95

قربانی کا بکرا

ورنر سٹیٹ بےنک اور چیئرمین ایف بی آر کو آنا ً فاناً ان کے عہدوں سے فارغ کردےاگےا‘حکمران یہ بات تو بڑی آسانی سے کہہ ڈالتے ہےں کہ جن سرکاری اہلکاروں کوہٹایاگیا ہے وہ ڈےلیور نہےں کر پارہے تھے‘ کسی کو بھی قربانی کا بکرا بنانے کا یہ آزمودہ فارمولا ہے‘ کاش کہ وہ عوام کو یہ بھی بتاتے کہ آخر ان کے کون سے حکم کی ان اہلکاروں نے خلاف ورزی کی ہے‘ ان احکامات کی اگر تشریح بھی کر دی جائے تو معاملہ سمجھنے میں ذرا آسانی ہوجائے اور میڈیا کو اس پر قیاس آرائیاں کرنے کا موقع نہ ملے اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو بھی یہ حق دیا جائے کہ وہ بھی عوام کے سامنے کھل کر وضاحت کریں کہ آخر انہےں کس بات پر ان کے منصب سے ہٹایا گیا‘ کیونکہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بسا اوقات کئی دیانتدار اور قانون پر چلنے والے بیوروکریٹس نے جب حکمرانوں کے کسی ناجائز یا غیر قانونی حکم کو ماننے سے انکار کیا تو وہ ان کے غیض وغضب کا شکار ہوگئے‘چونکہ سرکاری اہلکار نہ میڈیا پر جاکر اپنی صفائی پیش کر سکتے ہےں اور نہ کوئی جلسہ کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرسکتے ہےں ‘ان کا نقطہ نظر کبھی عوام کے سامنے آتا ہی نہےں اور وہ اندھیرے میں مفت میں مارے جاتے ہےں‘اگرتوکوئی سرکاری اہلکار حکمرانوں کے کسی جائز اور قانونی حکم کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو پھر توحکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف ان کے تبادلے پر اکتفا نہ کریں اس صورت میں تو پھر ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرکے ان کو نوکری سے برخاست کرنا ضروری ہے‘ ایسے اہلکار کو کسی دوسرے محکمے میں کھپانا تو پھر سنپولیا پالنے کے مترادف ہوتا ہے۔

 یہ موقف بالکل غیر اخلاقی اور سولہ آنے غلط ہے کہ چونکہ وزراءیا ارکان اسمبلی عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہےں سرکاری اہلکاروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان کے ہر حکم کے سامنے سرنگوں ہوجائیں ‘وزراءیا ارکان اسمبلی اگر ملک کے قوانین یاآئین کےخلاف کوئی حکم دیتے ہےں تو بیوروکریٹس پر بالکل بھی یہ لازم نہےں کہ ان پر لبیک کہےں‘اس صورت میں پھر ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ پہلے وہ زبانی طور پر اپنے سیاسی باس کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ ان کا فلاں حکم غیر قانونی ہے اور اگر اس کے باوجود ان کا سیاسی باس اس بات پر مصر ہو کہ اس کے حکم پر عملدرآمد ہو تو پھر ان سرکاری اہلکاروں کو چاہئے کہ وہ بلیک اینڈ وائٹ میں یعنی تحریری طور پر اپنے سیاسی باس کو مطلع کریں کہ وہ ان کے حکم پر عملد رآمد نہےں کرسکتے اور نہ کرنے کی وجوہات بھی تحریر کریں‘اس کے بعد بھی اگر ان کا سیاسی باس ان کے موقف سے متفق نہےں ہوتا تو وہ زیادہ سے زیادہ یہ کریگا کہ ان کو اپنے منصب سے ہٹا کر ایسی آسامی پر لگا دے گا کہ جو پرکشش نہ ہوگی اور یا پھر انہےں او ایس ڈی بنا دیگا۔

 پھانسی پر تو وہ انہےں لٹکا نہےں سکتا پر اس قربانی دینے سے کم ازکم دنےا پریہ بات آشکارا ہوجائے گی کہ کون سچ کہہ رہا تھا اور کون جھوٹ ‘دکھ کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی قربانی کے لئے کوئی بھی تیار نہےں ہوتا ہر سرکاری اہلکار پرکشش کرسی کے ساتھ چمٹے رہناچاہتا ‘ گڈ گورننس صرف اورصرف ایک ہی طریقے سے ممکن ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ وزراءاور دیگر منتخب اراکین پارلیمنٹ اور بیوروکریٹس اپنے کام سے کام رکھےں ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ وزراءاپنی وزارت کے تمام اہلکاروں پراوپر سے نیچے تک گہری نظر رکھےں اور اگر ان کے نوٹس میں آئے کہ ان کی وزارت کا کوئی بھی اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کررہا ہے یا کسی بھی نوعیت کی کرپشن میں ملوث ہے تو پھر اس کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے‘ پر اس کے لئے وزراءکو خود پہلے اعلیٰ اخلاقی اقدار اور دیانت داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘ ایک چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ اوپر سے گلتی اور سڑتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔