104

صارفین کی یونین

جدید دنیا کے تقاضے ماضی بعید کی دنیاسے کافی مختلف ہیں آج کی دنیا میں تقریباً ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اپنی یونینزUnions بنا رکھی ہیں‘ ابتدا توشاید فیکٹریوں میں مزدوروں کی یونینز کے قیام سے ہوئی تھی لیکن انکی دیکھا دیکھی زندگی کے مختلف شعبوں میںکام کرنےوالوں نے بھی یونین بازی کا چلن اپنا لیا‘چنانچہ آج اساتذہ کرام کی بھی یونین ہے ‘کلرکوں کی بھی ہے ‘ ڈاکٹروں کی بھی ہے ‘ انجینئروں کی بھی ہے ‘ کسانوں اور زمینداروں کی بھی ہے حتیٰ کہ بس ڈرائیوروں کی بھی یونین ہے قصہ کوتاہ کوئی بھی پتھر اٹھا لیجئے آپ کو اس کے نیچے کوئی نہ کوئی یونین ضرور ملے گی‘ یونین بنانا کوئی بری بات نہیں لیکن اسکا مشن خالصتاً غیر سیاسی ہونا چاہئے‘ ہرطبقے کواپنے حقوق کی حفاظت اجتماعی طور پر کرنی چاہئے‘ اس میںکوئی قباحت نہیں ہاں البتہ یونینز کو ایک بات ضرور ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ حقوق کےساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑی اہمیت رکھتی ہیں‘ امریکہ کے ایک سابق صدر جان ایف کینیڈی نے ایک بڑی خوبصورت بات کہی تھی انہوںنے ایک موقع پر فر مایا تھا کہ ویسے تو ہر امریکی یہ کہتا پھرتا ہے کہ امریکہ نے مجھے کیا دیا لیکن کبھی اس نے اپنے آپ سے یہ سوال پوچھا ہے کہ اس نے امریکہ کو کیا دیا‘ حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے معاملہ اس وقت خراب ہو جاتا ہے۔

 جب کسی یونین کے کرتا دھرتا محض اپنے حقوق کی ہی رٹ لگاتے پھریں اور یہ نہ سوچیں کہ انکے منصب نے ان کو جو ذمہ داریاں سونپی ہیں کیا وہ ان کو بھی کما حقہ پورا کر رہے ہیں یا نہیں ؟ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ یونینز کی تشکیل پر اگر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں تو محض اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کو اکثر سیاسی پارٹیوں نے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کیا ہے‘ وہ ان کو گمراہ کرکے سڑکوں پر لے آتے ہیں‘ اکثر والدین کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے خون پسینے کی کمائی سے پیسہ بچا کر اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں اسلئے نہیں بھجواتے کہ سیاسی لوگ ان کو اپنی سیاسی توپوں میں بطور ایندھن استعمال کریں‘ ان کو سڑکوں پر لا کر پولیس کےساتھ مڈبھیڑ کروا کر ان کی ہڈی پسلی یا ہاتھ پاﺅں پولیس کے ڈنڈوں سے تڑوائیں اور انکا تعلیمی سال بھی ضائع کرائیں‘ وہی یونینز عوام کی نظروں میں وقعت پاتی ہیں کہ جو اخلاقیات سے عاری نہ ہوں اگر کسی یونین کے عہدیدار یونین کی طاقت کے بل بوتے پر اپنے امپلائرز کو کسی ذاتی فائدہ کیلئے بلیک میل کرتے ہیں تو وہ بہت جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ دیانتداری سے ان کے کسی رکن کےساتھ کسی ظلم یا زیادتی ہونے کی صورت میں اس زیادتی کےخلاف آواز اٹھاتے ہیں تو وہ عوام میں سرخرو رہتے ہیں۔

 ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ایسا ہوتا ہے کہ کئی دفعہ اگرکسی شعبے یاطبقے کا کوئی فرد کسی جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسکے شعبے کی متعلقہ یونین پیٹی بندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی حمایت میں کھڑی ہو جاتی ہے اور یہ نہیں سوچتی کہ اسکے اس جرم سے اسکے پیشے کے تقدس پر حرف آیا ہے اس روش کو اگر یونینز کے کرتادھرتا ختم کردیں تو بہتر ہو گا‘وطن عزیز میں ہر تحصیل اورہر ضلع اور ہر شہر میں صارفین کی یونینز کا قیام ضروری ہے کہ جو حریص تاجروں اور دکانداروں پر کڑی نظر رکھیں اور عوامی رائے کو اس قدر موبلائز کر دیں کہ وہ انکے اشارے پر ان دکانداروں کا سوشل بائیکاٹ کیا کریں کہ جو بلےک مارکیٹنگ میں ملوث پائے جائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔