115

بار سلونا

 اسلام آباد سے آٹھ گھنٹے کی فلائٹ کے بعد بارسلونا ہمیں خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہے یہاں بارسلونا ائیر پورٹ پر سیاحوں کی کثیر تعداد دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے‘ امیگریشن والے خوش اخلاق ہیں‘ سیاحوں کو سہولتیں دینے والا عملہ چاک و چوبند ہے ‘اتنا کہ حیرانگی ہو رہی ہے‘ مجھے لگا کہ امریکہ کے کسی ائیرپورٹ کی طرح مجھے جوتے اور جیکٹ اتارنا پڑے گا لیکن انہوں نے میرے پاسپورٹ پر سب مسافروں کے ساتھ ہی ایسی مہر لگائی کہ آنکھ اٹھا کر اوپر بھی نہیں دیکھا‘خوشی ہوئی‘ پہلا تاثر سپین کے بارے میں خوش کن ہے‘ بارسلونا میں گرمی ہے ائیر پورٹ سے باہر نکلنے تک شام ہو چکی ہے ٹورازم کی کمپنی کی حسین و جمیل بس ہمارے گروپ کو لینے کے لئے تیار کھڑی ہے اور ہماری انگریزی بولنے والی گائیڈ ” استیرا “ بھی ہماری ر اہ دیکھ رہی ہے‘ اس نے بڑھ کر ہم سب کو ویلکم کیا اور ہم اپنے 20کلو کے بکسے کو سنبھالتے ہوئے بس کی طرف بڑھ رہے ہیں یورپ کے ہر مسافر کو اگر چہ 30کلو تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ سیر و تفریح کے لئے انسان کو ہمیشہ کم سے کم سامان اپنے ساتھ رکھنا چاہئے ورنہ سامان کے ساتھ راستے کی دشواریاں برداشت کرنا پڑتی ہیں خصوصاً خواتین ‘کیوں کہ 20/30 کلو وزن بار بار اٹھانا اور رکھنا آسان نہیں ہوتا ہے۔

 بارسلونا کی وسیع و عریض بلڈنگز اور سڑکیں دیکھ کر مجھے بار بار امریکہ میں ہونے کا احساس ہو رہا ہے جب بس شہر کے اندر داخل ہوئی تو سڑکیں کبھی ڈھلوان کی صورت اختیار کر جاتیں اور کبھی چڑھائی بن جاتیں ‘تین تین چار چار کلومیٹر لمبی اور کشادہ سرنگوں پر مشتمل شاہراہیں سڑکوں کو آپس میں ملا رہی ہیں‘ سپین تو مجھے متاثر کررہا ہے جو حیرت انگیز بات میں نے اولین طور پر محسوس کی مجھے کوئی علیحدہ سے گھر نظر نہیں آرہا ہے‘ سب اپارٹمنٹ بلڈنگز ہیں جو طویل قطاروں کی صورت میں سڑکوں کے دونوں طرف بنی ہوئی ہیں چونکہ اس وقت شام ہو چکی ہے اس لئے گاڑیاں قطار در قطار سڑکوں کے دونوں طرف حسین نظم و ضبط کے ساتھ پارک کی گئی ہیں‘ پارکنگ کا یہ نظام پورے مغرب میں رائج ہے لیکن کینیڈا اور امریکہ میں زمین دوز پارکنگ کے لئے اعلیٰ ترین انتظامات بھی موجود ہوتے ہیں‘ ہوٹل کیٹلونیا پارک پوٹیکسٹ ہماری پہلی منزل ٹھہرا ‘دو دو افراد کے لئے ایک ایک کمرہ مختص ہے ‘میری ہمرائی ڈاکٹر ہے کمرہ چھوٹا ہے لیکن سہولتیں تمام موجود ہیں کمرے کے ساتھ چھوٹی سی آرٹسٹکٹ سی گیلری ہے جوڈاکٹر صاحبہ کو بہت پسند آئی‘انہوں نے تازہ ہوا کے لئے ساری رات گیلری کا دروازہ کھلا رکھا اگر چہ اے سی بھی آن ہے‘ بار سلونا کا دوسرا نام کیٹیلونیا بھی ہے اور اسی نام کی ان کی اپنی قدیم زبان بھی ہے جو سپین کے بزرگ لوگ آج بھی بولتے ہیں‘ ورنہ سارے سپین میں سپینش زبان بولی جاتی ہے‘ سپینش زبان انگریزی سے قریب ترین ہے‘ میں راستے بھر کمرشل ایریاز میں سائن بورڈز پڑھتی گئی ہوں Informationia, Farmacya, Bankia مجھے لگا انگریزی کے ہر لفظ کے ساتھ (I,a)آئی اے لگا دیں تو سپینش زبان بنی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہے ہر زبان کے حروف تہجی ضابطے اور اصول ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ سپینش زبان انگریزی زبان کے قریب ہے جبکہ گائیڈ اور ڈرائیور آپس میں جب اپنی زبان میں بات کررہے ہیں۔

 تو مجھے ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آرہی ہے لیکن بہت دنوں کے بعد ہم سیکھ گئے کہ ہیلو کہنے کے لئے اولیٰ Ola کہتے ہیں اور ہم سب گروپ ممبرز اپنی یہ سپینشن دانی ڈرائیور کو Ola کہہ کر ہر بار ضرور آزماتے تھے سفری منصوبہ بندی کے مطابق بار سلونا میں ہم نے جن مشہور جگہوں کو دیکھنا ہے ان میں عالمی طور پر مانی جانے والی یونیسکو کی طرف سے قومی ورثہ قرار دیئے جانے والی جگہیں شامل ہیں بارسلونا ایکوریم ‘ سگراڈانیلمیا ‘فٹ بال کلب سٹیڈیم اینڈ میوزم‘ پارک گوئیل ‘ بارسلونا پورٹ ‘ کیبل کال ‘میڈیٹرنینین سمندر ‘لارمبلا سٹریٹ‘ میجک فاﺅنٹین ‘ اولمپک سٹےڈیم ‘ قلعہ منجیق ‘پورٹ وینچرا پارک ‘مائرو میوزےم ‘ پکاسو میوزےم وغیرہ شامل ہیں ان میں ہر ایک جگہ کے دیکھنے کا ٹکٹ ہے ‘سپین میں سیاحت کی صنعت عروج پر ہے اور ان مشہور زمانہ جگہوں کو دیکھنے دن میں ہزاروں لاکھوں سیاح آتے ہیں‘ اس لئے ٹکٹ بہت پہلے سے لے لئے جاتے ہیں اور ہر گروپ کے وقت کا تعین بہت پہلے سے کر دیا جاتا ہے ورنہ سیاحوں کو ایک ایک جگہ دیکھنے کے لئے گھنٹوں ٹکٹ کا انتظار کرنا پڑتا ہے‘ استیرا ہماری گائیڈ اجلے کپڑوں کے ساتھ بس میں لگے ہوئے مائیکرو فون پر بارسلونا کی سڑکوں اور عمارتوں کے بارے میں بتا رہی ہے یہاں کی ہر بلڈنگ خوبصورت بالکونیوں سے سجی ہوئی اپنی شان و شوکت دکھا رہی ہے ‘سپین باقی یورپی ممالک سے تھوڑا پیچھے سہی لیکن کسی طرح بھی خوبصورت اور ترقی یافتہ ملکوں سے پیچھے نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔