87

تصویرکادوسرارخ

 کیا وقت نہیں آگیا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بارے میں دنیا کو تصویر کا دوسرا رخ بھی بتایا جائے؟ 1971ءمیں اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور ہندوستانی دانشور سبرامینم نے تو ببانگ دہل کہہ دیا تھا کہ مشرقی پاکستان کو توڑ کر آج ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزار سال پرانی دشمنی کا بدلہ لے لیا ہے‘ کیا حال ہی میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران نریندرا مودی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ ٹھیک ہے مکتی باھنی نے بنگلہ دیش بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا پر بھارت نے بھی اس کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اس سے زیادہ بھلا اقرار جرم اور کیا ہوسکتا ہے؟ افسوس کہ نریندرا مودی کے اس بیان کی طرف اقوام متحدہ کی توجہ دلانے کے لئے ہمارے فارن آفس نے کوئی زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دو قومی نظریہ مرچکا اگر ایسا ہوتا تو بنگلہ دیش کب کا بھارت سے الحاق کرچکا ہوتا مگر ایک حقیقت ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے جن کے دل ایمان کے جذبے سے بھرے ہوئے ہیں بھارت اور اس کے حواری جس قسم کا لغو اور بے بنیاد پروپیگنڈہ اس ضمن میں کرتے چلے آرہے ہیں ۔

ان کا دلائل کے ساتھ ٹھوس جواب دینا ضروری ہے یہ کہا جاتا ہے کہ قائداعظم کو ڈھاکہ میں یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی بھئی یہ بھی کوئی بات ہوئی قائداعظم کی اپنی مادری زبان اردو تھوڑی ہی تھی وہ تو گجراتی بولتے تھے اور کیا بھارت میں کبھی مغربی بنگال میں بسنے والوں نے بھی بھارت کی حکومت سے کبھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی سرکاری زبان بنگلہ ہونی چاہئے اور یا پاکستان میں بسنے والے بلوچیوں‘ پٹھانوں‘ سندھیوں یا پنجابیوں نے کبھی حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبانی بلوچی‘ پشتو‘ سندھی یا پنجابی ہو؟ اس لئے شیخ مجیب الرحمان اور ان کے وزیروں کا اردو زبان پر اعتراض لغو تھا ایک بہانہ تھا زبان تو عوام میں رابطے کے لئے ہوتی ہے اس کو وقار کا مسئلہ بنانے والوں کا موقف وزنی نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھئی پاکستان کی فوج نے اپنے ہی ملک مشرقی پاکستان میں بعض بنگالیوں کے خلاف ملٹری آپریشن کیوں کیا؟ یہ سوال کرنے والوں سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر آج بنگلہ دیش کی حکومت کے خلاف مثال کے طور پر چٹا گانگ میں لوگ مسلح ہوکر سڑکوں پر نکل آئیں اور بنگلہ دیش کا جھنڈا بھی جلا دیں اور یہ سب کچھ وہ بھارت کے ایماءپر کریں تو کیا بنگلہ دیش کی فوج اس تمام عمل کو ایک خاموش تماشائی کی حیثیت سے دیکھتی رہے گی اور شرپسندوں کے خلاف کاروائی نہیں کرے گی؟ اس بات کا تحریری ثبوت موجود ہے کہ شیخ مجیب الرحمان نے بہت پہلے 1957ءمیں کہ جب حسین شہید سہروردی اس ملک کے وزیراعظم تھے ان سے کہا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مشرقی پاکستان کو ہم مغربی پاکستان سے جدا کرلیں تو حسین شہید سہروردی نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں کہا تھا خبردار یہ بات سوچنا بھی نہیں کیونکہ یہ سننے کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بڑبڑا کر کہا ”چلو وقت آنے پر دیکھیں گے“ مطلب یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمان کے ذہن میں پاکستان کو توڑنے کے جراثیم ایک عرصہ دراز سے پرورش پا رہے تھے یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے میڈیا نے یہ بات تو بڑھا چڑھا کر پیش کی کہ پاکستان کی فوج نے اتنے بنگالی مارے پر جن لاتعداد غیر بنگالیوں کو مکتی باھنی نے قتل کیا اس کے ذکر سے اکثر گریز کیا اور جس سفاکانہ انداز سے ان کو قتل کیا ان کے قصے سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

 ہٹلر کے کارندوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اتنی بے دردی سے یہودیوں کا قتل عام نہ کیا ہوگا کہ جتنی سنگدلی سے مکتی باھنی نے غیر بنگالیوں کو قتل کیا۔ مکتی باھنی کے روپ میں بھارت نے اپنے کئی تربیت یافتہ فوجی بھی ان کی صفوں میں گھسیڑ دئیے تھے مولوی فرید احمد جیسے محب وطن پاکستانی کے جسم کو پہلے انہوں نے جگہ جگہ سے بلیڈ کے ساتھ کاٹا اور پھر ان کے زخموں پر نمک چھڑک کر انہیں تڑپا تڑپا کر مارا اس قسم کے سینکڑوں واقعات کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کاش کہ ہمارا فارن آفس ان واقعات کی عالمی سطح پر مناسب پبلسٹی کرتا تاکہ متعلقہ بھارتی اور بنگلہ دیش عناصر کے ڈھول کا پول کھل سکتا۔ اس بات کا بھی ذکر تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے کہ جب مکتی باھنی والے غیر بنگالیوں کو بڑی تعداد میں قتل کررہے تھے اور بھارتی فوج کے کہنے پر بھی اس قتل عام میں کمی نہیں لارہے تھے تو بھارتی فوج نے خود مکتی باھنی کو کافی تعداد میں قتل کیا کہ وہ یہ قتل عام بند کرسکیں کیونکہ وہ ایک حد پھلانگ رہے تھے‘ یہاں پر سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ بھارت نے خود یہ اعتراف کیا کہ وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہوا ہے‘ جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہئے تھا‘ تاہم ہماری وزارت خارجہ کی سستی نے یہ موقع گنوادیا ، ایسے حالات میں جب بھارت پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر سرگرم عمل ہے اور خاص کر سفارتی سطح پر وہ نہ صرف کشمیر میں اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کیلئے تگ و دو کررہا ہے وہاں پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے بھرپور زور لگارہا ہے‘۔

 ہماری وزارت خارجہ اگر اس موقع پر بھارت کے اس اعتراف جرم کو بنیاد بناکر اس کے خلاف محاذ گرم کرلیتا تو کوئی وجہ نہیں کہ عالمی برادری میں بھارت کا پردہ فاش ہوجاتا، کشمیر میں بھارت جو کچھ کررہا ہے وہ اپنی جگہ‘ دوسرے ممالک میں مداخلت کا جرم وہ اب بھی کررہا ہے‘ بلوچستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جس نے خود اعتراف کیا کہ انہیں بھارت ایجنسی را نے بلوچستان اور کراچی میں بدامنی پھیلانے کے مشن پر بھیجا تھا، حال ہی میں سری لنکا میں جو واقعات پیش آئے ان کے مرکزی کردار بھی بھارت میں تربیت حاصل کرچکے ہیں‘ اس طرح یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خطے کے ممالک میں مداخلت بھارت کا وطیرہ رہا ہے اور اب بھی اس نے یہی پالیسی اپنائے رکھی ہے‘ جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے۔۱
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔