104

ریلوے کے160 سال

آج سے ٹھیک ایک سو اٹھاون برس قبل پاکستان کی پہلی ٹرین چلی تھی کراچی سے کوٹری تک 106میل لمبی لائن پر پہلی گاڑی چلائی گئی تھی اس ریلوے لائن کی تعمیر کاکام اس سے دوبرس قبل یعنی 1859ءمیںشروع ہوا تھا جو مارچ 1861ءمیں مکمل ہوا تاہم پہلی ریل تیرہ مئی 1861ءکو چلی برصغیر میں ریلوے کی آمد کسی انقلاب سے کم نہ تھی کیونکہ اس نے لوگوںاور تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار اداکیا‘ ریلوے کی آمدسے پہلے حالات بہت مختلف تھے اونٹوں‘ گھوڑوں‘گدھوں‘خچروں پرسفر ہوا کرتا تھا‘ غریب لوگوںکوتویہ سہولت بھی میسرنہیں تھی دریاﺅں پرپلوںکی تعمیر سے پہلے برصغیر پاک وہند کے بیشتر علاقوںمیںدریاکے ایک کنارے کی تہذیب دوسرے کنارے پربسنے والے لوگوںکی تہذیب‘ ثقافت اورزبان بھی نہیں ملتی تھی‘ دنیا میں سب سے سستا سفر پانی کاہوا کرتاتھا اسکے بعد سب سے ارزاں نرخوں پر سفر کاذریعہ ریلوے نے فراہم کیا جس نے انیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں دوردراز کے علاقوں ‘لوگوں اور تہذیبوں کو کم سے کم وقت میں ملانے کانقلاب بپا کیا‘ڈیڑھ سوسال پہلے بعض دانشوروں اور سیاسی رہنماﺅں کی یہ پیشگوئی بالکل درست ثابت ہوئی کہ ریلوے کے ذریعہ سکڑنے والے فاصلے کاہر فر لانگ اس خطے کے لوگوں کی غیر ملکی حکمرانوں سے نجات پانے کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کاذریعہ ثابت ہوگا۔

 برصغیر کے دور درازمیں بکھری پڑی ہوئی ثقافتوں کو قریب لانے کے علاوہ ریلوے نے سیاسی شعور کی بیداری کی لہر کو بھی تیز کیا‘ قیام پاکستان سے قبل موجودہ ریلوے سسٹم نارتھ ایسٹرن سٹیٹ ریلوے کہلاتاتھا قیام پاکستان کے بعداسے پاکستان ایسٹرن ریلوے اورپاکستان ویسٹرن ریلوے کانام دیاگیا جبکہ 1971ءمیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سے یہ پاکستان ریلوے ہی کہلاتاہے‘ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ نوجون 1962کو ریلوے کامحکمہ وفاق سے نکال کر صوبوں کے حوالہ کیاگیاتھا انگریزوں نے انتہائی مشکل اور نامساعدحالات میں برصغیرکے طول وعرض میں ریلوے لائنیں بچھا دی تھیںجن میں خیبر پاس اور بولان پاس جیسے منصوبے تو عجائبات عالم میں شامل ہونے کے قابل ہیں‘ پاکستان بننے کے بعدصرف جنرل ایوب خان کے دور میںریلوے کی ترقی کےلئے کام ہوا‘اس دورکاسب سے اہم منصوبہ لاہورسے خانیوال تک بجلی سے چلنے والے انجنوںکو متعارف کراناتھا مگر پھرجمہوریت آئی اور دیگر شعبوںکی طرح ریلوے کو بھی نگلنے لگی‘ بدترین سیاسی مداخلت نے اس عظیم محکمے کو تباہی کی شاہراہ پر تیز ی سے گامزن کرادیا‘ملک بھرمیںریلوے کی حالت خراب ترہوتی چلی گئی‘ہزاروں بوگیاں ویگن اورسینکڑوں انجن ناکارہ ہوچکے ہیں‘ سینکڑوں کلومیٹر ریل کی پٹڑیاں ناکارہ ہوچکی ہیں گاڑیاں منٹوں اورگھنٹوں کے بجائے دنوںتک لیٹ ہونے لگی ہیں‘ بعض سیکشنوں پر تو ٹرینوںکی سروس ہی بند کی جاچکی ہے‘ بہت سی ریلوے لائنوں پر سگنل سسٹم خطرناک حد تک ناکارہ ہوچکاہے ‘۔

سینکڑوں پل کئی عشرے قبل ہی اپنی میعاد پور ی کرچکے ہیں ریلوے کاخسارہ اربوںسے بھی تجاوز کرنے لگاہے گذشتہ دس سال میں ریلوے کاخصوصی طورپربیڑہ غرق کیاگیا ‘سابق وزیر ریلوے غلام احمد بلور نئے انجنوں کےلئے چیختے رہ گئے حالانکہ پاکستان میں واقع لائنیں آج بھی تجارت و ٹرانسپورٹیشن کے حوالہ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں مگر ٹرانسپورٹ مافیا اور خودسرکار ی اداروں میں موجود کرپٹ مافیا کے اتحاد نے ریلوے کاکباڑہ کرنے میں کوئی کسراٹھا نہ رکھی اسی شہر پشاور سے کسی زمانے میں آٹھ سے دس ٹرینیں چلا کرتی تھیں جن کی تعداد اب بمشکل تین رہ چکی ہے‘ صوبہ کے جنوبی اضلاع میںکم گیج کی لائنےں یاتو اکھاڑ ی جاچکی ہیں یا پھر تباہی کاشکار ہیں مردان سے لے کر درگئی سیکشن کی جو حالت زار ہے وہ سب کے سامنے ہے‘ حویلیاں سیکشن پر بھی کوئی ٹرین سروس نہیں رہی ‘پشاور لنڈی کوتل لائن زمانے کی دست بردکاشکارہوچکی ہے‘ کہنے کو تو ریلوے کا بہت بڑا سیٹ اپ پشاور میںموجود ہے مگر صوبہ میں ریلوے کے فروغ اوربہتری کےلئے اس کا کردا ر کبھی نظر نہ آسکا‘ آج جبکہ پاکستان ریلوے اپنی عملی عمر کے 158اور حقیقی عمر کے 160سال پور ے کررہا ہے‘ پی ٹی آئی کی حکومت میںریلوے کے دور نو کے حوالہ سے کوششیں تو شروع ہوچکی ہیںاور چین کےساتھ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کامعاہدہ بھی ہوچکاہے ‘دیکھنا اب یہ ہے کہ حکام اس عظیم محکمے کاسنہرادور واپس لانے میںکس حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ مافیا کے ہاتھوں شہریوں کے استحصال کو روکنے مےںفعال ریلوے ہی اہم کردار ادا کرسکتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔