110

ڈاکٹروں کے روئیے

شریف میرے بڑے قریبی اور بچپن کے دوست ہیں‘ ان کے گھر آنا جانا رہتا ہے۔ گزشتہ ماہ ان کے گھر گیا تو ان کی امّی نے بیماری کی شکاےت کی۔ میں نے ان سے کہا کہ کیوں نہ ڈاکٹر سلمان کو دکھادیں۔ یہ کہنا تھا کہ شریف کی امّی نے ہاتھ اٹھا لئے۔ کہنے لگیں کہ وہ کسی حکیم کے پاس چلی جائیں گی لیکن ڈاکٹر سلمان کے پاس نہیں جائیں گی‘ ڈاکٹر سلمان نہ صرف میرے بچپن کے ساتھی اور کلاس فیلوہیں بلکہ شریف سے بھی اچھا بھلا تعلق ہے۔ مجھے تھوڑا سا اندازہ تو تھا ہی کہ ڈاکٹر صاحب اپنے مریضوں کےساتھ نہاےت کرخت لہجے میں بات کرتے ہیں لیکن یہ خیال کبھی دل میں نہیں آیا کہ وہ جاننے والوں سے بھی یہی سلوک کریں گے‘ اس بات کو خطرے کی گھنٹی سمجھ کر میں ایک دن سلمان کے پاس اکیلے میں گیا اور ان سے درخواست کی کہ اپنے لہجے کو تھوڑا سا دھیما کرلیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ مریض ایک نہاےت ہی قابل اور اپنے شعبے کے بہترین سپیشلسٹ کے پاس صرف اسکی تلخ باتوں کی وجہ سے جانا چھوڑ دیں۔ جب ہم میڈیکل سٹوڈنٹ ہوا کرتے تھے تو صوبے میں چند ہی سپیشلسٹ ہوا کرتے تھے۔ میڈیکل کالج کے پروفیسروں کی بڑی عزت تھی اور ہم تو ان کے رعب کے باعث ان کو سر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتے تھے‘ ہمارے ان اساتذہ میں سے اکثر ایسے شفیق و مہربان ہوا کرتے تھے کہ وہ نہ صرف اپنے طلبہ و طالبات کےساتھ عزت اور محبت سے پیش آتے تھے بلکہ مریضوں کو بھی انتہائی انہماک سے دیکھتے تھے‘ ان کی غیر متعلقہ کہانیا ں بھی تحمل سے سن لیتے تھے۔

 فیس کی بھی کوئی ایسی بات نہیں ہوتی تھی کہ پرائیویٹ کلینک میں بھی مفت معائنہ کرلیتے تھے۔ یہی اساتذہ تھے جنہوں نے ہماری تربیت کی اور آج الحمدللہ ہمیں بھی مریض دعائیں دیتے ہیں‘ تاہم اس زمانے میں بھی چند ایک پروفیسر تند خو مشہور تھے‘انکی قابلیت میں شک نہیں تھا لیکن مریض ہمیشہ دھڑکتے دل کےساتھ ان کے کمرے میں داخل ہوتے تھے۔ نہ ہی کسی مریض کو خود سے بات کرنے کی اجازت تھی بلکہ کئی مریضوں کو ان ڈاکٹروں کے اسسٹنٹ باہر ہی پوری طرح سمجھاتے کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف منہ کرکے سانس بھی نہیں لینا۔ تاہم وہ وقت الگ تھا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پورے صوبے میں ایک ہی پلاسٹک سرجن تھا اور آج خدا کے فضل سے صرف پشاور میں بیس پلاسٹک سرجن مریضوں کی دن رات خد مت کررہے ہیں‘ اس وقت اگر میں کسی مریض کے ساتھ درشت لہجے میں بات کروں تو وہ میرانسخہ میرے منہ پر مار کر دوسرے پلاسٹک سرجن سے مشورہ لے سکتا ہے۔ نہ کسی ڈاکٹر پر رش ہونے کی وجہ سے انکو اپنا لہجہ کرخت کرنا چاہئے۔ یہ الگ بات ہے کہ رش کی وجہ سے مریض کو کم وقت ملتا ہے۔ تاہم اسکے کئی مناسب حل موجود ہیں۔ ہر ڈاکٹر اپنی سہولت کیلئے مختلف طریقے اختیار کرسکتا ہے ‘مثلاً اپنے جونیئر ڈاکٹروں سے ضروری معلومات کا اندراج کرواسکتا ہے۔ دواﺅں کے چیک اپ اور طریقہ استعمال سکھانے کیلئے ایک اور اسسٹنٹ کو تربیت دے سکتا ہے‘ کاغذات کی ترتیب کسی اور کے حوالے کرسکتا ہے‘ سرجنوں اور خصوصاً ہڈیوں کے ماہروں کا کافی وقت مریضوں کو سٹریچر پر اندر لانے‘انکی پٹی ہٹانے اور دوبارہ پٹی کرنے میں لگ جاتا ہے ۔

 اس مسئلے کو یوں حل کیا جاسکتا ہے کہ دو تین کیبن بناکر ان کو پہلے سے وہاں لٹایا جائے نرس سے ان کی پٹی ہٹائی جائے اورمعائنے کے بعد دوبارہ پٹی کی جائے۔ ڈاکٹر کا اپنا رویہ درست بھی ہو تو اسسٹنٹ اور نرسوں کے رویے پر بھی وقت صرف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کسی بھی شعبے میں پبلک ڈیلنگ کی تربیت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ ہر اس شعبے میں جس میں عوام سے رابطہ رہتا ہے‘ وہاں اس مشق کی کافی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ وہ پولیس چوکی پر فائز پولیس کا سپاہی ہو یا سرکاری دفتر کے گیٹ پر چوکیدار‘ٹیلیفون آپریٹر ہو یا ریسےپشن پر بیٹھی سیکرٹری۔ ان کو نہ صرف عموماً خوش اخلاقی کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ان کو ناراض اور غصے سے بھرے ہوئے عوام کو بھی تحمل سے برداشت کرنے کی تربیت درکار ہوتی ہے‘ہمارے جیسے پرتشدد معاشرے میں اسکی ضرورت کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ کئی بار غصے سے گولیاں چل جاتی ہیں‘جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اور پھر خاندانی دشمنیاں صدیوں چلتی رہتی ہیں۔ بات ڈاکٹروں سے شروع ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کے سامنے پہلے ہی سے اپنی جان سے تنگ آئے ہوئے مریض ہوتے ہیں‘ ان کے عزیز و اقارب ہوتے ہیں جو اپنے مریض کی بیماری کو کافی عرصے سے برداشت کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں‘ اکثران پڑھ ہوتے ہیں۔

 معذور ہوتے ہیں‘ ان میں سے کئی بڑھاپے کی وجہ سے اونچا سنتے ہیں‘ زبان سے ناواقفیت ہوتی ہے‘ کئی بار ان کو سوال سمجھ نہیں آتے‘ خواتین ہوتی ہیں جو پہلی مرتبہ کسی پرائے مرد سے بات کررہی ہوتی ہیں‘ اوپر سے انکی ساس یا ماں ان کوبات نہیں کرنے دیتیں‘ بچے ہوتے ہیں جو روتے ہی چلے جاتے ہیں‘کئی مائیں ایک بچے کو مریض کے طور پر لاتی ہیں تو ساتھ تین چھوٹے بچے ویسے ہی چلے آتے ہیں کہ گھر پر کوئی خیال رکھنے والا نہیں ہوتا‘مریض بچے کا معائنہ کرتے وقت دوسرے بچوں کی شرارتوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے‘یہ سارے کھڑاگ دیکھ کر کئی بار تو مےرا بھی سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جانے کو دل کرتا ہے لیکن اب سر اوکھلی میں دے ہی دیا ہے تو دھماکے تو برداشت کرنے ہی پڑتے ہیں‘اسلئے ڈاکٹر کا دل بہت بڑا ہونا چاہئے اگر اسے ایک ایک بات تین دفعہ دہر انی بھی پڑے تو صبر کرنا پڑتا ہے‘بقول شاعر

اس راستے میں جی کے زیاں کی خبر نہ تھی
کچھ لوگ آرہے تھے سو ہم ساتھ ہولئے

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ڈاکٹروں کے مقابلے میں نیم حکیم‘ ڈبہ پیر اور جعلی عامل کیوں کامیاب رہتے ہیں‘ وجہ صرف انکی زبان کی حلاوت ہوتی ہے‘ وہ سادہ لوح عوام کے دل کو نرمی اور شیریں زبانی سے موہ لیتے ہیں‘ اسی لئے ان پر نہ صرف رش ہوتا ہے بلکہ ان کے کاروبار کی کامیابی کا ثبوت وہ مہنگے مہنگے اشتہارات ہیں جو پرنٹ مےڈےا میں آتے ہیں یا ٹی وی چینلوں پر گھنٹوں کے حساب سے چلتے رہتے ہیں۔ آپ نے کبھی کسی اچھے اور ماہر ڈاکٹر کے اشتہارات اخبارات میں یا ٹی وی پر دیکھے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔