36

شفاف احتساب

اس میں کسی کو شک نہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات تک پہنچنے کی بڑی وجہ وہ کرپشن ہے جو تین دہائیوں سے حکومت اور سیاست کے بااثر افراد کرتے رہے ہیں‘اسکے ساتھ ہی ہر دور میں احتساب کا عمل بھی جاری رہا مگر عام طورپر احتساب کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بناتے ہوئے اپنے مخالفین پر آزمایا گیا ‘اس وجہ سے ہی کرپشن سے لوٹی دولت واپس آئی نہ ہی کرپٹ لوگوں سے نجات مل سکی‘ اس پر مستزاد یہ ہوا کہ کرپٹ سیاستدان بھی پاک صاف ہو کر نکلے اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ بدعنوانی کرنے پر کسی کو خوف یا شرمندگی کا احساس ختم ہوگیا‘ موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے ہی چیئرمین نیب تبدیل ہوچکے تھے اور جسٹس جاوید اقبال کی اچھی شہرت اور نیک نامی کے باعث یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب بے لاگ احتساب ہوگا اور ملک میں کرپشن کا راستہ روکا جاسکے گا مگر حکومت تبدیل ہوتے ہی احتساب کا سارا نظام یک طرفہ ہوگیا‘سابق حکمرانوں کے خلاف نئے نئے ریفرنسز دائر ہونے لگے اور مختلف انکوائریاں کھلنے لگیں اگر یہ ریفرنس کسی انجام تک پہنچ جاتے اور کرپشن ثابت ہو جاتی تو پھر عوام بھی مطمئن ہوتے کہ احتساب درست سمت جارہاہے مگر اخبارات جن جرائم کی کہانیوں سے عبرت پیدا کرتے اور سیاستدانوں سے نفرت پیدا ہوتی عدالت میں جاکر ان غباروں سے ہوا نکل جاتی اور نیب کے پراسیکیوٹر فاضل ججز سے ڈانٹ کھا رہے ہوتے۔

 اس وقت سابق حکمرانوں پر جو کیس چل رہے ہیں یہ2017 سے جاری ہیں مگر ابھی تک کسی میں سزا نہیں ہو سکی‘ میاں نوازشریف کو ایک تکنیکی قسم کے الزام میں سزا ہوئی ایک سزا معطل ہوگئی جبکہ دوسری میں جیل میں ہیں‘ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری پر جو الزامات ہیں ان میں ابھی تک گرفتاری بھی نہیں ہو سکی جبکہ وزیراعظم کئی بار ان کو الٹا لٹکانے کا اعلان کرچکے ہیں‘ اب اس میں دو تاثر ہیں ایک تو یہ کہ نیب میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو سابق حکمرانوں کےساتھ تعلق کونبھا رہے ہیں اور جان بوجھ کر ایسے کیس بناتے ہیں جو عدالت میں ثابت نہیں ہوسکتے اور دوسرا تاثر یہ بھی ہے کہ یہ کیس سرے سے جھوٹے ہیں اور حکومت کے دباﺅ پر نیب کیس تو بنادیتا ہے مگر ان میں کوئی جان ہو تو آگے چلیں‘ یہ دونوں ہی تاثر احتساب کیلئے نقصان دہ ہیں اس بات کو ان عوامل سے بھی تقویت ملتی ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کے ان وزراءپر بھی کوئی انکوائری نہیں کھلتی جن کو کرپشن کے الزام پر کابینہ سے نکالا گیا ہے حال ہی میں وفاقی کابینہ سے نکالے گئے ایک وزیر کے بارے میں گزشتہ روز سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر مشاہد اللہ خان نے انکشافات کئے ماضی قریب میں خیبرپختونخوا میں ایک صوبائی وزیر کوکرپشن پر نکالا گیا تھا مگر اس کیخلاف بھی کوئی کیس بنا نہ ہی کچھ ثابت ہوا اور پشاور کی بی آر ٹی تو ایک ایسا مسلسل تازیانہ ہے جو تحریک انصاف کی سابق اور موجودہ صوبائی حکومت پر برس رہا ہے مگر اس پر کوئی انکوائری نہیں ہو رہی نہ ہی کسی کو اس نااہلی کا ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔

اسکے برعکس خیبرپختونخوا کے ایک حکومت مخالف سیاستدان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر کے بیٹے کوبھی ایک ایسے ہی مقدمے میں گرفتار کرلیاگیا جو دس سال پرانے ایک ٹھیکے میں مبینہ کرپشن پر قائم ہوا ‘وزیراعظم عمران خان کی نیت اچھی ہوگی اور وہ نیک نیتی کےساتھ احتساب کا عمل بڑھانا چاہتے ہونگے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ یہ تاثر ختم کریں کہ احتساب صرف حکومت کے مخالفین کا ہی ہو سکتا ہے ان کی حکومت میں جو غیر شفاف معاملہ سامنے آئے اس کو فوری نیب کے حوالے کرکے اپنے خلوص نیت کو ثابت کرنا چاہئے یا کم از کم جس وزیر کو خود اس وجہ سے نکالیں کہ اس نے کرپشن کی ہے اس کےخلاف مصلحت کا شکار ہونے کی بجائے اسے نیب کے سامنے پیش کریں تاکہ یہ اعتماد بحال ہو سکے کہ احتساب یکطرفہ اور امتیازی نہیں ہو رہا‘ ملک و قوم کیلئے وہی احتساب قابل قبول ہے جس میں شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رہے جہاں امتیازی سلوک اور انتقام کا شائبہ آجائے وہ احتساب اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔