65

قبائلی اضلاع کے حلقوں میں اضافہ

قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ ممبر بل پر آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے جسکے تحت سابق فاٹا کی قومی اسمبلی کی 12نشستوں کو بحال رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستیں 16 سے بڑھا کر24کر دی گئی ہیں‘بل کے تحت 18ماہ کے دوران الیکشن کروائے جائیں گے قومی اسمبلی سے منظور ی کے بعد 26واں آئینی بل سینٹ میں پیش کیا جائیگا‘سینٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے بل آئین کا حصہ بن جائیگا‘ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس جب سپیکر اسد قیصر کے زیر صدارت شروع ہوا توآزاد رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ جن کا بنیادی تعلق پشتون تحفظ موومنٹ سے ہے نے 26ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرنے کیلئے تحریک پیش کی‘ سپیکر نے تحریک پر رائے شماری کروائی‘ جس پر 288ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیاجبکہ تحریک کی مخالفت میں کسی رکن نے ووٹ نہیں دیا‘26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبائلی ضلع باجوڑ کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ضلع باجوڑ کو قومی اسمبلی کی مزید ایک نشست کا فائدہ ہوگا جبکہ ضلع کرم کو قومی اسمبلی کی ایک نشست سے محروم ہونا پڑے گا۔ صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں باجوڑ‘ خیبر‘ کرم‘شمالی وزیرستان‘ جنوبی وزیرستان اور ایف آرز کو زیادہ نشستیں ملیں گی باجوڑ سے قومی اسمبلی کی نشستیں 2سے بڑھ کر 3اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستیں 3سے بڑھ کر5ہوجائینگی جبکہ اورکزئی کو ترمیم کے باوجود فائدہ حاصل نہیںہوگا اور ماضی کی طرح اورکزئی کے حصہ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست آ سکی ہے‘۔

ضلع کرم کی قومی اسمبلی کی نشستیں2سے کم ہو کر ایک ہو جائے گی جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں 2سے بڑھ کر 3 ہونگی جبکہ ایف آرز کے علاقوںمیں ایک نشست کا اضافہ ہوگا اور ایف آرز کے علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی 2 نشستیں ہونگی‘ سینٹ سے منظوری کے بعد قبائلی اضلاع میں دوبارہ حلقہ بندیاں کی جائےں گی اور ہر ضلع کی مجموعی آبادی کو نشستوں پر تقسیم کیا جائے گا الیکشن کمیشن فارمولے کے مطابق نئی حلقہ بندیوں میں باجوڑ سے قومی اسمبلی کی نشستیں2سے بڑھ کر 3اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں3سے بڑھ کر5ہو جائینگی‘ ضلع مہمند میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی 2نشستیں برقرار رہیں گی‘ ضلع خیبر میں قومی اسمبلی کی دونشستیں برقرار رہیں گی جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں3سے بڑھ کر5ہو جائینگی۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ضلع اورکزئی میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست برقرار رہے گی۔ ضلع کرم میں قومی اسمبلی کی نشستیں دوسے کم ہو کر ایک ہو جائے گی اورتاہم ضلع کرم سے صوبائی اسمبلی کی نشستیں 2سے تین ہو جائینگی۔

 الیکشن کمیشن فارمولے کے مطابق شمالی وزیرستان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست برقرار رہے گی جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ہوگا اور2کی بجائے3نشستیں ہونگی ‘جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کی سابقہ2نشستیں برقرار رہیں گی تاہم جنوبی وزیرستان سے صوبائی اسمبلی کی نشستیں دو سے بڑھ کر تےن ہوجائینگی حیران کن امر یہ ہے کہ ایک جانب قبائلی اضلاع کی صوبائی نشستوں میں اضافے کا بل قومی اسمبلی سے پاس ہوکر سینٹ سے منظوری کے مراحل طے کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب الیکشن کمیشن نہ صرف ان اضلاع میں الیکشن کے شیڈول کااعلان کر کے کاغذات نامزدگی تک وصول کر چکاہے بلکہ قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات کیلئے ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کیخلاف اپیل دائر کرنے کیلئے اپیلٹ ٹریبونل بھی قائم کر دیئے گئے ہےں‘اس پس منظر میں دیکھنا یہ ہے کہ آیا موجودہ الیکشن کاعمل طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہتاہے یا پھر نئی آئینی ترمیم کے بعد یہ ساراعمل بھی تعطل کا شکارہوجائے گااور الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کے بعدنیا شیڈول دینا ہوگا‘اس حوالے سے فی الحال نہ صرف سیاسی جماعتیں خاموش ہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے بھی چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔