294

روپے کی قدر ‘ ایک چیلنج

معیشت میں بہتری کے حوالے سے تمام اقدامات اور اعلانات کیساتھ پیش کردہ اقتصادی اعشاریوں کے باوجود ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا مستحکم نہ رہنا اب چیلنج کی حیثیت اختیار کرتا چلا جارہا ہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز ڈالر دن بھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہا جبکہ شام کو صورتحال تبدیل ہوئی اس روز ڈالر کی قیمت فروخت 146روپے 25پیسے رہی‘ اوپن مارکیٹ میں یہ شرح 144روپے رہی‘ اس سب کیساتھ ڈالر کی خرید وفروخت میں انٹربینک ریٹس مستحکم ہی رہے اور ان میں کوئی فرق ریکارڈ نہیں ہوا‘روپے کی قدر اچانک گرنے پر وزیراعظم نے فوری طورپر خصوصی اجلاس بلایا‘ رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے طے شدہ کرنسی ریٹس سے انحراف کرنےوالی کمپنیوں کےخلاف کاروائی کا حکم دیا‘ ڈالر کی اچانک اڑان سے متعلق یہ بھی کہاجارہا ہے کہ یہ ایکس چینج ریٹ فری کئے جانے کا نتیجہ ہے‘ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے میں یہ بات شامل ہونے کی خبروں کے نتیجے میں لوگوں نے ڈالر کی خریداری بڑے پیمانے پر شروع کردی‘ وطن عزیز کی معیشت کو پہلے ہی بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے‘ کھربوں روپے کے بیرونی اور اندرون ملک گردشی قرضوں کے نتیجے میں صورتحال تشویشناک صورت اختیار کرچکی ہے‘ سرکاری دفاتر میں بدانتظامی الگ سے اصلاح احوال کیلئے کنکریٹ اقدامات کی متقاضی ہے۔

 اس ساری صورتحال میں حکومت نے آئی ایم ایف سے بیل آﺅٹ پیکےج لینے کیساتھ سٹیٹ بینک کے اختیارات سے متعلق بھی اہم فیصلے کئے ہیں‘ حکومت کو جہاں بجٹ خسارہ کم کرنا ہے وہیں ایف اے ٹی ایف میں بھی اپنے موقف کی جنگ لڑنی ہے جس کیلئے چین میں ہونیوالے مذاکرات میں بھارتی اعتراضات کا بھرپور جواب دیا گیا ہے‘ اندرون ملک فنانشل ڈسپلن درست کرنا ہے تو سرکاری محکموں میں اصلاحات کیلئے بہت سارے اقدامات اٹھانے ہیں‘ ایسے میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھنا ایک اہم ٹاسک ہے جس کیلئے ایک بااختیار اوور سائٹ باڈی کا قیام ناگزیر ہے‘ ڈالر کی قدر میں اضافے کی اطلاعات اور پھر اسے روکنے تک کے اقدامات کے درمیان کا وقفہ بھی روکنا ضروری ہے‘ اس سب کیلئے علیحدہ بجٹ اور وسائل کی ضرورت نہیں‘ صرف صورحال کا تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لینا اور بروقت اقدام اٹھانا ضروری ہے جسے آج کل گڈ گورننس کا نام دیاجاتا ہے‘ اس ساری ایکسرسائز کیلئے انتہائی مہارت کے حامل افراد کا انتخاب ضروری ہے۔

فائلوں سے ہٹ کر اقدامات

صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گزشتہ چند روز سے ہونیوالی کاروائیوں میں ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی کے ذمہ دار افراد کے خلاف ایکشن سامنے آرہا ہے‘ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ روز ایک کولڈ سٹوریج سے 9ہزار کلو لیموں برآمد کیا ‘ اس سے پہلے بھی مضر صحت گوشت اور مرغیاں مارکیٹ لے جانے کی کوششیں ناکام بنائی جاچکی ہیں‘ یہ سب صرف اس صورت ممکن ہوا ہے جب انتظامیہ کے ذمہ دار اداروں نے دفاتر سے باہر نکل کر صورتحال کا خود جائزہ لیا گوکہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے تاہم اب تک کے نتائج اس بات کے متقاضی ہیں کہ فائلوں میں سب اچھا کی رپورٹس پر انحصار مکمل طور پر ختم کردیاجائے اور آن سپاٹ رپورٹ کی کاپیاں اعلیٰ حکام کو روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی جائیں۔