121

پی ٹی ایم اورتختون نوجوان

 اب جبکہ پی ٹی ایم کے حوالہ سے واضح پالیسی اپنانے کااعلان کردیا گیاہے آرمی چیف کی طر ف سے انتہائی اہم بیانیہ سامنے آیاہے ان کاکہناہے کہ پی ٹی ایم بذات خود کوئی مسئلہ نہیں چند افراد غیرملکی قوتوں کے ہاتھوںمیں کھیل رہے ہیں انہوں نے یہ بھی تسلیم کیاہے کہ جن مسائل کواجاگرکیاگیاہے وہ قدرتی ہیں اور ان کے حل کےلئے کوششیں جاری ہیں اسی سلسلہ میں میجرعامر بھی ایک حقیقت کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے کہاکرتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف اورجنرل راحیل شریف کے دور میں جو مسائل پیدا ہوئے اب جنرل قمرجاوید باجوہ کے دور میں ان کے حل کےلئے عملی اقدامات جاری ہیں تو اس کے باوجودپاکستان اور فوج کے خلاف بیانیہ اختیار کرنے سے یقینا سوالات جنم لیتے ہیں پی ٹی ایم بے ضرر قسم کے مطالبات لے کراٹھی اسی لئے قبائلی نوجوانوںکی اکثریت اس کے ساتھ شامل ہوئی مگر رفتہ رفتہ منظور پشتین کے دائیں بائیںایسے عناصر اکٹھے ہونا شروع ہوئے جن کو پاکستانی پختون باربار مسترد کرکے راندئہ درگاہ کرچکے ہیںاب یہ عناصر پختونوں سے اسی کاانتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں یہ لوگ کھلے عام ریاست کے خلاف دشنام طرازی میں مصروف ہیں وگرنہ بحیثیت قوم پختون کبھی بھی پاکستان کے مخالف نہ تو رہے ہیں اور نہ ہی اب کوئی ان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرسکتاہے ۔

پورے قبائلی علاقہ میں بدترین عسکریت پسندی او رشورش کادورگذراہے مگر کسی ایک علاقہ میں بھی پاکستان کے پرچم کی بے حرمتی نہیں کی گئی اوراب ماہ فروری میں جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کی تو پختون کھل کر اپنے ملک اور اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے جس نے پی ٹی ایم کو اچکنے والے عناصر کے تمام عزائم پر پانی پھیر دیا پی ٹی ایم کو کبھی بھی جلسہ کرنے سے نہیں روکاگیا مگرہربار ان کے جلسے میں نفرت انگیز اور بغاوت پر مبنی نعرے بلندہوتے ہیں اور ایسا کرنے والے پی ٹی ایم کے خیرخواہ ہرگز نہیں باربار کہاجاچکاہے کہ پی ٹی ایم کو چاہیے کہ اپنے بڑے مقصد کو بچانے کے لئے وہ ایسے نعروں اورعناصر کو اپنی صفوں میں آنے سے روکے جو ان کی تحریک کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اس وقت حمایت کے نام پرکچھ ایسے عناصر بھی آئے ہیں جو اپنے سیاسی مستقبل اورمفادات کو بچاناچاہتے ہیں اگر کسی نے اس تحریک کو اپنے مقصد اوران نوجوانوں کو پاکستانی ریاست کے ساتھ ٹکرانے کے لئے استعمال کیا توکیا ہوگا؟ اس سے ایک طرف ریاست کوتو اتنا نقصان نہیں ہوا لبتہ اس تحریک کے کارکن خالی ہاتھ ہی رہیں گے۔ ہم بارہا عرض کرچکے ہیں کہ پانی کا راستہ روکاجائے تو وہ سوراخوں میں داخل ہوکر بنیادیں ڈھا دیتا ہے۔ پختون تحفظ موومنٹ ہو یاکوئی اور، ان کی بات سنی جائے اور کسی کو موقع نہ دیں کہ وہ ان کے کاندھے پر اپنے مقصدکے لئے بندوق رکھ کر استعمال کرے مگر ساتھ ہی پی ٹی ایم والوںکو بھی چاہئے کہ ان کاکندھا استعمال کرکے پاکستان سے اپنے پرانے بدلے چکانے کی سوچ کے حامل عناصرسے فی الفور قطع تعلق کااعلان کرتے ہوئے ان کو ایکسپوز کرے جس طرح مذہبی جذبے سے سرشار بعض نوجوانوں کے نفاذ اسلام کا مطالبہ تو بنیادی طور پر درست اور برحق تھا۔

جس کے ساتھ کسی کو اختلاف نہیں لیکن اس کے لئے اسلحہ اٹھانا،تشدد کا راستہ اختیار کرنا اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا بہر صورت غلط تھا،اسی طرح آج پختونوں کے حقوق،ان کی عزت نفس کی بحالی،انکی جان و مال کو تحفظ دینے کے مطالبات بالکل بجا اور درست ہیں، جس سے کسی کو اختلاف نہیں-لیکن ان مطالبات کے حصول کے لئے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا، نفرت و تعصب پر مبنی بدبودار نعرے لگانا،ریاستی اداروں کی بے توقیری کرنا بہر صورت نا قابل برداشت ہے۔ اس سے نہ اتفاق کیا جاسکتا ہے نہ چشم پوشی،ویسے بھی ہمارے ہاں جب مغربی میڈ یا کھل کرکسی کو سپورٹ کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرے تو سمجھ لیناچاہئے کہ دال میں کچھ کالانہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے غیر ملکی میڈیا کی طرف سے پی ٹی ایم کی بے تحاشہ سپورٹ سے قوم کے ذہنوں میں شکو ک کاابھرنا حیران کن نہیں اس لئے اب بھی وقت ہے کہ پختونوں میں پاکستان اور فوج سے نفرت کا سودا بیچنے کی کوششیں ترک کی جائیں کیونکہ یہ سودا نہ تو ماضی میں بکاتھااور نہ ا ب اس کے بکنے کا کوئی امکان ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔