79

ٹیکس ایمنسٹی:مقاصد و اہداف ؟

چودہ مئی: وزیر اعظم عمران خان کے زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری اور اسکا بذریعہ صدارتی آرڈیننس فوری نفاذ غیر معمولی اقدامات ہیں جن کا مبینہ بنیادی مقصد محصولات اکٹھا کرنا نہیں بلکہ بے نامی جائیدادوں کو قانون کے دائرے میں لےکر آنا ہے! تفصیلات کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے والے یا انکے زیرکفالت لوگوں کے علاوہ ہر پاکستانی تیس جون تک اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا یعنی کسی بھی اثاثے کی کل قیمت کا چار فیصد ٹیکس دےکر بلیک منی کو جائز کیا جاسکتا ہے‘ اگر کسی کے پاس دس ہزار امریکی ڈالر مالیت کی بلیک منی ہے اور وہ اس رقم کو دستاویزی کروانا چاہتا ہے تو اس کو اس رقم پر چار فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا اسکے علاوہ اس پر یہ شرط بھی عائد ہوگی کہ وہ اپنی رقم پاکستانی بینکوں میں رکھوائے لیکن اگر وہ شخص اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں نہیں رکھوانا چاہتا اور اپنی رقم بیرون ملک بینکوں میں ہی رکھنا چاہتا ہے تو وہ مزید دو فیصدٹیکس ادا کرےگا ‘سکیم کے تحت بے نامی جائیداد کی قےمت کا اندازہ ایف بی آر کے مقررہ کردہ نرخوں سے ڈیڑھ فیصد زیادہ لگایا جائے گا تاکہ اس جائیداد کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے قریب رہے‘مضحکہ خیز ہے کہ حسب سابق اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ایمنسٹی سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔

 تو اس کےخلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی مثالیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں کہ حسب آمدن ٹیکس ادا نہ کرنےوالوں کے اثاثے ضبط ہوئے ہوں! ٹیکس ادا نہ کرنےوالے عام لوگ نہیں ہوتے‘ اسی لئے ان سے خاص اور محتاط سلوک کیا جاتا ہے!پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی جانےوالی ایمنسٹی سکیم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں متعارف کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سابقہ سکیموں میں کالا دھن سفید کرنےوالوں کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جاتا تھا جبکہ موجودہ سکیم میں بطور خاص یہ لازمی کر دیا گیا ہے کہ ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروائے جائیں‘ گذشتہ سکیم میں ایسے افراد سے‘ کہ جنہوں نے اپنی دولت حسب قانون ظاہ کر دیئے ہوتے ہیں مگر کسی ملکی بینک میں جمع نہیں کروائے ہوتے تو ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی تھی جبکہ موجودہ سکیم میں لازم ہوگا کہ جو رقم بھی ظاہر کی جائے اس کو کسی ملکی بینک میں جمع کروائے اور اس پر ٹیکس بھی ادا کیا جائے۔

حسب سابق اس سکیم کے تحت مستفید ہونےوالے افراد کے کوائف کو ظاہر نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی سرکاری اہلکار ان کوائف کو سامنے لانے میں ملوث پایا گیا تو اسے ایک سال قید کےساتھ ساتھ دس لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔تحریک انصاف کی حکومت اس سکیم کو دو ماہ پہلے متعارف کروانا چاہتی تھی تاہم متعدد وزرا کی طرف سے اس کی مخالفت کی وجہ سے معاملہ مو¿خر کردیا گیا۔ نواز لیگ کے گذشتہ دور حکومت میں جب ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا گیا تھا تو عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت نے نہ صرف اس سکیم کی مخالفت کی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ جو لوگ اس سے مستفید ہوں گے تو تحریک انصاف کی حکومت آنے پر ان کےخلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائےگی‘بہرحال موجودہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور سابقہ دور کی ٹیکس ایمنسٹی میں کوئی خاص فرق دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں کا مقصد اس خاص طبقے کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ایسی حکمت عملیوں کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے یا جن کو ٹیکس دینے کی عادت نہیں وہ اس پوری صورتحال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں‘نواز لیگ کے دور میں شروع کی گئی ایمنسٹی سکیم کے تحت مجموعی طور پر 98ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے‘جن میں 36 ارب روپے بیرون ملک جائیدادوں کی مد سے جبکہ 61ارب روپے پاکستان میں موجود بے نامی جائیدادوں کو قانونی بنانے میں اکٹھے کئے گئے تھے تحریک انصاف یقینا اس سے زیادہ مالی وسائل جمع کرنے میں کامیابی کی امید لگائے بیٹھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔