108

ایوان بالا میں پیش اعداد وشمار

ایوان بالا کو بتایا گیا ہے کہ وطن عزیز کے ذمے 88ارب 19کروڑ ڈالر کا غیرملکی قرضہ ہے سرکاری قرضے کا والیوم 28ہزار 606ارب ہے اس سال ہمیں9.2ارب ڈالر کا قرضہ لوٹانا ہے جبکہ 5سال میں لوٹائے جانے والے قرضے کا حجم 37ارب ڈالر بتایا گیا ہے‘ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کو اگلے مالی سال کے بجٹ کے لئے 750ارب روپے کے ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے ورکنگ پلان پیش کردیاگیا ہے اس پلان سے متعلق مہیاخدوخال میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے بجٹ میں چینی پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھانے کےساتھ گیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی معلوم یہ بھی ہوا ہے کہ جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر 18فیصد کئے جانے کا امکان ہے نئے بجٹ میں صنعتوں اور بجلی کی پیداوار کے لئے ایل این جی کی درآمد پر 3 فیصد کے حساب سے عائد کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ بھی ختم کرکے 5فیصد ڈیوٹی عائد کئے جانے کا اصولی فیصلہ کرلیاگیا ہے۔

معیشت کو درپیش مجموعی چیلنجوں اور آنے والے قومی میزانیے کے لئے 750ارب کا ٹیکس پلان مہنگائی کے طوفان میں خطرناک حد تک شدت کی نشاندہی کرتا ہے‘ دریں اثناءسٹاک منڈی میں سرمایہ کاروں کے 38ارب 95 کروڑ روپے ڈوب جانے کا بتایا جارہا ہے وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ19ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے‘برسرزمین حالات اور آنےوالے دنوں سے متعلق خدشات کنکریٹ پیشگی انتظامات کے متقاضی ہےں ان اقدامات کے لئے سیاسی استحکام بھی ضروری ہے جس میں سیاسی قیادت کو تمام تر اختلافات کے باوجود معیشت اور عوامی ریلیف کے ایک پوائنٹ پر مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا‘گرانی کے طوفان اور عوام کو درپیش مشکلات مارکیٹ کنٹرول کے لئے بھی ٹھوس حکمت عملی کا تقاضا کرتی ہےں خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں سپیشل مجسٹریٹ تعینات کرکے گراں فروشوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کا حکم دیا ہے بعداز خرابی بسیار سہی خیبرپختونخوا حکومت کا اس حوالے سے احساس وادراک دکھائی دے رہا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ اب وقت ضائع کئے بغیر کم ازکم ناجائز منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کے خاتمے کے لئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن ہو اس میں پوری انتظامی مشینری اور خود تاجر برادری کی معاونت شامل ہو۔

قبائلی اضلاع کے لئے شیئر

خیبر پختونخوا کابینہ نے قبائلی اضلاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ کا 3فیصد شیئر دینے کی منظوری دی ہے ضم شدہ اضلاع کے لئے وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہےں‘ قبائلی علاقے کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانا ایک بڑا اور اہم نوعیت کا فیصلہ ہے اس فیصلے کو عوام کے لئے ثمر آور بنانے کی غرض سے اب ان اضلاع میں تعمیر وترقی اور انتظامی امور چلانے کے لئے فنڈز کا بروقت اجراءناگزیر ہے کیا ہی بہتر ہو کہ مرکز اور دیگر صوبے بھی قبائلی اضلاع کے فنڈز سے متعلق معاملات کو مل بیٹھ کر جلد سے جلد طے کرلیں تاکہ یہاں کے عوام کو تبدیلی کا خوشگوار احساس ہوسکے اور یہاں پائی جانے والی محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو۔اس کے ساتھ ضرورت ان علاقوں میں سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار بنانے کی بھی ہے تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے سے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی جس میں افرادی قوت کی تربیت بھی شامل ہو۔