139

بدلتا ہوا سیاسی منظر نامہ

ملک کے سیاسی ‘پارلیمانی اور انتظامی امور میں کئی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ جن سے اس ملک کا عا م آدمی دل برداشتہ ہو رہا ہے مثلاً اسے ا س بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اگر کسی سیاستدان کو ایماندار اور پارسا نہ ہونے پر سپریم کورٹ نااہل قرار دےدے تو پھراسے کس قانون کے تحت اجازت دی جاتی ہے کہ وہ سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرے ہمیں اس شخص کا نام لینے کی ضرورت نہیں قارئین سمجھ دار ہیں وہ یقینا سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارا اشارہ کس جانب ہے ‘ فواد چوہدری سے بھلے کوئی لاکھ سیاسی اختلاف کرے لیکن یہ بات ان کی بالکل صحیح ہے کہ ہم نئی ٹیکنالوجی استعمال کیوں نہیں کرتے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ناسانے ایک ایسی طاقتور خلائی ٹیلی سکوپ بنا رکھی ہے کہ جو چاند کے بارے میں ہر قسم کی معلومات دے سکتی ہے مثلاً یہ کہ اسوقت چاند کہاں ہو گا اورکتنا نظر آئے گا بلکہ یہ بھی کہ آج سے ہزار سال پہلے چاند کہاں تھا اور ہزار سال بعد چاند کہاں ہو گا ‘کیا ہم جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاکر اپنے مذہبی ایام اور تہواروں کے دن مقرر نہیں کرسکتے؟یہ کام سائنسدانوں کا ہے آپ ان کو کہہ دیجئے وہ آپ کو اسلامی کیلنڈر بنا کر دےدیں گے اور یہ جو ہر سال رمضان شریف اور عیدالفطر کے موقع پر رویت کے بارے میں اس ملک میں تنازعہ اٹھتا ہے یہ تو کم از کم ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکتا ہے‘ اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں گزشتہ چند دنوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے فروٹ اور گوشت کھانا تو اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں گوشت کا دیدار اب وہ صرف سال میں ایک مرتبہ عیدقربان پر کرتا ہے‘ وہ بھی اگر کسی نے اپنا سمجھ کر قربانی کا گوشت اس کے گھر بھجوادیا تو‘ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اسکے کارن ملکی سطح پر اس کی قیمت بڑھتی ہے اور چونکہ پٹرول سے ٹرانسپورٹ چلتی ہے۔

 جس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں اشیائے صرف کی ترسیل ہوتی ہے تو تاجروں کو بہانہ مل جاتا ہے کہ وہ اس کوجواز بنا کر اشیائے صرف کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیں‘اس بات کا تعین کوئی نہیںکرتاکہ کیا انہوں نے اشیائے صرف کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ تناسب کے لحاظ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے عین مطابق ہے یااس سے کئی زیادہ‘ پھر جب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی آتی ہے تو اس وقت پھر کوئی بھی اس حساب سے نہ تو ٹرانسپورٹ کے کرائے میں کمی کا حساب لگانے کی کوشش کرتا ہے اور نہ یہ دیکھتا ہے کہ تاجروں نے بھی اب ان اشیائے صرف کے داموں کو پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر کم کیا ہے یا نہیں ‘خدا لگتی یہ ہے کہ غریب آدمی کا یا اس طبقے کا کہ جس کی ماہانہ آمدنی فکسڈ ہے اس کا کوئی بھی پرسان حال نہیں او ر یہ ہی وہ طبقے ہیں کہ جو مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں‘ موجودہ حکمرانوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس وقت اپویشن تتر بتر ہے اسکے تمام سرکردہ رہنما میگاکرپشن کے مقدمات جھیل رہے ہیں‘ اسلئے وہ سردست اس پوزیشن میں نہیں کہ حکومت کی کسی خامی کو اچھال سکیں۔

 ویسے بھی عوام الناس ابھی موجودہ حکمرانوں کو کچھ مزید وقت دینے کے حق میں ہیں کہ مبادا آئندہ چار ماہ میں شاید وہ ڈےلیور کر پائیں‘ خدا لگتی یہ ہے کہ عوام نے ان لوگوں کو بھی مسند اقتدار پر کافی عرصے تک بٹھاکر دیکھ رکھا ہے کہ جو آج راندہ درگاہ ہیں‘حکومت نے لوکل گورنمنٹ کے نئے خدوخال تشکیل تو دئیے ہیں لیکن عوام کو جو بات سمجھانے کی ہے وہ یہ ہے کہ نیا نظام پرانے نظام سے کیسے بہتر اور مختلف ہو گا‘ نئے نظام کے اندر آخر کون سی گیدڑ سنگھی ہو گی یا الہ دین کا چراغ ہو گاکہ جس سے مقامی سطح پر عوام کے مسائل فوراً اور بہتر انداز میں حل ہو جایا کریں گے‘اس پر پارلیمنٹ کے اندر ایک سیر حاصل بحث و مباحث کی ضرورت ہے‘وزیراعظم نے یہ بات توکہہ دی کہ ارکان پارلیمنٹ کو ہرسال کروڑوں روپے اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کام کروانے کے نام پر نہیں دینے چاہئےں لیکن یہ آرڈر تو انہوں نے خودکرنا ہے سو وہ اسے فوراً کردیں اگر انہوں نے اسے ابھی تک نہیں کیا۔