112

میرا رمضان

پچھلے سال رمضان میرے لئے مختلف ثابت ہوا۔ ایک تو بیگم ملک سے باہر تھیں‘ بچے بھی بڑے ہوگئے اور اکثر گھر خالی رہتا تھا۔ بس ایک امی تھیں جن کے ساتھ تھوڑا بہت وقت گزرجاتا تھا۔ دوسرے کئی سالوں کی کاہلی سے وزن بڑھ گیا تھا‘چنانچہ رمضان سے کچھ ہی ماہ قبل میں نے ورزش باقاعدہ شروع کردی تھی۔ جم جوائن کیا۔ سوئمنگ شروع کی۔ گھر میں کچھ توڑ پھوڑ اور اکھاڑ پچھاڑ میں لگ گیا اور سونے جاگنے کا معمول بدل دیا۔ ٹی وی بالکل بند کردیا‘مطالعہ بڑھا دیا‘ چنانچہ جب رمضان آیا تو میں مکمل تیاری میں تھا‘رمضان کے باوجود میں نے ہسپتال صبح سویرے جانا شروع کیا۔ ساڑھے سات بجے سے کام شروع کرتا تو ٹیم ورک کے ساتھ بخوبی اپنا کام دو بجے تک نپٹادیتا۔ چار بجے تک کچھ لکھ پڑھ لیتا اور پھر جم جاکر ورزش اور سوئمنگ کرتا‘سوئمنگ سے حیرت انگیز طور پر روزے کی پیاس کم ہوجاتی۔ افطاری سے کچھ دیر قبل گھر آتا ۔ افطاری تک بالکل ترو تازہ ہوتا۔

پچھلے سال میں نے تہیہ کیا تھا کہ ہر قسم کے ضرر رساں کھانوں سے پرہیز کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلی پابندی پکوڑوں پر لگی۔ پکوڑے کئی لحاظ سے ضرر رساں ہیں‘اگربازار والے ہیں تو مضرصحت تیل میں بنے ہوتے ہیں اور شریانوں کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیتے ہیں۔ ویسے بھی اس میں زیادہ تر نشاستہ دار اغذیہ ہوتی ہیں جو کہ موٹاپے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسکے علاوہ اس میں قسم قسم کے مصالحے ہوتے ہیں جو معدے کی جھلی کو زخمی کردیتے ہیں ۔تیزابیت پیدا کرتے ہیں اور پھر ساری رات سونے نہیں دیتے۔ دوسری قدغن لگی شربت پر۔ہماری افطاریوں میں قسما قسم کے شربت لازمی حصہ ہوتے ہیں‘ یہ تمام شربت نہاےت غیر معیاری اشیاءسے تیار ہوتے ہیں۔ ان میں تمام کمرشل جوس اور دوسرے ڈرنکس بھی آتے ہیں ان کا صحت پر اتنا گہرا اور خراب اثر ہوتا ہے کہ امریکہ کی کئی ریاستوں میں ان پر پابندی لگ گئی ہے یا ان کا استعمال محدود کردیا گیا ہے۔ پہلے کوک اور پیپسی کے ایک ایک لٹر کے گلاس ملتے تھے ، ان پر اب پابندی لگ گئی ہے۔ ان میں نہ صرف سفید شکر‘ شکر کی متبادل اشیائ‘کیمیکلز‘ رنگ اور مصنوعی ذائقے ہوتے ہیں جو نہ صرف خون میں زہر بناتے ہیں بلکہ فوری طور پر دماغ میں پہنچ کر تمام ہارمونز کا کباڑا کردیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے شربت کے متبادل کے طور پر لسی کا استعمال شروع کردیا۔

تیسری پابندی جو بڑی مشکل سے لگی کہ امّی نہیں مانتی تھیں وہ کھجور پر تھی۔ کھجور کو پتہ نہیں کیوں رمضان کا لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے پیارے مسلمان تاجر رمضان میں اسکی قیمت چارگنی کردیتے ہیں اور سادہ دل روزہ دار خریدتے جاتے ہیں کہ یہ تو فرض نہیں تو سنت ہے۔ ایک تو یہ بات یاد رکھی جائے کہ کھجور حجاز کا کھاجا تھا۔ ظاہر ہے وہاں آم یا خربوزے تو نہیں تھے۔ اور کھجور تازہ یا خشک چوہاروں کی شکل میں وہاں کھانے پینے کی عام شے تھی۔ عرب نہ صرف افطار میں کھجور کھاتے تھے بلکہ عام کھانوں کا بھی یہ حصہ ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ عرب کلچر کے ان عناصر کو سُننِ عادیہ کہاجاتا ہے اور یہ سُننِ تنبیہی کے مقابلے میں پیروی کے لازمی جزو نہیں۔ کھجور میں بہت زیادہ شکر پایاجاتا ہے اور اس میں بہت کم فائبر ہوتا ہے۔ اسلئے اس سے خون میں فوری طور پر شوگر کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے فوری طور پر انسولین کے اخراج پر دباﺅ پڑتا ہے۔ اس لئے کھجور صحت کیلئے کچھ بہت ہی لازمی یا صحت مند شے نہیں۔ بڑی مشکل سے امّی کو راضی کیا اور یوں کھجور کا بھی خاتمہ ہوا۔

یوں میں نے اپنی افطار کو بہت آسان اور سادہ بنایا۔ لسی سے پیاس بجھائی اور فوری طور پر کھانے بیٹھا۔ روٹی‘ سالن جو عموماً گھر میں بنتا ہے۔ روٹی کی مقدار کم کی اور سالن چمچ سے کھانا شروع کیا۔ افطار کے بعد ایک مگ چائے کا لیا اور بس طبیعت سیر ہوگئی۔ نماز کے بعد ہلکی سی چہل قدمی اور آرام کی نیند۔
سحری میں البتہ ایک ہلکا سا پراٹھا اور انڈے لینے سے دن بھر بھوک نہیں لگتی‘ غذائیت بھی بھرپورکہ انڈے میں پروٹین بہت ہوتی ہے۔ پہلے انڈے کی زردی سے ڈرلگتا تھا کہ یہ دل اور بلڈ پریشر کیلئے مضر ہے لیکن اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انڈے کی زردی کولےسٹرول کیلئے کوئی خطرے کی بات نہیں اور ایف ڈی اے جو امریکہ میں غذائیت اور ادویات کے بارے قوانین بناتی ہے‘ نے اسے منفی اشیا کی فہرست سے نکال دیا ہے‘اکثر مریضوں کی صحت یابی میں انڈے بہت مثبت کردار اداکرتے ہیں۔
رمضان میں پانی کی کمی کی وجہ سے اور آسانی سے ہضم ہونے والی میٹھی اشیاءکھانے سے انتڑیوں میں فضلہ نہیں بنتا۔اس لئے قبض کی شکاےت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگرچہ اسکا کچھ برا اثر نہیں ہوتا لیکن ہمارے کلچر میں اسے پرانے حکیموں نے اُمّ الامراض بنادیا ہے۔ چنانچہ ہر شخص روزانہ حاجت نہ کرے تو اسے بیماری لگتی ہے۔ اس لئے اگر کسی کو حاجت کی فکر لگی رہتی ہے تو بہتر ہے کہ کھانے کے ساتھ یا تو فروٹ زیادہ کھالیا کرے اور یا اسپغول کا ست استعمال کرے تاکہ قبض کی شکاےت نہ ہو۔

پچھلے سال رمضان کا قصہ میں نے لمبا ہی کردیا لیکن اس خوراک کے ساتھ نہ تو مجھے کھٹی ڈکاریں آئیں اور نہ ہی مجھے معدے کی تیزابیت کا علاج کرنا پڑا۔ سارادن فریش بھی رہا اور سب سے بڑی بات یہ کہ قریباً چھ سات کلو وزن بھی پچھلے رمضان میں کم کیا۔ اب اس رمضان میں بھی یہی ارادہ ہے کہ وزن کچھ اور کم ہوجائے۔ میرا اس سال بھی یہی منصوبہ ہے کہ رمضان کے افطار اور سحر کو روزانہ کی دعوت نہیں بناﺅں گا بلکہ نہ صرف اپنے کام کامعمول جاری رکھوں گا بلکہ کھانے پر بھی ہاتھ ہولا رکھوں گا۔ روزہ میرے خیال میں اپنی تمام ڈیوٹیوں کے ساتھ‘ کھانے پینے سے پرہیز کے ساتھ ساتھ اپنے غصے پر قابو‘ خندہ پیشانی کو برقرار رکھنے اور معمول سے زیادہ خوش اخلاقی کا نام ہے‘درگزر کا نام ہے‘ دوسرے کی بداخلاقی کو نظر انداز کرنے کا نام ہے‘ لوگوں کیلئے مزید آسانیاں پیداکرنے کا نام ہے‘ بہترین عبادت بہترین اخلاق ہے۔ فرض نماز کے ساتھ بس یہی فرض ہیں‘ باقی نفل اعمال تو بہت ہیں‘ موقع ملے تو کریں‘نہ ملے تو ملال نہیں نہ گناہ‘ نہ پوچھ گچھ۔واہ رے‘ رمضان کے احسانات۔ ثواب کا ثواب ‘ روحانی اور جسمانی فوائد کے فوائد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔