36

بے سودبحث

 عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی خوشدل خان نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کے نام خط میں گریڈ 19کی اسامی تخلیق کرنے کو بدنیتی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے‘پشاور سے صوبائی اسمبلی کی نشست PK-70 پر منتخب ہونےوالے خوشدل خان ایڈوکیٹ کا شمار منجھے ہوئے سیاست دانوں میں ہوتا ہے‘ آپ خیبرپختونخوا اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے ہیں اور ان سبھی معاملات کو قریب سے جانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی میں گریڈ ایک سے اعلیٰ تک صرف بھرتیاں ہی نہیں بلکہ تعیناتیاں اور مراعات کن اصولوں کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں۔ ہر دور حکومت میں صرف اسمبلی ہی نہیں بلکہ سرکاری محکموں میں ایسے اہلکاروں کو بھرتی کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی اپنی جماعت کےلئے قربانیاں دی ہوتی ہیں اور جن کے عام انتخابات میں مالی سرمایہ کاری کے ذریعے احسانات اس قدر ہوتے ہیں کہ فیصلہ سازی کے منصب پر فائز اراکین قومی مفاد میں ان کی خواہشات رد نہیں کر سکتے بلکہ ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جن میں سیاسی کارکنوں کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمتیں تخلیق کی گئیں‘آسمان نے یہ بھی دیکھا کہ پہلے من پسند افراد کو عارضی ملازم رکھا گیا اور پھر بیک جنبش قلم سینکڑوں عارضی ملازمین کو مستقل کر دیا گیا! بہرحال جمہوریت ایک ایسا شجر ہے جس سے پھل اور سایہ تاحال صرف اور صرف سیاسی جماعتوں کو ہی پہنچ رہے ہیں! سوال یہ ہے کہ آخر تبدیلی کے علمبردار ماضی کے حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو کیوں نہیں روک پائے!؟ تحریک انصاف کسی من پسند شخص کو بھرتی کرنا چاہتی ہے‘ جس کےلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مذکورہ آسامی پر کم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار شخص کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ملازمتی تجربے کی شرط ختم کرنا اس تصور کو تقویت دے رہا ہے کہ ضابطے کی کاروائی کرتے ہوئے واردات کرنے کی جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ حزب اختلاف کی ترجمانی کرتے ہوئے خوشدل خان نے مذکورہ بھرتی میں کم سے کم مذکورہ دو بنیادی بے قاعدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ گریڈ انیس جیسے بڑے ملازمتی رتبے پر براہ راست کسی نئے سپیشل سیکرٹری کو بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں ہے دوسری بات یہ کہ پہلے سے موجود کم درجے میں کام کرنے والے ایسے تجربہ کار اسمبلی ملازمین کی تعداد درجنوں میں ہے‘ جنہیں بذریعہ کسی امتحان اور انٹرویو ترقی دےکر نئی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں لیکن تیسری بات یہ کہ اگر ہر دور حکومت میں صوبائی اسمبلی ملازمین کی تعداد یونہی بڑھتی رہی تو اسمبلی اراکین سے زیادہ ملازمین ہو جائیں گے جبکہ صوبائی اسمبلی کے اخراجات پہلے ہی خزانے پر بوجھ بتائے جا رہے ہیں‘اشارہ قول و فعل کے تضاد کی جانب ہے‘تحریک انصاف کی قیادت مئی 2013ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی صوبائی حکومت کے دور سے اس بات کا رونا رو رہی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے صوبائی اسمبلی کو ملازمتوں کا دفتربنا دیا اور غیرترقیاتی اخراجات کم ہونے چاہئےں لمحہ فکریہ ہے کہ صرف حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی گریڈ انیس کے سپیشل سیکرٹری کی بھرتی کے معاملے پر ڈھکے چھپے انداز میں تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے آن دی ریکارڈ تبصرہ کرنے کی جرات نہیں کرتے!

 کیونکہ ہمارے ہاں سیاست اور طرز حکمرانی قومی مفادات کےلئے نہیں بلکہ پارٹی پالیسی اور ذاتی تعلقات جیسے اصولوں پر استوار ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے فیصلے اسمبلی کی چار دیواری اور کمروں سے باہر نہیں نکلتے‘اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کا کردار بھی متاثر کن نہیں‘ جو قومی یا صوبائی اسمبلیوں کی رپورٹنگ کرنے میں خود کو اجلاسوں کی کاروائیوں تک محدود رکھے ہوئے ہے! کہانی کا نچوڑ یہ ہے کہ ملک میں 2 پارٹی سسٹم رہا ہے‘ جس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اپنی اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت کرتی رہی ہیں اور ان دونوں میں پارلیمانی روایات کے نام پر طے ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات اور کارکردگی کو بھرے بازار میں نہیں اچھالا جائے گا‘اسی وجہ سے بہت ساری بے قاعدگیوں کا علم ہونے کے باوجود بھی ان سے متعلق سرعام بات نہیں کی جاتی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کو ان سے متعلق کچھ بتایا جاتا ہے تاکہ حکومت وقت پر عوامی دباو¿ ڈالا جا سکے!بے سود بحث ہے کیونکہ صوبائی اسمبلی ہو یا کوئی بھی وفاقی یا صوبائی حکومتی محکمہ‘ ملازمین کی بھرتی کےلئے ضوابط موجود ہیں‘ جن میں تعلیم و تجربے کی شرط کے ساتھ فیصلہ سازوں کو اس بات کا اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جس سے چاہیں رعایت کا معاملہ کریں‘تحریک انصاف اگر صوبائی اسمبلی میں گریڈ انیس کی آسامی پر کم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار شخص بھرتی کرنا چاہتی ہے تو ماضی میں بھی اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔