43

سوالات کے جواب

 حساس طبیعت رکھنے والا ہر محب وطن پاکستانی کئی سوالات کے جوابات چاہتا ہے جو اسے نہیں مل رہے اس ملک کی نامی گرامی شخصیات کےخلاف سینکڑوں کی تعداد میں میگا کرپشن کیس چل رہے ہیں لیکن چیونٹی کی طرح رینگ رینگ کر ‘ حرکت تو بادی النظر میں تیز ہے لیکن رفتار نہایت ہی آہستہ‘یہی صورتحال اگر قائم رہی تو نئے جنرل الیکشن کی تاریخ سر پر آ جائے گی اور یہ مقدمات پھر بھی تصفیہ طلب رہیں گے ‘ ہوا میں معلق نظر یہ آ رہا ہے کہ وکلاءکی قانونی موشگافیاں ان مقدمات میں ملوث افراد کے کام آرہی ہیں کچھ دن پہلے تک تو حکومتی کارندے خوشی سے بغلیں بجا کر یہ کہا کرتے کہ کوئی دن جاتا ہے کہ بیرون ملک منتقل کیاگیا کالا دھن واپس قومی خزانے میں آ جائے گا لیکن آج کل یہ دعویٰ کرنےوالے خاموش دکھائی دے رہے ہیں لگتا یہ ہے کہ یہ کالا دھن اب شاید آسانی سے پاکستان منتقل نہ کیا جا سکے اگر کسی بھی فرد کے پاس اس کی معلوم آمدنی سے زیادہ دولت کا انبار پایا جائے تو سمجھ لیجئے کہ اس نے کوئی لمبا ہاتھ مارا ہے کوئی ڈنڈی ماری ہے دل ہی دل میں وہ افراد اپنی کتنی بے عزتی تصور کرتے ہوں گے۔

 جب انہیں آئے دن ہتھکڑیوں یا ہتھکڑیوں کے بغیر جیل سے عدالت اور پھر عدالت سے جیل لے جایا جاتا ہے کس کام کی وہ دولت جس کو کمانے کیلئے انسان ایسی حرکات کرے کہ وہ اس کیلئے خفت اور بدنامی اور رسوائی کاباعث بن جائے ؟ لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جو موٹی رقم کسی بھی کرپٹ فرد نے ہڑپ کی ہو اس کی پائی پائی اس سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کی جائے‘ چین میںتو اس قسم کےقومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے سر عام گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اورجو گولیاں ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں ان کی قیمت ایڈوانس میں ہی ان سے وصول کرلی جاتی ہے لیکن چین کی کیا بات؟ چین چین ہے اورپاکستان پاکستان‘کسی بھی پارلیمانی جمہوری نظام میںمجرموں کو اس طرح کیفر کردار تک پہنچایا نہیں جا سکتا کہ جس طرح چین میںپہنچایا جاتا ہے اپنے ہاں تواگر حکومت قومی خزانے کے لٹےروں سے کالادھن ریکو ر کرکے اسے قومی خزانے میں جمع کر دے تو یہ ہی بہت بڑی بات سمجھی جائے گی اگر جال میں پھنسے کرپٹ لوگ اپنا دامن کسی سیاسی مصلحت یاپیسے کے زور یا استغاثہ کی نا اہلی کی وجہ سے بچا گئے تو پھر یہی لوگ ٹیلی ویژن کے کیمرے کے سامنے آ کر اپنی انگلیوں سے وکٹری سائن بنا کر قوم سے یہ کہیں گے کہ دیکھو نا ہم نہ کہتے تھے کہ ہم بے گنا ہ ہیں‘ ہم کومحض سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

 اگر ہمارے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت تھاتووہ عدالتوںکے سامنے کیوں نہ لایاگیا؟ ماضی میں جس کسی نے بھی اس ملک کو مقروض بنایا ہے اس نے اس دھرتی کےساتھ ایک ظلم عظیم کیا ہے آج ہم 90 ارب ڈالر کے قرض دار ہیں‘ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان قرضوں کو اگرٹھیک طریقے سے خرچ کیا جاتا تو قومی آمدن میںاضافہ ہو سکتا تھا کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک بڑے عرصے سے ہم نے ڈیم نہیں بنائے ‘ آبی ‘شمسی اور ہوائی ذرائع سے بجلی حاصل کرنے پرر قوم خرچ نہیں کیں‘22 کروڑ کے اس ملک میں صرف20 لاکھ افرادایسے ہیں جوٹیکس دے رہے ہیں اور ان میں بھی آدھی تعداد تنخواہ دار افراد کی ہے کہ جن کی تنخواہ ملتی ہی کٹوتی کے بعد ہے پھر حکومت کو یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ آخر لوگ کیوں انکم ٹیکس نہیںدیتے کئی لوگوں کو ہم نے یہ کہتے سناکہ ہم ٹیکس کیوں دیں؟ حکومت نے ٹیکس دینے والوں کو کیا سہولتیں فراہم کی ہیں؟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔