96

پھر سے ایمنسٹی سکیم

محب وطن پاکستانیوں کو خدشہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی کہیں یہ سازش نہ ہو کہ پاکستان پرقرضوں کا اتنا بوجھ لاد دیا جائے کہ ان کاحجم 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے اور معاشی طور پر یہ ملک اتنا کمزور اور لاغر ہو جائے کہ نہ وہ قرضے اتار سکے اور نہ ان پر سود کی رقم ادا کر سکے اور اس طرح وہ ڈیفالٹ کرجائے اور جب وہ اس سنگین صورتحال کا شکار ہو جائے تو پھر اسے ایسا بیل آﺅٹ پیکج پیش کیا جائے جسکے بدلے میں پھر پاکستان کو اپنے نےوکلیئر پروگرام پر سمجھوتہ کرناپڑے یا سی پیک کے بارے میں معلومات امریکہ کے ساتھ شیئر کرنے پر مجبور کیا جائے‘ کیونکہ یہ دونوں پروگرام امریکہ اور اسکے مغربی حواریوں کو بری طرح کھٹک رہے ہیں‘ شنید ہے کہ نئے گورنر سٹیٹ بینک جو آئی ایم ایف کے ملازم ہیں دوہری شہریت کے مالک ہیں اور انکا پاکستانی شناختی کارڈ 4 مئی 2019ءکو بنا کر انہیںگورنر لگایاگیا‘ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت پر آئی ایم ایف کا کس قدر دباﺅ ہے‘ایک لمبے عرصے کی غیر حاضری کے بعد اگلے روز وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے اراکین کو اپنے درشن کروائے‘ اس روش کا ایک منفی اثر یہ ہوا ہے کہ وزراءبھی وزیراعظم کی دیکھا دیکھی پارلیمنٹ کو گھاس نہیںڈالتے‘ اگلے روز اپوزیشن کا ایوا ن بالا میں وزراءکی عدم موجودگی پر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والے ارکین نے اس معاملے پر واک آﺅٹ بھی کیا اگر توآپ نے اس ملک میں پارلیمانی جمہوریت چلانی ہے۔

 تو پھر اس کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرنا ہوگااوران تقاضوں میںپارلیمنٹ کے اجلاسوں میں وزیراعظم کی حاضری بڑی ضروری ہے‘ افسوس کامقام ہے کہ انکے پیشرو میاںنواز شریف کی طرح موجودہ وزیراعظم بھی پارلیمنٹ کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں‘ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اکثر وزراءاب شاذ ہی قومی اسمبلی کا رخ رکھتے ہیں اور ایوان بالا کو تو وہ بالکل ہی اہمیت نہیں دیتے‘ ایمنسٹی سکیم کا آج کل بڑا چرچا ہے پچھلی حکومتوں نے بھی اس قسم کی سکیموں کا اجراءکیا لیکن اس نئی سکیم کا کیا انجام ہو گا اس سوال کا جواب تو وقت ہی دے سکے گا لیکن اس ملک کے عام آدمی کو جو سوال تنگ کررہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر حکومت نے کوئی نئی ایمنسٹی سکیم جاری کر دی تو کیا اس سے اس ریکوری یونٹ کے کام پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

 جو عمران خان نے اثاثوں کی ریکوری کیلئے قائم کیا ہوا ہے ؟ واقفان حال کاکہنا ہے کہ لگ یوں رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو اب یہ یقین ہو چلاہے کہ اب شاید وہ عوام سے کیاگیا اپنا یہ وعدہ پورا نہ کر سکے کہ وہ ان 200 ارب ڈالر کو وطن واپس لائے گی کہ جو بعض لوگوں نے بیرون ملک چھپا رکھے ہیں اثاثوں کی ریکوری کا یونٹ اپنے مقصد میں اب تک ناکام نظر آرہاہے‘ یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد اثاثوں کی ریکوری کا یونٹ تشکیل دیا تھا جس میں سٹیٹ بینک ‘ ایف بی آر ‘ نیب ‘ ایف آئی اے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہیں‘ نئی ایمنسٹی سکیم لانے کا تو دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ حکومت کو غیر ممالک میں پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کو پاکستان لانے میں سنگین رکاوٹ کا سامنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔