114

امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع پر کمپنیز چین کے ردعمل کی منتظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کی اقتصادی بحالی کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی اور تجارت پر کشیدگی میں اضافے کی دھمکی کے بعد کمپنیاں یہ دیکھنے کی منتظر ہیں کہ چین کس طرح اس کا جواب دے گا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعہ کو 200 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر ٹیرف میں اضافے پر ریگولیٹرز نے ’ضروری جوابی اقدام‘ کی دھمکی دی ہے لیکن 3 روز گزرنے کے باوجود بیجنگ کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا کہ وہ کیا کرسکتا ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی عدم توازن کے باعث بیجنگ جرمانے سے پہلو تہی اختیار کرنے کے لیے درآمدات سے بھاگ رہا ہے، تاہم ریگولیٹرز کی جانب سے چین میں امریکی کمپنیوں کو ہدف بتاتے ہوئے شپمنٹس کے لیے کسٹم کلیئرنس اور کاروباری لائسنس کی اجرا کو سست کرنا شروع کردیا ہے

ادھر ایک صنعتی گروپ امریکا-چین بزنس کونسل کے نائب صدر جیک پارکر کا کہنا تھا کہ کوئی اگلا قدم اٹھانے سے قبل حکام چین کی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام اس بات کے لیے فکر مند ہوسکتے ہیں کہ ’جارحانہ جوابی کارروائیوں‘ کے نتیجے میں کمپنیز اپنے آپریشنز کو چین سے باہر منتقل کرسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ پر پہلے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد جمعہ کو ہونے والے حالیہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگئے۔

چین کے چیف سفیر، نائب وزیر اعظم لیو ہی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ بقایا معاملات اصولوں کے ساتھ کرنا پڑے تھے اور ’ہم اصولوں کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں کریں گے‘۔