167

استاد باندری سے ملاقات

تربوز خریدنے کےلئے نہر کنارے ایک ریڑھی کے قریب رکا تو قریب ہی ایک بندر والا ‘ اپنے بندر اور بکرے سمیت بیٹھا ہوا تھا‘ اس کا بندر ایک چھوٹا سا تربوزہاتھوںمیں لئے بیٹھا تھا ‘ تربوز کھاتے ہوئے وہ اردگرد بھی بٹ بٹ دیکھ رہا تھا جبکہ بکرا آرام سے ایک طرف بیٹھا جگالی کر رہا تھا‘ میںنے یونہی مذاقاً بندر والے سے پوچھا ‘کیا تمہارا بندر سرعام تربوز کھاکر احترام رمضان کی خلاف ورزی نہیں کر رہا؟ وہ بولا سر جی ! آپ دیکھ رہے ہیں گرمی نے ہربندے کو بدحال کر رکھا ہے یہ نہر پر نہانے پر بھی سنا ہے پابندی ہے مگر غریب لوگ تپتی دوپہروں کو گھروں میںکیسے گزاریں؟ سبھی یہاں نہر میں نہا رہے ہیں ہمارے جھونپڑوں میں تو ویسے بھی بجلی نہیںہے یہ جانور بڑ ے کماﺅ پوت کی طرح ہیں انہی کا تماشا دکھا کر روٹی روزی کما تا ہوں پر جی ! اب تو گرمی ہے ان بے زبانوں کی زبانیں بھی سخت گرمی سے باہر آ جاتی ہیں میںبندر کو یہاں لے آیا یہاں بچے جوان نہاتے ہوئے میرے بندر اور بکرے سے محظوظ ہو کر کچھ نہ کچھ خدمت کر دیتے ہیں‘ آج تو اتنی سخت گرمی ہے کہ ابھی بندر کو بھی نہلایا ہے اب یہ بدن خشک کر رہا ہے تربوز والے نے ترس کھاکر چھوٹا سا تربوز عنایت کر دیا ہے جو یہ کھا رہا ہے ‘تو کیا بندر کا اب بھی تماشا دیکھا جاتا ہے ؟ میں نے سوال کیا تو وہ بولا وہ پہلے جیسی بات تو نہیں ہے جی پھر بھی میرے بندر اور بکرے کاتماشا دیکھا جاتا ہے۔

 زیادہ دیہاتی علاقے میں صبح کے اوقات یاشام میں مجمع لگا کر چار پیسے کما لیتا ہوں لیکن سچی بات ہے جی اب گزارہ کرنا مشکل ہوگیا ہے ‘لوگ زیادہ تر مفت ہی دیکھتے ہیں بس کچھ لوگ خوش ہو کر پانچ د س روپے بندر کی ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں‘ خاص طو رپر جب یہ بھوکے ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے زمین پر لیٹ کر پیٹ پر ہاتھ رکھتا ہے اور پھر اٹھ کر تماشائیوں کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کرتا ہے تو لوگ پیسے پھینکتے ہیں‘ تربوز والے نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا بندر تو تماشا کرتا ہے یہ بکرا کیا کرتا ہے ؟ بندر والا بولا ‘ بکرا بنڑا گنی ہے جی‘ یہ ایک پائے پر چاروں پاﺅں رکھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اس کو میں نے تیس ہزارمیں ایک رشتہ دار سے قسطوں میں خریدا ہے اب اسکی قسطیں پوری ہونےوالی ہیں اس کا بندر سے خرچا کم ہے اسے ہم رانجھا کہتے ہیں۔رانجھا ؟ میںنے ذرا زور دےکر کہا اور اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرادیا جی بس فضلو چاچا نے اس کا نام رانجھا رکھا ہوا تھا ہم بھی اسی نام سے پکارتے ہیں پھر تو بندر کا نام بھی ہوگا؟

 جی بندر کا نام ”بنٹی“ ہے لیکن جی اسکے بڑے نخرے اٹھانے پڑتے ہیں فروٹ کا بہت شوقی ہے لیکن فروٹ رمضان میں تو غریبوں کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے اب تو بھیک میں اس بے زبان کو بھی کوئی مفت پھل نہیں دیتا میں تو ستھرے کیلے بنٹی کےلئے خریدتا تھا گلے سڑے کیلے یا امرود کبھی اسے نہیں کھلائے اب اس کےلئے پنکھا خریدنا ہے بیٹری پر چلنے والا یہ بڑا نازک مزاج ہے جی گرمی میں بڑا تنگ کرتاہے تبھی تو اسے نہلانے کےلئے یہاں نہرپر آیا ہوا ہوںابھی یہ نہا کر بیٹھا ہے آرام سے تربوز کھا رہا ہے اور خوش بیٹھا ہے ۔میرے تین تربوز ریڑھی والے نے گاڑی میں رکھ دئیے تھے جب میں اسے تربوز مہنگے ہونے کا گلا کر رہا تھا تو وہ کہنے لگا دیکھ لیںصاحب جی استاد باندری سے حالات آپ نے سن لئے ہیں ’استاد باندری ‘ میں نے لفظوں پر زور دےکر بندر والے کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر بولا جی مجھ مسکین کو لوگ استا د باندری کہتے ہیں‘تین جماعت تک تعلیم بھی ہے لیکن بچپن سے مجھے جانور اچھے لگتے تھے‘ باپ نے مجھے باندری لےکر دی تھی مگر وہ ایک روز مجھے چھوڑ کر بھاگ گئی‘۔

 میں نے بات کاٹ کر کہا تم نے آگے کیوں نہیں پڑھا تو بولا ہم ٹک کر کہیں ایک جگہ کہاں رہتے ہیں وہ تو لالہ موسیٰ میں جب ہم رہتے تھے تو قریبی سکول میں جانے لگا تھا ماسٹر لطیف مجھ پر زیادہ توجہ دیتے تھے انہوں نے اردومیں پڑھنا سکھایا میں نام بھی لکھ لیتا ہوں اور اخبار تو سارا پڑھ لیتا ہو‘ں بس جی ہم پکھی واس اپنی دنیا میں خوش رہتے ہیں مگر روزی کیلئے آپ کی دنیا سے دور بھی نہیں رہ سکتے ہیں‘ عمران خان کو اللہ زندگی دے غریبوں کا درد رکھتا ہے مگر ابھی اس نے مہنگائی بہت کر دی ہے‘ ہماری زندگی تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے نہ کوئی روزگار نہ باقاعدہ چھت ‘ بس چل پھر دنیا کا میلہ دیکھ رہے ہیں اگر وہ جھونپڑوں والوں کیلئے بھی گھر بنا دے تو ہمارے جانور بھی اس کی حکومت کو دعائیں دیں گے‘ اب بنٹی بندر بھی تربوز کاپیالہ خالی کر چکا تھا‘میںنے بندر والے کو پچاس کا نوٹ دیا تو وہ دعائیں دیتا رخصت ہو گیا میں سوچ رہا تھا زندگی کس قدر دشوار ہو گئی اور استاد باندری جیسے لوگ بھی اب تنگ ہیں کاش! ایسے لوگوں کےلئے بھی کوئی سوچے؟ مگر کون سوچے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔