب معلوم ہوا تو سب ٹیچر نے کہا، پھر مت جاتا یہ خانوں کے گھر ہیں‘ میں ڈر سا گیا تھا کیونکہ اکوڑہ خٹک میں ہمارے گھر کے قریب ہی خانوں کی گھڑی تھی جہاں میں کبھی نہیں گیا تھا، مجھے یاد ہے کہ گڑھی چندن میں ایک شادی کی تقریب بھی مجھے اب تک نہیں بھولی جس میں کچھ چارپائیوں پر اور کچھ اونچے نیچے ٹیلوں پر پورا گاو¿ں بیٹھا ہوا تھا،چاند پورا تھا اسلئے مصنوعی روشنی کی ضرورت نہ تھی ،پہلے ڈھول کی تھاپ پر منچلے ناچے اور خوب داد لی، اور پھر دو داستان گو آئے اور پوری پرفارمنس کے ساتھ ڈھولک کی بہت ہلکی تھاپ پر مکالموں کی صورت کہانی سنانے لگے یہ ایک مزاحیہ کہانی بلکہ ڈرامہ تھا جس کے وہ کردار نبھا رہے تھے،کیونکہ ان کی پرفارمنس اور مکالموں کی ادائیگی پر لو گ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے آخر آخر میں وہ دونوں جھگڑ پڑے تومیں ڈر گیا ، انکے جھگڑے میں شدت آگئی تھی میں والد بزرگوار سے چپک کرسہما ہوا بیٹھا تھا ،اچانک ایک کردار نے چاقو نکالا دو ایک بار لہرایا اور پھر دوسرے کردار کے پیٹ میں چاقو گھونپ دیا۔

 میری چیخ نکل گئی مجھے والد بزرگوار نے فوراََ گود میں اٹھا لیا،اور کہا کچھ نہیں ہے میں نے دیکھا کہ وہ کردار زمین پر وہاں پڑا ہے جہاں ایک درخت کا سایہ تھا اور ارد گرد پھیلی چودھویں کے چاند کی روشنی وہاں مدہم تھی اور اس کے پیٹ سے خون بہہ رہا تھا، مگر لوگ ہنس رہے تھے تالیاں بجا رہے تھے ،کہیں سے میرے کان آواز پڑی،” مڑہ دَ گڑے شربت دے “ ’( یارا ! گڑ کا شربت ہے) معلوم ہوا کہ وہ کردار داستان گو بھی تھے اور بہروپئے بھی تھے، میں نے پھر کبھی اپنے ہاں کسی گاو¿ں قصبے کی شادیوں میں اس طرح کے کردار نہیں دیکھے ‘ہمارے ہاں بھی یقینا ایسے کردار ہوتے ہونگے‘ بچپن سے جو دو ایک نام سنتے آ رہے ہیں ان میں سے ایک مرد کردار ” بہادرے “ ہے اور ایک خاتون کردار ” گل جانہ “ ہے اور ہر علاقے کا اپنا ایک ’بہادرے‘ اور اپنی ایک ’ گل جانہ ‘ ہو تی ہے، جس کو دیکھا تو کبھی نہیں قصے کہانیاں ہی سنتے رہتے ہیں،ہمارے محلے میں ایک بڑا گھر تھا ۔

اس گھر کے سارے چھوٹے بڑے پڑھے لکھے اور رکھ رکھاو¿ والے تھے،ہمہ وقت لئے دئیے رہتے تھے شنید ہے کہ جب ان کے دادا فوت ہوئے تو گل جانہ نے وہاں پہنچ کر ایسے بین کئے ایسی روئی زمین پر لوٹنیاں مارتی رہی اور مرحوم کے وہ قصے سنائے کہ سارا گھر بلک اٹھا پھر گل جانہ باہر آ گئی چھولے والے سے چھولے لے کر کھانے لگی، ساتھ ہی بات بے بات جگتیں کرتی اور قہقہے لگاتی رہی کسی نے کہا ابھی ایک منٹ پہلے تو لگتا تھا کہ تو ان کے دادا کے غم میں روتے روتے مر جائی گی اور اب قہقہے لگا رہی ہے۔قہقہہ لگاتے ہوئے کہا میرا باپ تھوڑی تھا وہ تو میں اندر گئی تو دیکھا کہ سارے چپ چاپ میت کے ارد گرد اداس بیٹھے ہوئے ہیں مجھے اچھا نہیں لگا، میں نے بین کئے تو میدان گرم ہو گیا‘کون جانے اس میں کتنا سچ ہے مگر یہ مقبول کردار ہیں ، اسی دن جمعہ کی نماز کے لئے دوست مہربان میجر عامر کی دعوت پر ایسی مسجد گیا جہاں صبح کا ناسٹلجیا پھر سے چمک اٹھا،مگر وہ باب الگ ہے‘وہ قصہ ادھار رہا، میں بھی میر سی کیفیات لئے پھرتا ہوں
اگر چہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میر
ادھر کو ، یار تامل سے گر نگاہ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔