114

بڑا ادب صرف ابنارمل لوگ لکھ سکتے ہیں ؟

 میرا گزشتہ کالم کتابوں کے مجذوبوں کے بارے میں تھا تو بارے کتابوں کے بھی کچھ بیاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں البتہ کوئی سو جھوان یعنی فلسفی نما شخص بجا طور پر معترض ہو سکتا ہے کہ اگر یہ ادیب حضرات کتابیں نہ لکھیں تو ایسے کتابوں کے مارے لوگ مجذوب ہونے سے بچ جائیں اور وہ بھی دیگر لوگوں کی مانند نہاےت کامیاب اور باشعور حیات بسر کر سکیں تو سارا قصور ادیبوں کا ہے کہ یہ کتابیں نہ لکھیں تو لوگ پاگل نہ ہوں اور سکھ چین کی زندگی کے مزے لوٹیں‘اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ کتابیں لکھنے والے بھی تو نارمل لوگ نہیں ہوتے‘ وہ بھی مجذوب ہوتے ہیں‘ وہ اس لکیر کے ذرا ادھر ہوتے ہیں‘ لکیر کے پار پاگل پن کا جہان خبط آباد ہوتا ہے اور کئی بار وہ اس لکیر کے پار بھی چلے جاتے ہیں اور تب انکے نوک قلم سے شاہکار تحریروں کے جھرنے پھوٹنے لگتے ہیں‘میں خود یقین رکھتا ہوں کہ ابنارمل لوگ ہی عظیم ادب تخلیق کرنے پر قادر ہوتے ہیں بلکہ میں شاےد ذکر کر چکا ہوں کہ میں نے کسی انٹرویو میں کہا کہ ایک شریف آدمی بڑا ادیب نہیں ہو سکتا تو ’داستان سرائے‘ میں ایک دعوت کے دوران اشفاق احمد میری بیگم سے کہنے لگے”لو بھئی میمونہ تمہارا خاوند مجھے بڑا ادیب نہیں مانتا“ تو میں نے خان صاحب سے کہا کہ حضور میں آپ کو بڑا ادیب تو مانتا ہوں لیکن ایک رواےتی شریف آدمی نہیں مانتا اگر پسند فرمائیں تو میں آپ کی تحریروں میں سے کچھ حوالے دے سکتا ہوں ۔

خاص طور پر ’سفر در سفر‘ میں جانوروں کی پرائیویٹ زندگیوں کے بارے میں جو تفصیل درج ہے تو اشفاق صاحب مسکراتے ہوئے بولے‘ادھر تمہاری آپا بانو قدسیہ بہت مزیدار کباب تیار کر رہی ہیں جاﺅ ان سے لطف اٹھاﺅ‘بہرحال حسب عادت ایک مرتبہ پھر اپنے کالم کو ان کتابوں کےلئے وقف کرتا ہوںجو پچھلے تین چار ماہ سے میری رفاقت میں رہیں‘ انسانوں کی مانند کچھ تو بہت عمدہ رفیق ثابت ہوئیں‘ کچھ کو میں نے نیم دلچسپی سے پڑھا اور چند ایک سے ظاہر ہے اپنی کم علمی کے باعث بیزار ہوا اور راستے میں چھوڑ دیا‘ان میں سے ایک ناول میرے عزیز دوست ایچ ایم نقوی نے ایک مدت کے بعد لکھا ہے اور دیر آید درست آید کے مقولے پر پورا اترتا ہے۔ نقوی کا پہلا ناول”ہوم بوائے“ ایسا تھا کہ اس نے کیا پاکستان کیا انگلستان وغیرہ میں دھوم مچا دی‘ میں اسے ہمیشہ چھیڑتا تھا کہ نقوی ایک ناول تو کوئی بھی شخص لکھ سکتا ہے‘ یہ دوسرا ناول ہوتا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ واقعی ایک ناول نگار ہے یا پہلے اس کا فلوک لگ گیا تھا۔

 اس ناول کا نام نقوی کی شخصیت کی مانند گنجلک ہے یعنی”دی سلیکٹڈ ورکس آف ”عبداللہ دے کوسیک“ اور یہ ثابت کرتا ہے کہ نقوی واقعی ایک بڑا ناول نگار ہے اس ناول کا مرکزی کردار کراچی کا شہر ہے وہ کراچی جو کب کا معدوم ہو چکا ہے صرف اسکی پرچھائیاں کہیں کہیں بال کھولے سو رہی ہیں‘ نقوی نے انہی پرچھائیوں کو بیدار کر کے انکے بالوں میں تخلیق کی کنگھی کر کے انہیں پھر سے سنوارا ہے‘وہ کہتا ہے’کہا جاتا ہے کہ شہروں کی بنیاد بادشاہ اور جری بہادر رکھتے ہیں لیکن کراچی شہر کہانیوں سے تخلیق ہوا ہے‘مجھے یہاں ایک قول بری طرح یاد آرہا ہے جو نیو یارک پبلک لائبریری کی ایک گلی کے فٹ پاتھ پر کندہ ہے کہ یہ کائنات ایٹم کے ذروں سے نہیں کہانیوں سے تخلیق ہوئی ہے‘ نقوی نے ’ہوم بوائے‘کے طرز بیاں کو دہرایا نہیں اس ناول کے لئے ایک نئی طرح ایجاد کی ہے‘مجھے تو اس ناول کے فٹ نوٹس بھی ایک متوازی ناول کی مانند دلچسپ لگے‘جان فری مین کا کہنا ہے کہ نقوی نے یہ ناول لکھ کر ادب کی دنیا میں ایک دھماکہ کر دیاہے دوسرے ناول کا مصنف مجھے اسلئے بھی عزیز ہے کہ وہ میرے دوست اور بزرگ محمد خالد اخترکا بیٹا ہے خالد صاحب کے شاہکار خطوط جو انہوں نے میرے نام لکھے‘ شائع ہو چکے ہیں‘ ہارون خالد اختر کا ناول’میلوڈی آف اے ٹیئر یعنی’ ایک آنسو کا گیت‘ایک نہاےت متاثر کن تحریر ہے‘میں نے اسے مکمل طور پر پڑھا اور مکمل طور پر لطف اندوز ہوا عام طور پر بڑے باپ کے بیٹے انکے سائے سے باہر آ کر خودمختار ذہن کی زندگی بسر کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لیکن ہارون کو اپنے باپ کے سہارے کی قطعی کوئی حاجت نہیں وہ ایک اہم ناول نگار کے طور پر اپنے قد سے کھڑا ہے۔

البتہ اسے بھی اپنے آپ کو ثابت کرنے کےلئے دوسرا ناول لکھنا ہو گا ورنہ وہ ایک حادثاتی ناول نگار کہلائے گا‘ میں نے کچھ عرصہ پہلے افریقی ناول نگار بن اوکری کا ایک ناول ’بھوک زدہ روڈ‘ پڑھنے کے بعد لکھا تھا کہ میں کیسا بدقسمت ہوں کہ آج تک بن اوکری کی تحریر کے جادو سے بے خبر رہا‘ وہ یقینا اس عہد کے عظیم ناول نگاروں میں شمار کرنے کے لائق ہے ان دنوں میں نے اسکا ایک ناول ’دے ایج آف میجک‘ پڑھا اور یقین کیجئے اس ناول میں ایک ایسا سحر ہے جو پڑھنے والے کو گنگ کر دیتا ہے‘تمام ابواب مختصر ہیں اور ہر باب مکمل طور پر ایک کہانی ہو سکتا ہے‘ میں نے اس طرز تحریر کا کوئی اور ناول نہیں پڑھا‘بن اوکری کو اگرمیں ایک استاد نہ مانوں تو نقصان میرا ہو گا۔ ٹائمز نے اس ناول کے بارے میں کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ ایک خوابناک جدید پریوں کی کہانی!آپ شاید آگاہ ہوں کہ پچھلے برس کا مین ب±کر پرائز جو ادب کی دنیا کا سب سے بڑا انعام گردانا جاتا ہے آئر لینڈ کی اینا برنز کے ناول’ملک مین‘ کو دیا گیا تھا‘میں نے اس انعام کی مرعوبیت کے زیر اثر’ملک مین‘کو نہایت احترام سے شروع کیا‘میں ایک شاہکار سے متعارف ہونے کو ہوں لیکن بڑا شور سنتے تھے پہلو میںدل کا۔ یقینا ادب کی دنیا میں بھی سفارشیں چلتی ہیں‘ ورنہ یہ ناول تو تخلیق کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا‘ نہاےت معمولی اور بیزار کن‘ اردو کے کئی نئے ناول نگار اس آئرش خاتون سے کہیں بہتر لکھتے ہیں‘آپ اگر برصغیر کے ان ادیبوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔

 جنہوں نے انگریزی میں ناول لکھ کر بے پناہ شہرت حاصل کی تو آپ وکرم سیٹھ کے نام سے بھی واقف ہوں گے جنکے پہلے بہت ضخیم ناول ’دے سوٹ ایبل بوائے‘نے خاص طور پر مغرب میں دھاک بٹھا دی بلکہ ایک نقاد نے اسے ناول نگاری کا بائبل ٹھہرا دیا‘ بہت ہی معمولی اور بور ناول تھا میں لاکھ کوشش کے باوجود خون کے گھونٹ پی پی کر بھی پورا نہ پڑھ سکاہم دونوں ایک دوسرے کے معیار پر پورے نہ اترے۔ لیکن اس کے دوسرے ناول’این ایکول میوزک‘ نے میرے سب شکوے دور کر دیئے کہ یہ واقعی ایک شاندار ناول تھا۔ کلاسیکی مغربی موسیقی کی بھی ایک کلاسیکی صنف’چیمبر میوزک‘ نام کی ہے یعنی یہ پکے راگوں کا بھی پکا راگ ہے‘دو تین موسیقار یہ بڑے بڑے ستار نما سازوں پر جھکے تاروں پر گز پھیرتے ایسی اکتا دینے والی روں روں موسیقی بجاتے ہیں کہ انسان خودکشی پر قائل ہو جاتا ہے‘ وکرم سیٹھ نے مغربی کرداروں کےساتھ چیمبر میوزک کے حوالے سے ایسی شاندار تحریر لکھی ہے کہ میں نے خود ایک مرتبہ پھر چیمبرمیوزک کو سننے کی کوشش کی اور میں اس سے لطف اندوز ہوا چنانچہ میں نے وکرم سیٹھ کاایک پرانا سفر نامہ’فرام ہیون لیک‘ پڑھنا شروع کر دیا کہ دیکھیں سیٹھ صاحب سفرنامہ میں کیا کمال دکھاتے ہیں‘ اسلئے بھی کہ میں خود سنکیانگ کی طویل مسافتیں طے کر چکا تھا لیکن سَوری سیٹھ صاحب آپکے اندر آوارگی کی وہ حس موجود نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔