83

انیس سواکہترمیںآج کامیڈیا

سوموار انتیس اپریل کوپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے ڈیڑھ گھنٹے کی پریس بریفنگ میں ایسی چشم کشا باتیں کہیں جو آج سے پہلے بہت کم کی گئی تھیں اگر کی بھی گئی تھیں تو انکی اتنی زیادہ وضاحت کو ضروری نہ سمجھا گیا تھا‘ ڈی جی صاحب کے ارشادات گرامی کا تعلق کیونکہ حساس ترین قومی معاملات سے ہے اسلئے سیاستدانوں کے علاوہ تجزیہ نگاروں نے بھی ان پر رد عمل دینا شروع کر دیا ہے اس گفتگو نے ابھی تک ایک معنی خیزمکالمے کی صورت اختیار نہیں کی میرا تاثر یہی ہے کہ ڈی جی صاحب نے اتنا کچھ کہہ دیا ہے کہ اسے سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا دراصل مشرقی پاکستان ہماری سیاسی اور تاریخی لغت کا اتنا بلیغ استعارہ ہے کہ اسکا نام سنتے ہی ہم ایک انجانے قسم کے خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘ میری عمر کے وہ لوگ جنہوں نے اس قومی سانحے کو اپنی آنکھوں کے سامنے جنم لیتے ہوئے دیکھا ہے وہ 1971 کا ذکر سنتے ہی اس دن کی بے رحمی اور سفاکی کو چشم تصور سے دوبارہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں‘ اس دن ریڈیو پاکستان نے خاصی تاخیر سے پاکستان کے دولخت ہونے کی افسوسناک خبر سنائی تھی یہ اطلاع ہمیں اسوقت دی گئی جب آل انڈیا ریڈیو بہت پہلے یہ خبر پوری دنیا کو سنا چکا تھا اسکے بعد دو جولائی 1972 کو شملہ معاہدے کے ہو جانے تک پورا ملک جس اذیت اور اضطراب میں مبتلا رہا تھا۔

 اسے آصف غفور صاحب اور انکے ہم عمر کتابوں میں تو پڑھ سکتے ہیں اسطرح سے محسوس نہیں کر سکتے جس طرح ہم نے کیا تھا‘ اس بات کی مزید وضاحت کیلئے ہمیں یہ دیکھنا پڑیگا کہ انتیس اپریل کو ڈی جی صاحب نے کیا کہا اس روز انہوں نے فرمایا ” اگر1971 میں ہمارا میڈیا آج کے میڈیا جیسا ہوتا تو وہ آپکی (بھارت)سازشوں کو بے نقاب کر سکتا وہاں (مشرقی پاکستان) کے حالات کی رپورٹنگ کر سکتا وہاں پر ہونیوالی اندرونی زیادتیوں کو رپورٹ کرتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا“ہم آج تک یہی دیکھتے آئے ہیں کہ میڈیا حقائق تخلیق نہیں کرسکتا وہ صرف انکی رپورٹنگ کرتا ہے حقائق حکومتیں تخلیق کرتی ہیں اور لوگوں کو انہیں قبول کرنا پڑتا ہے‘ ڈی جی صاحب کی بات کو اگر سچ مان لیا جائے تو پھریہ تسلیم کرنا پڑیگا کہ 1971 میں اگر میڈیا آزاد ہوتا اور وہ بغیر کسی پابندی کے مشرقی پاکستان کے حقائق بیان کرتا تو ملک دو لخت نہ ہوتا اس تھیوری کے مطابق مشرقی پاکستان کے عوام ان حقوق سے دستبرداری کا علان کر دیتے جو وہ 1951 سے مانگ رہے تھے ملکی تاریخ کے ایک المناک باب کی یہ نئی اور حیران کن تشریح یہ انکشاف کر رہی ہے کہ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا وہ 1971 ہی میں ہوا اور اس سے پہلے وہاں راوی نے چین ہی چین لکھا ہوا تھا‘اس قومی سانحے کے بارے میں بیسیوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ان میں جو تاریخی حقائق بیان کئے گئے ہیں۔

 انکے مطابق ڈھاکہ میں لسانی فسادات کا آغاز 1950 میں ہوا یہ چنگاری سلگتے سلگتے 1964 تک شعلہ بن چکی تھی 1969 میں ایوب خان کے ون یونٹ کےخلاف اٹھنے والی تحریک میں بنگالی زبان کو اسکا جائز مقام دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا مشرقی پاکستان سے اٹھنے والی ان تحریکوں میں مغربی حصے کے لوگوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور بالآخر جنرل ایوب خان کو 1970میںاقتدار جنرل یحےیٰ خان کے حوالے کر کے رخصت ہونا پڑا نئے حکمران نے آتے ہی ون یونٹ توڑ کر پانچوں صوبوں کی آئینی حیثیت کو بحال کر دیا۔ جنرل ایوب خان نے اپنے دس سالہ طویل دور حکومت میں ایک طرف ایبڈو لگا کر سیاستدانوں کو بے توقیر کیا اور دوسری طرف اخبارات پر پابندیاں لگا کر صحافت کو یرغمال بنا یا اگر آصف غفور صاحب کی نئی تھیوری کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ 1971 میں اگر میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتاتو پھر ہمیں یہ تصور کرنا پڑیگا کہ انیس سو ستر تک سب کچھ ٹھیک تھا‘حالات نارمل تھے‘ جواہرلعل نہرو نے یہ نہیں کہ تھا کہ میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں تاریخ کی اس نئی تشریح کے مطابق کچھ بھی ہوا وہ انیس سو اکہتر ہی میں ہواایسا کیونکہ نہیں ہوا اور ہم اس احمقانہ تصور کو کسی معقول شخص سے منسوب بھی نہیں کر سکتے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آصف غفور صاحب کس ٹائم فریم کی بات کر رہے تھے ۔

صرف ایک برس کی یا بائیس برسوں کی‘ اگر قیام پاکستان سے لیکر سقوط ڈھاکہ تک کے وقت کو ذہن میں رکھ کر انکی بات سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھر اسکا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اگر بائیس برس میں ہمارا میڈیا اتنا آزاد ہوتا جتنا آج ہے تو ملک نہ ٹوٹتا‘ہم جانتے ہیں کہ شروع کے بائیس برس ایک ایسا ہیجان خیز وقت تھا جب حکومتیں بنائی اور بگاڑی جا رہی تھیں وزیر اعظم لائے اور نکالے جا رہے تھے ہندوستان سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین آ رہے تھے سیاستدان‘ بیوروکریٹ اور فوجی قیادت کسی ایک آئین پر متفق ہونے کی بجائے تکرارو تصادم میں الجھے ہوئے تھے‘ ایسے میںمیڈیا اس ہاہاکار کو ختم کر کے کیسے ایک متحداور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا تھا‘میڈیا آج بیسیوں اخبارات اور چینلوں کے ہوتے ہوئے سچ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا تو ان دنوں کے فساد کو ایک نحیف و نزار میڈیا کیسے ختم کرتا۔ شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے اس متنازعہ بیان کے پانچ دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے مشرقی پاکستان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ انکے بیانیے کا مکمل اور بھرپور استرداد ہے‘ اتوار کے روز سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خان صاحب نے کہا ”مشرقی پاکستان نظریے سے ہٹنے کی وجہ سے ہم سے الگ ہوا‘اسمیں بھارت کی مداخلت سمیت دیگر عوامل بھی شامل تھے‘ وہاں کے لوگوں کو مغربی پاکستان کی طرح حقوق نہیں مل رہے تھے انہیں انصاف نہیں مل رہا تھا طاقت کے زور پرملک کو اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا فوج نہیں عوام ملک کو اکٹھا رکھتے ہیں۔

 بظاہر تو یہ ایک عام فہم سی بات ہے مگر یہ ڈی جی صاحب کی اس منطق کا جواب بھی ہو سکتا ہے کہ میڈیا اگرانیس سو اکہتر میں آزاد ہوتا تو ملک دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتا ہم اس جھمیلے میں نہیں پڑتے کہ وزیر اعظم کو یہ بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی نہ ہی ہم یہ پوچھیں گے کہ یہی بات اگر سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کرتے تو عسکری قیادت کا رد عمل کیا ہوتا۔یہاں ایک دوسری اہم بات یہ ہے کہ ڈی جی صاحب آجکل کے میڈیا کی کارکردگی سے خاصے مطمئن نظر آتے ہیں‘ صحافت سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ صاحبان اقتدار کا صحافیوں کی پرفارمنس سے مطمئن ہونا انکے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ان میں سچ بولنے کی جرات نہیں رہی یا پھر انہیں سچ کہنے کی آزادی حاصل نہیں۔

صحافت کا مشن طاقتور کے سامنے سچ بولنا ہے انگریزی میں اسے Speaking truth to the power کہا جاتاہے اگر وطن عزیز کے وابستگان صحافت یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج بھی کسی صحافی کو سابقہ فاٹا میں جانے کی اجازت نہیںتو اسکا مطلب یہی ہے کہ وہ یاتوہزاروں لاپتہ افراد کی بازیابی کے مسئلے کو اہم نہیں سمجھتے اور یا پھر وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں 139 ویں نمبر پر ہے یہاں سچ بولنے پر عمر چیمہ اور کئی دوسرے صحافیوں کی طرح سر اور مونچھیں بھی مونڈی جا سکتی ہیں اور ان بہتر صحافیوں کی طرح قتل بھی کیا جا سکتا ہے جو گذشتہ سترہ برس میںسچ بولنے کی پاداش میںجان کی بازی ہار گئے۔چار مئی کو دنیا بھر میں یوم صحافت منایا گیااس دن پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم نے کہا ” میڈیا موجودہ دور کی نسبت پرویز مشرف کے دور میں زیادہ آزاد تھا موجودہ جمہوری دور کے پاکستان میںصحافی اسی صورت میں محفوظ رہ سکتا ہے کہ وہ سچ لکھنے پر سمجھوتہ کر لے ورنہ اسے چاروں اطراف سے خطرات لاحق رہیں گے“ آصف غفور صاحب اگر اپنے میڈیا کی کارکردگی سے مطمئن ہیں تو یہ انکی بہت بڑی کامیابی ہے مگر انکا یہ اطمینان پاکستان کی صحافت کیلئے ایک تازیانہ اور ویک اپ کال ہے جو کہہ رہی ہے کہ دوڑوزمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔