240

ڈالر کی اڑان

وطن عزیز میں تادم تحریر امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ نوٹ ہو رہا ہے‘ ڈالر اوپن کیساتھ انٹر بینک مارکیٹ میں بھی مہنگا ہوتا جارہاہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ڈالر کی قدر بڑھنے کیساتھ ملک کے ذمے بیرونی قرضوں کا والیوم بھی بڑھتا چلا جارہا ہے‘ ریونیو کے وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے کا ذمہ دار بینک دولت پاکستان ہے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے گزشہ روز روپے کی قدر میں کمی کا نہیں بلکہ کرنسی سمگلنگ کا نوٹس لیا ہے‘ سابق وزیر خزانہ اسد عمر ڈالر کی قیمت بڑھنے کو آئی ایم ایف کےساتھ معاہدے کا نتیجہ قرار دیئے جانے کی تردید کرتے ہیں‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ڈالر مہنگا ہونے کو امریکہ چین تنازعے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں‘ خزانہ کیلئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘ اس سارے منظرنامے میں ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ہے جبکہ مہنگائی کا نیا طوفان بھی آسکتا ہے‘ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی مہنگائی ہے کہ جس کے نتیجے میں غریب کیلئے زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے‘ صرف مہنگائی ہی نہیں بنیادی شہری سہولتوں کا فقدان بھی مسئلہ ہے‘ تعلیم اور علاج کیلئے سرکاری شعبے کا معیار سوالیہ نشان ہے ‘درپیش حالات اور توانائی بحران کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو بھی ضرورت کے مطابق قرار نہیں دیاجاسکتا ‘بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے‘ ایسے میں حکومت کے ذمہ دار اگر معیشت کو بہتر بنانے کیلئے جدوجہد کا عزم دہراتے رہتے بھی ہیں تو ضرورت اس کیساتھ عوام کو درپیش مسائل کے حل پر بھی مساوی توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔

 مارکیٹ کنٹرول ہو یا سرکاری اداروں میں خدمات کی فراہمی‘ اس کیلئے اضافی فنڈز اور بیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں‘یہ سب صرف محکمانہ ڈسپلن بہتر بنانے سے ہی ممکن ہے‘ اس ڈسپلن کیلئے محکمانہ اصلاحات کی ضرورت کیساتھ کڑی نگرانی کے ایسے فول پروف نظام کی ضرورت بھی ہے کہ جس میں حکومت کے اعلانات واقدامات کو عملی شکل دی جائے‘ جہاں تک معیشت کی بحالی اور ڈالر کی قدر جیسے چیلنجوں کا تعلق ہے تو ان کیلئے دیگر کوششوں کیساتھ سیاسی قیادت کو ایک پوائنٹ پر مل بیٹھ کر ٹھوس حکمت عملی بھی ترتیب دینا ہوگی تاکہ سیاسی استحکام بھی آئے جو مضبوط معیشت کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے میں معاون ہوگا۔

پنشن ودیگر واجبات کی ادائیگی؟

پشاور ہائی کورٹ کے بینچ نے سرکاری ملازم کی وفات کے 10سال بعد بیوہ کو پنشن کی ادائیگی کا حکم دیا ہے جو عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئی‘ سرکاری ملازمین کے میڈیکل ‘ جی پی فنڈ ہو یا پنشن اور دیگر واجبات‘ ان کی ادائیگی کیلئے ٹائم فریم کی پابندی ضروری ہے‘ جدید سافٹ ویئرز آجانے کے بعد ان امور میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے‘ اس مقصد کیلئے ون ونڈو آپریشن کو صحیح معنوں میں آپریشنل رکھنے کیساتھ سرکاری محکموں کے متعلقہ عملے کی ایسی تربیت ضروری ہے کہ وہ تمام کیسز بالکل درست انداز میں تیار کرسکیں تاکہ ان پر اعتراضات کی شرح کم ہو‘ اس مقصد کیلئے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ بھی ناگزیر ہے جبکہ خطوط کی آمدورفت کو بھی تیز کرنے کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔