205

معیشت کے حوالے سے دو بڑے فیصلے

وفاقی کابینہ نے نئی ایمنسٹی سکیم کی منظوری دیدی ہے جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیاجائیگا‘ حکومت نے کالا دھن سفید کرنے کا ایک بڑا موقع دیتے ہوئے اثاثے ظاہر کرنےوالوں پر مختلف وقفوں کیساتھ مختلف شرح سے ٹیکس کی تجویز دی ہے‘ ایمنسٹی سکیم کا اطلاق بے نامی اکاﺅنٹس پر بھی ہوگا‘ان اکاﺅنٹس میں یکم جولائی 2017ءسے 30جون 2018ءتک کی ٹرانزیکشنز شامل ہوںگی‘ اسی روز جب وفاقی کابینہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دہے رہی تھی چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ٹیکس دفاتر کو چھاپہ مار کاروائیوں سے روک دیا چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی فہرست سے کسی کانام خارج کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے‘ اسی روز خیبرپختونخوا کی اکانومی کے حوالے سے ایک اہم بات صوبے کی سطح پر پیدا ہونیوالی 71میگاواٹ بجلی کا نیشنل گرڈ میں شامل ہونا ہے‘ بجلی کی فروخت سے صوبے کو 2ارب روپے سالانہ کی آمدنی ہوگی‘ صوبے کی جانب سے 200میگاواٹ مزیدبجلی بھی نیشنل گرڈ کو دینے کا کہا جارہا ہے۔

 وزیراعلیٰ محمود خان اس فیصلے کے دن کو تاریخی قرار دیتے ہیں‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیم ہو یا پھر خیبرپختونخوا کی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ یہ سب معیشت کی بحالی اور توانائی بحران پرقابو پانے کی کوششوں کا حصہ ہیں‘ اس سب کے باوجود معیشت کی حالت اور عام شہری کو درپیش مشکلات ابھی مزید بہت کچھ کرنے کا تقاضا کرتی ہیں‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے اثاثے رکھنے اور کالا دھن بنانے والوں کو ہی فائدہ ہوگا جبکہ ملک کی معیشت میں ریونیو کے آنے سے بہتری ہوگی‘ خیبرپختونخوا کی بجلی نیشنل گرڈ میں آنا صوبے کی اکانومی کیلئے بہتر ہے‘ دیکھنا صرف یہ ہے کہ اقتصادی اعشاریے اور بڑے بڑے اقدامات عام شہری کی مشکلات کس طرح کم کرسکتے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر مہنگائی کے خلاف فوری لائحہ عمل بنانے کا کہہ رہے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدوں کی روشنی میں مزید ٹیکس لگنے اور بجلی گیس مہنگی ہونے پر گرانی کے طوفان میں شدت کا امکان ہے‘ یہ ساری صورتحال عام شہری کے ریلیف کیلئے مارکیٹ کنٹرول کی غرض سے صرف احکامات وہدایات کی بجائے ٹھوس حکمت عملی کی متقاضی ہے جس کیلئے مرکز اور صوبوں کو ون پوائنٹ ایجنڈے پر مل بیٹھ کر پلاننگ کرنا ہوگی۔

حکومت‘ ڈاکٹر تنازعہ

ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران پیش آنے والے واقعات قابل افسوس ہیں‘ ان واقعات میں گزشتہ روز صوبے کا اہم تدریسی ہسپتال میدان جنگ میں تبدیل ہوا‘ وزیر صحت اور ڈاکٹر نوشیروان بھی حملوں کی زد میں آئے جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالدین زخمی بھی ہوئے‘حکومت اور ڈاکٹروں کے اپنے اپنے موقف سامنے آرہے ہیں‘مختلف اداروں میں ہڑتالیں اور احتجاج ختم ہونے پر کیس واپس جبکہ مختلف آرڈر بھی منسوخ ہوتے رہے ہیں‘ غلط فہمیوں کے ازالے بھی ہوتے ہیں‘ اس بحث میں پڑے بغیر کہ کون درست اور کون غلط ہے‘ اصلاح احوال کے عمل میں صرف یہ پوائنٹ مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سارے عرصے میں تکلیف صرف ان غریب مریضوں کو ہو رہی ہے جو پرائیویٹ ہسپتال جاکر علاج نہیں کرواسکتے‘ حکومت اور ڈاکٹرز دونوں کو صرف ان مریضوں کا سوچ کر آگے بڑھنا ہوگا‘ہیلتھ کیئر کا پورا سیٹ اپ اور اربوں کا بجٹ اگر ان مریضوں کو ریلیف نہ دے سکے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔