85

ایک حقیقت کااعتراف

ہمارے اکثر سیاسی رہنما قائداعظم اورٹےپو سلطان کے بارے میں زبانی جمع خرچی تو بہت کرتے ہیں لیکن انکے فرمودات پر شاذ ہی عمل کرتے ہیں‘ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹرنے کہاتھا کہ چین کی خوشحالی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ نصف صدی میںاس نے اپنے آپ کو کسی قسم کی بھی جنگ سے بچایا ہے او ر امریکہ کی تنزلی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ا س نے اس عرصے میں کئی غیر ضروری قسم کے پنگے لئے ہیں جن میں امریکہ کا کافی نقصان ہوا ہے‘ ایک مشہور چینی مفکر کا قول ہے کہ قوموں کی جیت صرف جنگ جیتنے میں نہیں ہے بلکہ اصل جیت دشمن کو بغیر لڑے ہرانے میں ہے‘ اب ذرا دیکھئے ناں کہ چین کی سیاسی قیادت نے کتنے اخلاص کےساتھ اپنے اس عظیم مفکر کے اس قول پر عملدرآمدکیا ‘ کیا چین کے اپنے پڑوسی ملک انڈیا کےساتھ تنازعات نہ تھے ؟کیا ہانگ کانگ پر اس کا برطانیہ کےساتھ تنازعہ نہ تھا؟کیا تائیوان کی ملکیت پراسکا دعویٰ نہیں ہے ؟لیکن چینی قیادت کی دور اندیشی‘سیاسی فہم اور فراست کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اس نے ان معاملات کو کبھی بھی اپنی معاشی ترقی کی راہ میں آڑے آنے نہ دیا‘ آج پوزیشن یہ ہے کہ چین جہاز رانی ‘ فولاد ‘ سٹیل ‘ المونیم ‘ فرنیچر ‘ ٹےکسٹائل اور کمپیوٹر بنانے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے‘آپ ذرا اس بات پر ضرور غور کریںکہ فولاد ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے تیار شدہ اشیاءمثلاً جہازوں ‘ طیاروں ‘ ٹینکوں اور توپوں کی ہیبت سے آج دنیا لرزاں ہے وہ ممالک اور قومیں واقعی آج دنیا پرحکومت کر رہی ہیں جو فولاد کے علم سے مالا مال ہیں اور وہ قومیں آج کس قدر ضعیف و ذلیل ہیں جو اس علم سے بے گانہ ہیں‘آج بھی اگراسلامی سلطنتیں فولاد کے استعمال سے آگاہ ہو جائیں توان کا موجودہ ضعف قوت اور انحطاط عروج میں بدل جائے۔

 تو ہم بات کر رہے تھے جمی کارٹر کے بیان کی ‘ انہوںنے البتہ سوویت یونین کے شیرازہ بکھرنے کا ذکر نہیں کیا 1980ءکی دہائی تک سوویت یونین دنیا کی ایک عظیم سپر پاور تھی‘ سائنس میں اسکے عروج کا یہ عالم تھا کہ اس نے امریکہ سے بہت پہلے چاند پر اپنا سیارہ اتارا تھا‘ خبط عظمت بعض ممالک کے حکمرانوں کا دماغ خراب کر دیتی ہے سوویت یونین کےساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو آج امریکہ کےساتھ ہورہا ہے اس نے بلاوجہ پنگے لینے شروع کر دئیے کبھی مشرقی یورپ میں تو کبھی افریقہ میں تو کبھی افغانستان میں اسکی حد درجہ توجہ اسلحہ سازی پرمرکوز ہو گئی۔

زراعت کی جانب اسکی توجہ ثانوی تھی پھر اسکا نتیجہ آخر یہ نکلا کہ اسے کئی بین الاقوامی محاذوں پر منہ کی کھانی پڑی بالکل اسی طرح حد درجہ جنگی تنازعات میں جب سوویت یونین الجھا تو اندرون خانہ اسکی معیشت اور زراعت دگرگوں ہوتی گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ امریکہ کی سی آئی اے نے اسکے اندرونی خلفشار اورلوگوںکی اپنی حکومت کےخلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی سے فائدہ اٹھا کر اسکے اندر ایسے رہنما پیدا کردئیے کہ جو سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کاباعث بنے ‘آج ضرورت ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ایران اور افغانستان بھی چینی ماڈل سے استفاد کریں اور اپنے سیاسی مسائل کو حل کرنے کےساتھ اس خطے کے دو ارب عوام کی خوشحالی اور امن کو فروغ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔